Breaking News
Home / خبریں / پاکستان / ٹرمپ اوچھے ہتھکنڈوں پر،پاکستانی امداد روکے جانے کا امکان
ٹرمپ اوچھے ہتھکنڈوں پر،پاکستانی امداد روکے جانے کا امکان

ٹرمپ اوچھے ہتھکنڈوں پر،پاکستانی امداد روکے جانے کا امکان

امریکانے اپنے جنگی جنون میں پہلے عراق، پھر افغانستان کی جنگوں میں سیکڑوں ارب ڈالر جھونکے مگر پاکستان کو16 سال میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دیئے جانے والے 33ارب ڈالرز امریکی صدر ٹرمپ کو کھٹکنے لگے۔

امریکی اخبار کا دعویٰ ہے کہ امریکا پاکستان کی مزید امداد بند کرنے کا فیصلہ کر سکتاہے، لیکن ڈونلڈ ٹرمپ بھول گئے کہ 42 فیصد امداد تو پاکستان کو محض اس کے ہونے والے اخراجات کی مد میں دی گئی۔

نائن الیون کے بعد پاکستان امریکا کا فرنٹ لائن اتحادی رہا،دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کو اربوں ڈالرز کے نقصانات اٹھائے،بم دھماکوں اور دہشت گردی کے واقعات میں شہدا کی قربانیوں کی داستانیں رقم ہوئیں،مگر امریکی صدر ٹرمپ کو یاد ہیں تو صرف33 ارب ڈالرز جو بطور امداد پاکستان کو دیئے گئے ۔

نائن الیون کے بعد امریکا نے افغانستان میں جس جنگ کا آغاز کیا اس کو ختم نہ کرسکااور اس دلدل میں دھنستا چلا گیا،امریکی سینیٹر آف اسٹریٹجک اسٹڈیز کے مطابق 16 سال میں افغان جنگ پر 8 سو 41 ارب ڈالرز کے اخراجات آئے۔

امریکا کی برائون یونیوسٹی کے کاسٹ آف وار پرو جیکٹ کے مطابق یہ اخراجات 2 کھرب ڈالرز ہیں،دوسری جانب امریکی اداروں کی رپورٹ کے مطابق 2001ء سے 2017ء کے دوران پاکستان کوصرف اور صرف 33 ارب 92 کروڑ ڈالرز کی امداد دی، جس میں ساڑھے 14 ارب سے زائد اتحادی سپورٹ فنڈ کی مد میں دیئے گئے ،جو پاکستان کی سڑکوں ائیر پورٹس اور انفراسٹرکچر کے اخراجات کی مد میں ادا کئے گئے۔

امریکی رپورٹ کے مطابق پاکستان کو ملنے والی امداد میں 8 ارب 29 کروڑ ڈالرز سیکیورٹی کے شعبوں میں دیئے گئے جبکہ 11 ارب ڈالرز سے زائد مہاجرین کی آباد کاری،بچوں کی صحت اور انسداد منشیات سمیت مختلف معاشی شعبوں کے لئے دیئے گئے ۔

رپورٹ کے مطابق 2018 میں امریکا کی جانب سے پاکستان کو ساڑھے 34 کروڑ ڈالرز دیئے جانے ہیں،جن میں سے 21 کروڑ ڈالرز معاشی شعبے کے لئے ہیں۔

امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کے مطابق مایوسی کا شکار امریکا پاکستان کی ساڑھے 25 کروڑ ڈالرز کی امداد روک کر اس کی ادائیگی دہشت گردوں کے خلاف کارروائی سے مشروط کر سکتا ہے۔

About Editor

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*