Breaking News
Home / خبریں / پاکستان / قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے بعد اس بل کو قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظور کروانے کی کوششیں افسوسناک ہیں
قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے بعد اس بل کو قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظور کروانے کی کوششیں افسوسناک ہیں

قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے بعد اس بل کو قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظور کروانے کی کوششیں افسوسناک ہیں

ملک بھر کی مختلف سیاسی ، مذہبی و کشمیری جماعتوں کے قائدین نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ میں منظور کئے گئے اس بل جس میں کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ جس تنظیم پر پابندی لگائے گی اس پر پاکستان میں بھی پابندی ہو گی‘ پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی و امریکی دباﺅ پرکشمیریوں کے حق میں آواز بلند کرنے والی تنظیموں کے گرد گھیرا تنگ کیا جارہا ہے۔قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے بعد اس بل کو قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظور کروانے کی کوششیں افسوسناک ہیں۔ موجودہ حکمران ذاتی مفادات کے حصول کیلئے ملکی سلامتی و خودمختاری کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔وزیر داخلہ احسن اقبال غیر ملکی قوتوں کے اشاروں پر ناچ رہے ہیں۔ اعلیٰ عدلیہ ملک دشمنی پر مبنی بل کی منظوری کا نوٹس لے۔ بھار ت و امریکہ کو خوش کرنے کیلئے تحریک آزادی کشمیر کوسبوتاژ کرنے کی منظم سازشیں کی جارہی ہیں۔اقوام متحدہ کل کو اگر نمازاور حجاب کیخلاف قرارداد منظور کرتی ہے تو کیاحکمران اس پر بھی عمل درآمد کروائیں گے۔ حکمران بتائیں بھارت نے آج تک کشمیر سے متعلق قراردادوں پر کتنا عمل کیا ہے؟۔ سلامتی کونسل کی قراردادوں سے متعلق پاس کردہ حالیہ آرڈیننس اور بل پاکستان کی سالمیت و خودمختاری پر حملہ ہے۔ حکومت کو کوئی حق نہیں کہ بیرونی قوتوں کے کہنے پر اپنے ہی ملک کی جماعتوں اورشہریوں کے بنیادی حقوق صلب کیے جائیں۔ ان خیالات کا اظہاردفاع پاکستان کونسل کے چیئرمین مولانا سمیع الحق، سراج الحق،شیخ رشید احمد،سابق سینیٹر ظفرعلی شاہ،سابق وفاقی وزیر محمد علی درانی،اعجاز الحق،پروفیسر حافظ عبدالرحمن مکی، خسرو بختیار، صاحبزادہ طارق اللہ،جمشیداحمد دستی،پیر سید ہارون علی گیلانی، محمد یعقوب شیخ، حافظ خالد ولید، طاہر بشیر چیمہ،سمیع اللہ چوہدری و دیگر نے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ دفاع پاکستان کونسل کے چیئرمین مولانا سمیع الحق نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ امریکہ کی لونڈی بن چکی ہے اور ہمارے حکمران امریکہ کے غلام ہیں۔ان کا اللہ پر ایمان نہیں بلکہ امریکہ پر ایمان ہے۔اقوام متحدہ کل نماز،حجاب،شریعت،ختم نبوت کے حوالہ سے پابندی لگائے تو کیا حکمران انہیں بھی قبول کریں گے۔شریعت پر پابندی،پردہ اور ختم نبوت کے حوالہ سے پابندی ان کے ایجنڈے میں شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی میں مسلم لیگ(ن) کی اکثریت ہے اور اس نے ہمیشہ امریکہ کی غلامی کی ۔ختم نبوت قانون میں تبدیلی بھی ن لیگ نے ہی کی ۔اگر حکومت یہ بل اسمبلی سے پاس کرواتی ہے تو یہ ان کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہو گا۔امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہاکہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ سے اس بل کی منظوری پاکستان کے آئین اور اس کی خودمختاری کیخلاف ہے۔ ہم قائمہ کمیٹی کے بعد قومی اسمبلی سے یہ بل منظور کروانے کی کوششوں کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ حکومت بھارت و امریکہ کی خوشنودی کیلئے ایسے فیصلے نہ کرے جس سے ملکی سلامتی و خودمختاری کو نقصان پہنچتا ہو۔انہوںنے کہاکہ اقوام متحدہ کی قراردادوں سے متعلق نیا صدارتی آرڈیننس اور بعد ازاں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی سے بل کی منظوری چند ایک جماعتوں ہی نہیں بلکہ پورے ملک کے خلاف ہے۔ دشمن قوتوں کا اصل ٹارگٹ سی پیک اور پاکستان کا ایٹمی پروگرام ہے۔ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے کہاکہ حکومت محض ذاتی مفادات کیلئے بھارت وامریکہ کی کاسہ لیسی میں مصروف ہے۔ اس بل کی منظوری سے کشمیریوں کو تحریک آزادی کوسخت نقصان پہنچے گا۔ مودی سے یاریاں نبھانے کیلئے اس قسم کے فیصلے کئے جارہے ہیں جو پاکستان کی خودمختاری پر کاری ضرب ہیں۔ دشمن قوتوں کا اصل ٹارگٹ سی پیک اور پاکستان کا ایٹمی پروگرام ہے۔مسلم لیگ(ن) کے مرکزی رہنماسابق سینٹر ظفر علی شاہ نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جانب سے پاکستان میں جماعتوں پر پابندی اور پھر پاکستا ن کا بل پاس کرنایہ اقوام متحدہ کے چارٹر کی ہی نفی اور دوسرے ممالک میں مداخلت کے مترادف ہے۔ہم کسی صورت قائمہ کمیٹی کی سفارش کی تائید کرنے کو تیار نہیں۔اقوام متحدہ امریکہ کی بات مان رہا ہے لیکن ہمار ے حکمرانوں کی نہیں مانتا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک آزاد و خود مختار ملک ہے لیکن حکمرانوں نے ملک کے اندر بیرونی دباﺅ پہلے ہی تسلیم کر لیا یہ بہت غلط بات ہے۔مسلم لیگ فنکشنل کے سیکرٹری جنرل ،سابق وفاقی وزیر محمد علی درانی نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کشمیر میں مودی کے مظالم کو نہیں رکوا سکی،فلسطینیوں پر ہونے والے مظالم کو بھی نہیں رکوا سکی لیکن پاکستان کی قائمہ کمیٹی سے بل پاس کر والیا انتہائی شرم کی بات ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی حکمرانوں نے اپنی خود داری،خود مختاری کو دنیا کی ان طاقتوں کے سامنے سرنڈر کر دیا جو ظلم کے پیچھے کھڑی ہیں۔انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی سے یہ بل پاس ہونے کے بعد پاکستانی قوم کویقین ہو جائے گا کہ پارلیمنٹ کا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں ۔ان کے مفادات،بچے،دولت سب پاکستان سے باہر ہے۔مسلم لیگ (ض) کے صدر اعجاز الحق نے کہاکہ بیرونی دباﺅ پر اس نوعیت کے اقدامات اٹھانا درست نہیں ہے۔ کشمیر کی جدوجہد آزادی اس وقت عروج پر ہے۔ حکومت پاکستان کو کوئی ایسا اقدام نہیں اٹھانا چاہیے جس سے مظلوم کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو نقصان پہنچتا ہو۔ قومی اسمبلی میں اس قسم کے بل منظور ہونے سے ملک میں اتحادویکجہتی کو نقصان پہنچا ہو گا۔ دفاع پاکستان کونسل اور جماعةالدعوة کے مرکزی رہنما پروفیسر حافظ عبدالرحمن مکی نے کہاکہ موجودہ حکمرانوں کی پالیسیوں سے ملکی سالمیت و خودمختار ی کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں سے متعلق پاس کردہ بل بہت بڑی سازش ہے۔ پاکستانی قوم کشمیریوں کی تحریک آزادی سبوتاژ کرنے کی سازشیں کامیاب نہیں ہونے دے گی۔ جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے صدر خسرو بختیار نے کہاکہ پاکستان ایک آزاد اور خودمختار ملک ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس کی عزت اور وقار پر کوئی حرف نہ آنے دے۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں سے متعلق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی سے پاس کردہ بل اسمبلی اور سینیٹ سے منظور کروانے کا عمل درست نہیں ہے۔ ھدیة الھادی پاکستان کے سربراہ پیر سید ہارون علی گیلانی اور جماعت اسلامی کے مرکزی رہنما صاحبزادہ طارق اللہ نے کہاکہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی سے پاس کیا گیا یہ بل پورے ملک کیخلاف ہے۔نظریہ پاکستان رابطہ کونسل کے چیئرمین محمد یعقوب شیخ اور جموں کشمیر موومنٹ کے مرکزی رہنما حافظ خالد ولید نے کہاکہ قومی اسمبلی سے اس بل کی منظوری کی آڑ میں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کیخلاف سازشیں کی جارہی ہیں۔ اگر اقوام متحدہ پاک فوج کی ڈاﺅن سائزنگ اور ایٹمی اثاثوں کیخلاف قرارداد پاس کرتی ہے تو کیاحکمران کیا اس پر بھی عمل درآمد کروائیں گے؟۔ عوامی راج پارٹی کے صدر جمشید احمد دستی، جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے مرکزی رہنماﺅں طاہر بشیر چیمہ، سمیع اللہ چوہدر ی ودیگر نے کہاکہ انڈیا نے کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی قراردادوں پرآج تک عمل نہیں کیا۔ حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے فیصلے خود کریں اور ملکی وقار مجروح نہ کریں۔بھارت و امریکہ حکومت کے ان اقدامات سے بھی مطمئن نہیں ہوں گے۔

About Editor

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*