Breaking News
Home / خبریں / پاک انڈیا / بھارت میں وزیراعظم مودی سمیت 1581ارکان پارلیمنٹ پر سنگین مقدمات
بھارت میں وزیراعظم مودی سمیت 1581ارکان پارلیمنٹ پر سنگین مقدمات

بھارت میں وزیراعظم مودی سمیت 1581ارکان پارلیمنٹ پر سنگین مقدمات

کراچی(رپورٹ:رفیق مانگٹ)پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی پاناما پیپرز کیس میں اعلیٰ عدلیہ کی طرف سے نااہلی جیسا واقعہ بھارت کی ماضی کی تاریخ بھگت چکی،جب جون 1975 ء میں ایک طاقتور وزیر اعظم اندرا گاندھی کو عدالت نے نااہل قرار دے دیا تھا۔دوسری طرف بھارتی قانون میں کسی بھی سیاستدان کی نااہلی صرف چھ سال کے لئے ہے تاحیات نہیں،یعنی کوئی بھی سیاستدان دو یا دوسال سے زائد سزا ہونے کی صورت میں سزا کی مدت پوری ہونے یا جیل سے رہائی کے چھ سال بعدوہ دوبارہ الیکشن لڑسکتا ہے۔ بھارتی الیکشن کمیشن کے پاس اختیار ہے کہ وہ کسی رکن کی نااہلیت کی مدت کو ختم یا کم کرسکتا ہے۔بھارت میں اس وقت سیکڑوں رکن پارلیمنٹ ہیں جن پر سنگین مقدمات ہیں انہیں جیلوں میں بھی بھیجا گیا اور آج کل وہ ضمانت پر ہیں،جن میں لالو پرشاد،امیت شاہ،اویسی اور کئی دیگر کے نام ہیں۔ گزشتہ تین سال سے بھارت کے 1581ارکان پارلیمنٹ کے خلاف قتل،کرپشن ،بدعنوانی جیسے سنگین مقدمات ہیں تاہم وہ اسمبلیوں اور اپنے عہدوں پر موجو د ہیں،حتی کہ وزیر اعظم مودی کے خلاف سنگین مقدمات درج ہیں۔ مودی حکومت میں31فی صد وزرا کے خلاف مجرمانہ مقدمات درج ہیں۔نریندر مودی کی کابینہ کے 78 یونین وزراء میں24ورزا کے خلاف سنگین نوعیت کے مقدمات درج ہیں۔یہاں تک کہ بھارت کی ریاستی اسمبلیوں میں بھی وزرا کی بھاری تعداد کے خلاف مجرمانہ مقدمات ہیں، مجموعی طور پر620ریاستی وزرا میں سے201وزرا کے خلاف مختلف تھانو ںمیں مقدمات درج ہیں۔سات وزرا کے خلاف قتل اور چھ وزرا کے خلاف تشدد سے متعلق مقدمات ہیں۔ لوک سبھا کے ارکان کی تعداد542ہے جن میں112کے خلاف اغوا،قتل، خواتین کے خلاف جرائم جیسے مقدمات درج ہیں۔ نواز شریف کی نااہلی کے بعد امریکی آن لائن اخبار International Business Times نے لکھا کہ نواز شریف کی نااہلی کا لمحہ پاکستان کی نا زک جمہوری تاریخ میں اہم موڑ لے کر آیا ہے اور دیکھا جارہا ہے کہ اب جمہوریت کس رخ جاتی ہے۔ پاکستانی جمہوریت کو ایک بالغ نظام کی طرف جانا چاہیے جہاں سیاسی طبقہ بہتر فیصلہ کرے مگر پاکستان میں جمہوریت افراتفری اورختم ہونے کی طرف جا رہی ہے۔نواز شریف کی نااہلی جیسا واقعہ بھارت کی ماضی کی تاریخ بھگت چکی ہے،جب جون 1975 ء میں ایک طاقتور وزیر اعظم اندرا گاندھی کو عدالت نے نااہل قرار دے دیا تھا۔ 42سال قبل 1971ء کے لوک سبھا انتخابات میں رائے بریلی کے حلقہ سے اندرا گاندھی نے راج نارائن کو بھاری اکثریت سے شکست دی جسے راج نارائن نے ا لہ آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا ۔ 12جون1975کوالہ آبا د ہائی کورٹ کے جسٹس جگ موہن لعل سنھا نے سرکاری وسائل کے استعمال اور بدعنوانی کے الزامات کے تحت اندرا گاندھی کو نااہل قرار دے کر ان کی جیت کا نوٹیفکیشن کالعدم کرد اور اندرا گاندھی کو چھ سال تک کسی بھی عہدہ رکھنے سے روک دیا گیا۔ حکمران جماعت کانگریس کو اندرا گاندھی کا متبادل تلاش کرنے لئے بیس دن کا وقت دیا گیا۔ اندراگاندھی اس فیصلے پر شیرنی کی طرح دھاڑی اور اگلے ہی ہفتے ملک بھر میں ایمرجنسی نافذ کردی۔ اس فیصلے نے بھارت میں سیاسی بحران پیدا کردیا اور1975سے1977تک یمرجنسی نافذ رہی۔اندرا گاندھی نے الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرکے عبوری حکم امتناعی حاصل کرلیاجس کے بعد انہوںنے پارلیمنٹ میں کانگریس کی بھاری اکثریت کے بل بوتے پر 1975ء میں 39ویں آئینی ترمیم منظور کروالی جس کے تحت بھارتی آئین میں392اے آرٹیکل متعارف کرایا گیا۔ جس میں کہا گیا کہ وزیر اعظم اور اسپیکر کا انتخاب ملک کی کسی بھی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔ اور نہ ہی پارلیمنٹ کی بنائی گئی کسی کمیٹی کے سامنے چیلنج کیا جاسکے گا۔اس نئے آرٹیکل کے مطابق جو شخص بھارت کا صدر ،نائب صدر ،وزیراعظم یا لوک سبھا کا اسپیکر رہا ہو ،انتخابات کے وقت اس کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال نہیں ہوگی اور وہ الیکشن لڑنے کا اہل ہوگا۔اس ترمیم کے تحت یہ بھی طے کردیا گیا کہ ان عہدوں پر منتخب ہونے والوں کے الیکشن پربھی سوال نہیں اٹھایا جاسکے گا۔بھارتی سپریم کورٹ نے اندرا نہرو گاندھی بنام راج نارائن کیس میں اس آئینی ترمیم کو دستور کے بنیادی ڈھانچے سے متصادم قرار دے کر کالعدم کردیا۔بھارتی سپریم کورٹ نے قراردیا کہ 39ویں آئینی ترمیم کے تحت صدر ،نائب صدر ،وزیراعظم اور سپیکر کے انتخابات کے عدالتی جائزہ کا اختیار ختم کردیا گیا جو بنیادی آئینی ڈھانچہ کے منافی ہے۔علاوہ ازیں اس ترمیم سے صاف شفاف الیکشن سے متعلق بنیادی آئینی ڈھانچہ کی فہرست میں شامل نکتہ نمبر 17بھی غیر موثر بنا دیا گیا تھا، تاہم عدالت نے قرار دیا کہ اگر کوئی جماعت 23نکاتی بنیادی آئینی ڈھانچے کے برعکس کوئی ترمیم کرنا چاہتی ہے تو اسے متعلقہ معاملے کو اپنے انتخابی منشور میں شامل کرنا پڑے گا ،اگر انتخابات میں عوام اسے مینڈیٹ دے دیں تو پھر وہ بنیادی آئینی ڈھانچے میں شامل متعلقہ معاملہ پر بھی ترمیم کرسکتی ہے۔یاد رہے کہ بھارتی سپریم کورٹ نے1973میں ایک کیس میں23 معاملات کو بھارتی آئین کا بنیادی ڈھانچہ قرار دیا۔اخبار لکھتا ہے کہ بھارت میں شازو نادر ہی سیاسی جنگیں عدالتوں میں لڑی گئی ہوں۔ عدالت نے اسی سال نومبر میں ان کی سزا ختم کردی تھی اور یوں بھارتی عدلیہ کی آزادی جمہوری دنیا میں پوری طرح ناکام ہوگئی تھی، اندرا گاندھی نے اس بات کو یقینی بنایا تھا کہ اس کی طاقت اس کے ہاتھ سے باہر نہیں جانی چاہیے تھی۔ سیاسی طور پر بھارتی جمہوریہ کا یہ کھٹن دور تھا۔ ایمرجنسی صورتحال حال کے بعد اندرا گاندھی انتہائی مضبوط ہوگئی،چاہے وہ اپوزیشن رہنما تھایا میڈیا اس نے بیٹے سنجے کے ساتھ مل کر تمام مخالفوں کو ناکوں چنے چبوائے ۔آخر کار آزادی کے تیس سال بعد کانگریس1977 کے انتخابات ہار گئی اور پہلی بار اقتدار سے باہر ہوئی۔نواز شریف کے پاس جمہوریت انداز کو تبدیل کرنے اور اقتدار میں رہنے کیلئے اتنا گولہ باورد نہیں جتنا اندرا گاندھی کے پاس تھا ۔نواز شریف نے اندرا گاندھی کی طرح عدالتی فیصلے کو سبوتاژ نہیںکیا اور نہ ملک میں ہنگامی صورت حال نافذ کرنے کا سوچا۔نواز شریف کی نااہلی بھی بھارت کی اسی مثال کی طرح ہے۔نواز شریف بھی پاکستان کے ایک مضبوط رہنما ہیں،بھارت میں اندرا گاندھی کے سامنے حزب مخالف کے رہنماؤں کا کوئی مضبوط تشخص نہیں تھا اندرا گاندھی کی مضبوطی میں دوسرے جس عنصر کا زیادہ دخل تھا وہ جواہر لعل نہرو کی بیٹی ہونا تھا، جب کہ پاکستان میں ایسی صورت حال نہیں، پاکستان میں جمہوری ادارے بھارت کی مانندمضبوط نہیں، انڈین نیشنل کانگریس کی طرح نواز لیگ مضبوط نہیں۔ نواز شریف پہلے ہی کئی محاذوں پر جدوجہد کر رہے ہیں ایک طرف اسٹیبلشمنٹ تو دوسری طرف سیاسی دباؤ اور تیسری طرف انتہا پسند ہیں نواز شریف کے پاس جمہوریت کو تبدیل کرنے اور اقتدار میں رہنے کیلئے اتنا گولہ باورد نہیں جتنا اندرا گاندھی کے پاس تھا ۔اس لئے وہ خاموشی سے مستعفی ہوئے اور چلے گئے جس طرح 20 ویں صدی کے آخر میں انہوں نے دو مرتبہ کیا تھا۔انہوں نے اندرا گاندھی کی طرح عدالتی فیصلے کو سبوتاژ نہیںکیا اور نہ ملک میں ہنگامی صورت حال نافذ کرنے کا سوچا۔نواز شریف کی روانگی یقینی طور پر ملک کے استحکام کے لئے پریشان کن ہے ، پاکستان کے لوگوں نے 2013کے انتخابات میں ووٹ ڈالتے ہوئے ان سے امیدیںلگائی تھی۔ عوامی نمائندگی ایکٹ1951کا سیکشن 8فور ارکان پارلیمنٹ کی فوری نااہلی کو تحفظ دیتا ہے۔جولائی 2013میں بھارتی سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ ایسے ارکان پارلیمنٹ یا ایم ایل ایز جن پر سنگین نوعیت کے مقدمات ہیں ،انہیں عدالت کی طرف سے دو یا دو سے زیادہ سالوں کی جیل کی سزا سنا دی گئی ہے تو وہ فوری طور پر اپنے عوامی عہدوں سے نااہل ہوں گے، سپریم کورٹ نے عوامی نمائندگی ایکٹ1951کے سیکشن 8فور کو معطل کردیا جس میں یہ شق ارکان پارلیمنٹ کی فوری نااہلی کو تحفظ دیتی ہے اگر اس نے اعلیٰ عدالت میںاپیل کردی ہو۔ستمبر2013میں بھارتی کابینہ نے سپریم کورٹ کی طرف سے سزا یافتہ ا رکان پارلیمنٹ کی فوری نااہلی کے حکم کومنسوخ کرتے ہوئے ایک آرڈیننس کی منظوری دے دی۔مرکزی کابینہ نے آرڈیننس کے تحت سپریم کورٹ کے حکم کو منسوخ کرتے ہوئے convictedارکان پارلیمنٹ کی فوری نااہلی کو تحفظ دیا ،اور کہا کہ عوامی نمائندگی (ترمیم اور توثیق) آرڈیننس اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ ایسے ارکان پارلیمنٹ اور ایم ایل اے اپنے فرائض جاری رکھ سکتے ہیں اگر ان کی اپیلیں اعلیٰ عدالتوں نے نوے روز میں منظور کرلی ہوں ،تاہم ایسے ارکان ایوان کی کارروائی کے دوران ووٹ استعمال کرنے، تنخواہ اور دیگر مراعات کے حق دار نہیں ہوں گے جب تک ان کی اپیلوںکا حتمی فیصلہ نہ آجائے۔

About Editor

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*