Breaking News
Home / خبریں / عالمی خبریں / کشمیری بچی کے زیادتی کے بعد سفاکانہ قتل نے بھارت کو لرزا کر رکھ دیا
کشمیری بچی کے زیادتی کے بعد سفاکانہ قتل نے بھارت کو لرزا کر رکھ دیا

کشمیری بچی کے زیادتی کے بعد سفاکانہ قتل نے بھارت کو لرزا کر رکھ دیا

مقبوضہ کشمیر کے نائب وزیراعلیٰ کنویندر گپتا نے کمسن آصفہ بانو سے اجتماعی زیادتی کو معمولی وقعہ اور چھوٹی سی بات کہہ کر نظر انداز کردیا۔

بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے نائب وزیراعلیٰ کنویندر گپتا نے کم سن مسلمان  بچی کو مندر کے تہہ خانے میں مسلسل چار روز تک اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کے واقعے کو معمولی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس قسم کے چھوٹے موٹے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔ جس کی سرکوبی کے لیے پولیس اور قانون موجود ہیں اور اپنا کام بھی کر رہے ہیں۔

مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی کٹھ پتلی انتظامیہ کم سن بچی کے زیادتی کے واقعے پر روایتی بے حسی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ اس سے قبل کمسن آصفہ سے زیادتی کرنے والوں کے حق میں نکالی گئی ریلی میں شریک ایم ایل اے کو محبوبہ مفتی نے اپنی کابینہ کا وزیر بنا دیا تھا اور آج نائب وزیراعلیٰ کے شر انگیز بیان نے مظلوم والدین اور کشمیری مسلمانوں کے زخم ہرے کردیئے ہیں۔

مقبوضہ کشمیر میں انتہا پسند ہندوؤں کی جانب سے مسلسل دھمکیاں ملنے کے باعث زیادتی کے بعد قتل کی جانے والی 8 سالہ آصفہ بانو کے اہل خانہ اپنے آبائی گھر اور علاقے کو خیرباد کہنے پر مجبور ہو گئے۔

بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے ضلع کٹھوعہ میں زیادتی کے بعد بیدردی سے قتل ہونے والی 8 سالہ معصوم بچی آصفہ کے اہل خانہ کو انصاف ملنے کے بجائے ان کی مشکلات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ہندو انتہا پسند اپنے چہرے بے نقاب ہونے کے بعد آصفہ کے اہل خانہ کو مسلسل دھمکیاں دے رہے ہیں جس کی وجہ سے بچی کے اہل خانہ اپنا آبائی علاقہ چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

درندگی کا نشانہ بننے والی آصفہ کے والد امجد علی نے بین الاقوامی میڈیا کو بتایا ہے کہ ہماری جانوں کو خطرہ ہے، ہمارے گھروں کو جلانے اور مویشیوں کو مارنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں جس کی وجہ سے ہمارا اپنے گھروں میں رہنا نا ممکن ہو گیا ہے جب کہ مقامی پولیس بھی ملزمان کا تحفظ کر رہی ہے اس لیے ہمارے پاس اپنے آبائی علاقے کو چھوڑنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا ہے۔

 واضح رہے مقبوضہ کشمیر کی رہائشی معصوم آصفہ کو رواں سال جنوری میں اغوا کر کے مندر کے تہہ خانے میں چار روز تک اجتماعی درندگی کا نشانہ بنایا گیا جس کے بعد بچی کا بہیمانہ قتل کر کے کھائی میں پھینک دیا گیا۔ پولیس کے مطابق اب تک 8 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ان میں 2 خصوصی پولس افسران، ایک ہیڈ کانسٹیبل، ایک سب انسپکٹر، کٹھوعہ کا رہائشی ایک سابق ریوینیو افسر اور دو نابالغ لڑکے شامل ہیں۔

کٹھوعہ میں آصفہ بانو کا زیادتی کے بعد قتل‘ بھارت بھر میں مظاہرے ہزاروں خواتین سڑکوں پر آ گئیں

16 اپریل 2018

لاہور (نیوز ڈیسک) مقبوضہ کشمیر میں جموں کے علاقے کٹھوعہ میں مسلمان 7 سالہ بچی آصفہ بانو کو اجتماعی زیادتی کے بعد وحشیانہ قتل کیخلاف اتوار کے روز پورا بھارت سڑکوں پر نکل آیا۔ دارالحکومت نئی دہلی کے علاوہ ممبئی، احمد آباد، جے پور، اترپردیش، بہار میں پلے کارڈ اور آصفہ کی تصویر اٹھائے افراد جن میں زیادہ تر خواتین تھیں، نے ریلیاں نکالیں اور آصفہ کے قاتلوں کو سزائے موت دینے کا مطالبہ کیا۔ نئی دہلی میں ہزاروں افراد نے بینرز اٹھائے سڑکوں پر مارچ کیا جبکہ ممبئی میںاداکار عامر خان کی اہلیہ کرن راﺅ نے اسی طرح کی ریلی کا اہتمام کیا۔ اورنگ آباد میں رات کو سینکڑوں افراد نے مشعل بردار جلوس نکالا اورآصفہ بانو کی یاد میں شمعیں روشن کیں۔ واضح رہے کہ آصفہ بانو کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے ماسٹر مائنڈ کٹھوعہ میں مندر کے مہانت سنجی رام اسکے بیٹے وشال اور دیگر کی حمایت میں جلوس نکالنے اور واقعہ کو ہندوﺅں کیخلاف سازش قرار دے کر مہم چلانے پر ملک بھر میں ہونے والی شدید تنقید پر حکمران جماعت بی جے پی نے مقبوضہ کشمیر میںمجرموں کے سرپرست اپنے 2 وزراءچندر پرکاش گنگا اور چودھری لال سنگھ سے استعفے لے لئے۔ وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی جنہوں نے وزراءکے استعفوں کے حوالے سے دباﺅ ڈالا تھا۔ اتوار کے روز فوراً ن کے استعفے منظور کرلئے جسکے بعد بی جے پی اور محبوبہ مفتی کی جماعت پی ڈی پی میں اتحاد ٹوٹنے کا خطرہ فی الحال ٹل گیاہے۔ تاہم محبوبہ مفتی نے آج پیر کے روز پارٹی کی ہنگامی میٹنگ طلب کی ہے جس میں اتحاد کے حوالے سے فیصلہ کیا جائے گا۔ اتوار کے روز بی جے پی کشمیر کے صدر ست شرما نے وزراءکے استعفے محبوبہ مفتی کے حوالے کئے۔

آٹھ سالہ بچی کے ریپ اور قتل نے کشمیر کو ہلا کر رکھ دیا

  • 12 اپريل 2018
  • ایک آٹھ سالہ بچی کے وحشیانہ ریپ اور قتل نے انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے شورش زدہ علاقے میں مزید بےچینی پھیلا دی ہے۔ سری نگر میں مقیم آزاد صحافی سمیر یاسر بتا رہے ہیں کہ اس واقعے کی تفتیش کے کیسے پورے علاقے کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کر دیا ہے۔

17 جنوری کی صبح محمد یوسف پجوالا اپنے گھر کے باہر بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک ہمسایہ ان کی طرف دوڑتا ہوا آیا اور خبر دی کہ ان کی آٹھ سالہ بیٹی کی لاش گھر سے چند سو گز دور جھاڑیوں میں مل گئی ہے۔

52 سالہ پجوالا نے بی بی سی کو بتایا: ‘مجھے (پہلے ہی) پتہ چل گیا تھا کہ میری بیٹی کے ساتھ کوئی ہولناک واقعہ ہو گیا ہے۔’

پجوالا خانہ بدوش گجر برادری سے تعلق رکھتے ہیں اور اپنی بکریوں اور بھینسوں کے ساتھ ہمالیہ کے دروں اور وادیوں میں سفر کرتے رہتے ہیں۔

اس سانحے نے نہ صرف تمام برادری کو ہلا کر رکھ دیا بلکہ اس سے جموں کے ہندوؤں اور کشمیر کے مسلمانوں کے درمیان حائل خلیج مزید گہری ہو گئی۔ ریاست کشمیر کے انڈیا سے تعلقات کشیدہ رہے ہیں اور وہاں 1989 سے مسلح جدوجہد جاری ہے۔

پولیس نے بچی کی موت کے سلسلے میں آٹھ افراد کو گرفتار کیا، جن میں ایک سابق سرکاری ملازم، چار پولیس اہلکار اور ایک نوجوان شامل ہیں۔

تاہم اس کے بعد جموں میں احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے اور وکیلوں نے فردِ جرم عائد کرنے کے لیے پولیس کو عدالت میں داخل ہونے سے روک دیا۔ ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے دو وزرا نے ملزموں کے حق میں نکالے جانے والے جلوسوں میں شرکت کی۔

ریاست میں بی جے پی پی ڈی پی کے ساتھ مل کر حکومت کر رہی ہے۔

گمشدگی

جب بچی دس جنوری کو گم ہوئی تو اس وقت اس کے والدین جموں شہر سے 72 کلومیٹر مشرق میں مقیم تھے۔ اس کی ماں نسیمہ کہتی ہیں کہ اس دن سہ پہر کے وقت وہ جنگل سے گھوڑے لانے گئی۔ گھوڑے واپس آ گئے لیکن بچی ان کے ساتھ نہیں تھی۔

نسیمہ نے اپنے خاوند کو بتایا۔ وہ چند پڑوسیوں کے ساتھ مل کر بیٹی کی تلاش میں نکلے۔ رات بھر وہ ٹارچوں اور لالٹینوں کی روشنی میں جنگل میں دور دور تک ڈھونڈتے رہے لیکن بچی کا سراغ نہیں ملا۔

دو دن بعد 12 جنوری کو انھوں نے پولیس میں رپورٹ درج کروائی۔ تاہم پجوالا کہتے ہیں کہ پولیس کا رویہ ٹھیک نہیں تھا۔ ایک پولیس والے نے کہا کہ ان کی بیٹی کسی لڑکے کے ساتھ بھاگ گئی ہو گی۔

جب یہ خبر پھیلی تو گجر برادری نے احتجاج کیا اور سڑک بلاک کر دی۔ پولیس نے دو اہلکاروں کو تلاش پر مامور کر دیا۔ ان میں سے ایک کا نام دیپک کھجوریا تھا جنھیں بعد میں اس جرم کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا۔

پانچ دن بعد بچی کی لاش مل گئی۔

نسیمہ اور ان کے خاوند نے سب سے پہلے بھاگ کر جھاڑیوں میں لاش دیکھی تھی۔ وہ کہتی ہیں: ‘اس پر تشدد کیا گیا تھا۔ اس کی ٹانگیں ٹوٹی ہوئی تھیں۔ اس کے ناخن کالے پڑ گئے تھے اور اس کے بازوؤں اور انگلیوں پر لال اور نیلے نشان تھے۔’

اصل میں ہوا کیا؟

23 جنوری کو جموں اور کشمیر کی وزیرِ اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کرائم برانچ کو تحقیقات کا حکم دیا۔

تفتیش سے پتہ چلا کہ اس بچی کو کئی دن تک ایک مقامی مندر میں رکھا گیا تھا اور اسے بےہوشی کی دوائیں دی جاتی رہی تھیں۔ چارج شیٹ میں درج ہے کہ اسے کئی دنوں تک ریپ کیا گیا، اس پر تشدد کیا جاتا رہا اور آخر اسے قتل کر دیا گیا۔ پہلے اس کا گلا گھونٹا گیا پھر سر پر دو بار پتھر مارا گیا۔

مبینہ طور پر 60 سالہ ریٹائرڈ سرکاری ملازم سنجی رام نے چار سپاہیوں سریندر ورما، تلک راج، کھجوریا اور آنند دتا کے ساتھ مل کر اس جرم کی منصوبہ بندی کی۔

رام کا بیٹا وشال، اس کا کم عمر بھتیجا اور دوست پرویش کمار بھی ریپ اور قتل کے ملزم ٹھہرائے گئے۔

تفتیش کاروں کا الزام ہے کہ کھجوریا اور دوسرے پولیس اہلکاروں نے مقتولہ کے خون آلود کپڑے دھو کر فورینزک لیبارٹری کو بھیجے تھے تاکہ سراغ دھل جائیں۔ ان میں سے بعض بچی کو تلاش کرنے میں اس کے خاندان کی جھوٹ موٹ مدد بھی کرتے رہے تھے۔

تفتیش کار کہتے ہیں کہ اس جرم کا مقصد گجر برادری کو ڈرا کو جموں سے نکالنا تھا۔ چرواہے جموں کے جنگلات میں اپنے مویشی چراتے ہیں، جس کی وجہ سے حالیہ برسوں میں ان کے بعض مقامی ہندوؤں کے ساتھ جھگڑے ہو چکے ہیں۔

انسانی حقوق کے کارکن اور وکیل طالب حسین نے مقتولہ کے خاندان کے ساتھ مل کر احتجاج میں حصہ لیا تھا۔ وہ کہتے ہیں: ‘یہ سارا زمین کا مسئلہ ہے۔ طالب کہتے ہیں کہ انھیں پولیس نے گرفتار کر کے ڈرایا دھمکایا تھا۔

انکُر شرما وکیل ہیں اور انھوں نے ملزموں کے حق میں ہونے والے ایک مظاہرے میں حصہ لیا تھا۔ ان کا الزام ہے کہ مسلمان خانہ بدوش جموں کی آبادی کے تناسب کو بدلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس وقت جموں میں ہندوؤں کی اکثریت ہے۔ ‘وہ ہمارے جنگلوں اور پانی کے وسائل پر قبضہ کرتے جا رہے ہیں۔’

ان کا کہنا ہے کہ ملزم بےگناہ ہیں اور اصل مجرم ابھی تک نہیں پکڑے گئے۔

اس جرم کو جموں میں زیادہ کوریج نہیں ملی لیکن سری نگر میں اخباروں نے اسے صفحۂ اول پر جگہ دی۔

ایک بااثر گجر رہنما اور ریاستی اسمبلی کے رکن میاں الطاف نے جموں اور کشمیر کی ریاستی اسمبلی میں بچی کی تصویروں والے اخبار لہرا کر تفتیش کا مطالبہ کیا۔ بی جے پی کے رکنِ اسمبلی راجیو جسروٹیا نے کہا کہ یہ ‘خاندانی معاملہ’ ہے اور الطاف اسے سیاسی رخ دے رہے ہیں۔

تدفین کے وقت کیا ہوا؟

گجر بچی کو اس قبرستان میں دفن کرنا چاہتے تھے جس کی زمین انھوں نے چند سال پہلے خریدی تھی اور وہاں پہلے ہی پانچ مردے دفنا چکے تھے۔ لیکن جب وہ جنازہ لے کر وہاں پہنچے تو قبرستان کو کٹر ہندوؤں نے گھیرے میں لے رکھا تھا اور انھوں نے دھمکی دی تو اگر بچی کو وہاں دفنانے کی کوشش کی تو اچھا نہیں ہو گا۔

پجوالا کہتے ہیں: ‘ہمیں اسے سات میل دور ایک گاؤں میں دفنانا پڑا۔’ ان کی اپنی دو بیٹیاں چند سال پہلے ایک حادثے میں ہلاک ہو گئی تھیں اور انھوں نے اپنی بیوی کے اصرار پر اس بچی کو گود لے لیا تھا جو ان کے بہنوئی کی بیٹی تھی۔

ان کی بیوی کہتی ہیں کہ وہ ایک چہچہاتا ہوا پرندہ تھی اور ہرنی کی طرح قلانچیں بھرتی تھی۔ جب وہ سفر میں ہوتے تھے تو ریوڑ کا خیال رکھتی تھی۔ ‘وہ پورے خاندان کی آنکھوں کا تارا تھی۔ وہ ہماری کائنات کا مرکز تھی۔’

٭ دہلی ہائی کورٹ کے احکامات کے بعد اس کہانی سے مقتولہ بچی کا نام ہٹا دیا گیا ہے۔

آصفہ بانو زیادتی قتل کیس کی مقبوضہ کشمیر سے منتقلی پر ہندو سادھو اور ساتھی ڈر گئے سپریم کورٹ سے رجوع

26 اپریل 2018

 

لاہور (نیوز ڈیسک) مقبوضہ کشمیر کے شہر جموں کے علاقے کٹھوعہ میں خانہ بدوش مسلمان چرواہوں کی 8 سالہ بچی آصفہ بانو کو اغوا کے بعد اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے اور بیدردی سے قتل کرنے والے ماسٹر مائنڈ ہندو سادھو سانجی رام اور اسکے ساتھی وشال جگروٹھا نے مقدمے کی مقبوضہ کشمیر سے چندی گڑھ منتقلی روکنے کیلئے بھارتی سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی۔ دونوں نے مقدمے کی تفتیش وفاقی تحقیقاتی ایجنسی سی بی آئی سے کرانے کی بھی استدعا کی ہے۔ واضح رہے کہ آصفہ بانو کے والد نے مقدمے کی چندی گڑھ منتقلی کیلئے عدالت سے رجوع کر رکھا ہے۔ حال ہی میں چیف جسٹس آف انڈیا نے آصفہ بانو خاندان کو مکمل سکیورٹی فراہم کرنے کا حکم دیا تھا اور کہا کہ کیس کی منتقلی سے متعلق فیصلہ بعد میں کیا جائے گا۔

کمسن آصفہ بانو سے جنسی زیادتی اور قتل پر بھارتی سپریم کورٹ کا نوٹس


سری نگر میں نوجوان حکومت مخالف مظاہروں کے دوران سیکیورٹی فورسز کے آنسو گیس کے گولوں کا جواب پھتراؤ کر کے دے رہے ہیں۔ 13 اپریل 2018

بھارتی سپریم کورٹ نے جموں کے بعض وکلاء کی طرف سے پولیس کوایک کم سن لڑکی کی آبرو ریزی اور قتل میں مبینہ طور پر ملوث افراد کے خلاف پولیس کو ایک مقامی عدالت میں فرد جرم دائر کرنے سے روکنے کے واقعہ کا سخت نوٹس لیتے ہوئے اظہار وجوہ کا ؤ نوٹس جاری کردیا ہے اور از خود کیس کا جائزہ لینے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔

نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر کے ضلع کٹھوعہ کے ایک گاؤں رسانہ کی آٹھ سالہ بچی آصفہ بانو اس سال 17 جنوری کو اچانک لاپتا ہوگئی تھی۔ ایک ہفتے کے بعد اُس کی لاش گاؤں کے مضافات میں جھاڑیوں میں ملی تھی –

پوسٹ مارٹم رپورٹ اور پولیس کی تحقیقات کے مطابق آصفہ کو اغوا کرنے کے بعد ایک مقامی مندر میں قید رکھا گیاتھا جہاں اُسے نشہ آور ادویات کھلائی گئیں اور قتل کرنے سے پہلے اُس کے ساتھ زیادتی کی گئی تھی۔

کم سن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے کے اس واقعے کو اگرچہ تین ماہ ہو رہے گزشتہ دو دن سے اس کے خلاف بھارت کے مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں اور بالی وڈ کی کئی اہم شخصيات کی طرف سے شديد غم و غصے کا اظہار کیا رہا ہے جبکہ نئی دہِلی میں نریندر مودی کی حکومت میں شامل چند اہم وزراء نے اس واقعہ کو نا قابلِ قبول قرار دیتے ہوئے ملوث افراد کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کا یقین دلایا ہے۔

بھارتی سپریم کورٹ کے ایک بینچ نے جس میں چیف جسٹس دیپک مشرا، جسٹس اے ایم خان ولکر ار جسٹس ڈی وائی چندراچُد شامل تھے جمعہ کوجموں ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن اور کٹھوعہ بار ایسو سی ایشن کے نام اس معاملے پر ہڑتال پر جانے، آصفہ کے والدین کی طرف سے مقرر کردہ وکیل کو عدالت میں ان کی نمائندگی کرنے سے روکنے اور کٹھوعہ کی عدالت میں فردِ جرم دائر کرنے کے عمل میں رخنہ ڈالنے پر نوٹس جاری کردیا۔ عدالتِ عظمیٰ نے 19 اپریل تک جواب طلب کیا ہے۔

عدالتی بینچ نے کہا کہ قانون اور اخلاقیات کے تحت فردِ جرم دائر کرنے سے روکنے اور کسی وکیل کو مظلوم کے کنبے کی نمائندگی کرنے سے باز رکھنے کی اجازت نہیں ہے۔

بینچ نے مزید کہا کہ کسی بھی کیس سے منسلک ہر پارٹی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنا وکیل مقرر کرے اور اگر وکلاء اس اصول کی مخالفت کرتے ہیں تو یہ انصاف فراہم کرنے کے نظام کے لئے تباہ کُن ہو گا۔

کئی وکلاء کی طرف سے آصفہ کے ساتھ پیش آنے واقعہ کے متعلق معلومات پیش کرنے کے بعد عدالتِ عظمٰی نے کیس کا از خود جائزہ لینے پر رضامندی ظاہر کردی۔

بھارتی کشمیر کی حکومت کے کونسل شعیب عالم نے بعض وکلاء کے اس مطالبے کی شديد مخالفت کی ہے کہ کیس کی تحقیقات ریاستی پولیس کی بجائے بھارت کے وفاقی تحقیقاتی ادارے سینٹرل بیورو آف انوسٹی گیشن (سی بی آئی) سے کرائی جائے کیونکہ مقامی لوگوں نے پولیس پر عدم بھروسے کا اظہار کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پولیس نے معاملے کی پوری طرح سے تحقیقات کی ہے اور یہ ایک طے شدہ قانون ہے کہ فردِ جرم دائر کئے جانے کے بعد کیس کو سی بی آئی کو منتقل نہیں کیا جاسکتا۔

ادھر آصفہ کے والد سے جب نامہ نگاروں نے عدالتِ عظمیٰ کے فیصلے اور ان کی بیٹی کے ساتھ پیش آئے واقعے پر تین ماہ کی تاخیر کے بعد وسیع پیمانے پر غم و غصے کے اظہار کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ انہوں نے پہلے ہی یہ معاملہ اللہ کی عدالت میں پیش کردیا ہے۔

اس سے پہلے کی رپورٹوں میں بتایا گیا تھا کہ واقعہ میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کے الزام میں پولیس نے مندر کے نگراں سانجی رام، ان کے بیٹے وشال کمار اور ایک اسپیشل پولیس افسر دیپک کھجوریہ سمیت چھ افراد کو گرفتار کیا ہے۔ پولیس کے ایک سب انسپکٹر اور ہیڈ کانسٹیبل کو بھی کیس سے متعلق ثبوت مٹانے کے الزام میں حراست میں لیا گیا ہے۔

مقامی پولیس کی کرائم برانچ نے جسے تحقیقات کا کام سونپا گیا تھا، پیر کو رات کی تاریکی میں کٹھوعہ کے چیف جوڈیشل مجسٹریٹ کے گھر جا کر کیس کے سلسلے میں فردِ جرم دائر کی تھی ۔ کیونکہ مقامی ہندو وکلاء نے دن کے دوران عدالت کے باہر ہنگامہ کیا تھااور پولیس کو فردِ جرم دائر کرنے سے زبردستی روکا تھا۔

اس سے پہلے ملزموں کی حمایت میں اور انہیں رہا کرنے کے مطالبے کو منوانے کے لئے علاقے میں کئی جلسے کئے گئے اور جلوس نکالے گئے تھے۔ اس طرح کے ایک جلوس کے دوران شرکاء نے بھارت کا قومی پرچم لہرایا تھا جس پر بعض حلقوں نے شديد رد عمل ظاہر کیا تھا۔ وزیرِ اعلیٰ محبوبہ مفتی نے ملزموں کی حمایت کرنے کی سرگرمی کو شرمناک اور مظاہروں کے دوران بھارت کا قومی پرچم لہرانے کو توہین آمیز قرار دیا تھا۔

ایک اور تازہ پیش رفت میں ریاست کی مخلوط حکومت میں شامل بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سے تعلق رکھنے والے دو وزیروں چوہدری لال سنگھ اور چندر پرکاش گنگا نے، جن پر ملزموں کی کُھلے عام حمایت کرنے کا الزام ہے، استعفیٰ دے دیا ہے۔ انہوں نئی دہلی میں پارٹی ہائی کمان کی ہدایت پر اپنے استعفے بی جے پی کے ریاستی یونٹ کے سربراہ ست پال شرما کو پیش کئے ہیں لیکن شرما نے انہیں تاحال وزیرِ اعلیٰ کو پیش نہیں کیا ہے۔

پارٹی ذرائع کے مطابق شرما نے سیاسی اور سماجی حلقوں کی طرف سے بڑھتی ہوئی تنقید اور دباؤ کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورت حال پر غور کرنے لے لئے کل سنیچر کو جموں بی جے پی کے وزرا سمیت ممبرانِ قانون سازیہ اور سرکردہ لیڈروں کا ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے۔

جموں: آصفہ بانو عصمت دری اور قتل کا کلیدی ملزم ایس پی او گرفتار

یو این آئی

لوگ بڑے پیمانے پر آصفہ کے مجرم کو سزا دلانے کے لئے مظاہرے کر رہے تھے۔ (انسیٹ میں) مرحومہ آصفہ بانو اور ملزم دیپک کھجوریا

ستم ظریفی یہ ہے کہ دیپک کھجوریہ اُس پولیس ٹیم کا حصہ تھا جو آصفہ کے اغوا کے بعد اس کی تلاش کررہی تھی۔

جموں: جموں وکشمیر کرائم برانچ پولیس کی خصوصی تحقیقاتی ٹیم نے ضلع کٹھوعہ میں خانہ بدوش گوجر بکروال طبقہ سے تعلق رکھنے والی آٹھ سالہ کمسن بچی آصفہ بانو کے قتل اور عصمت ریزی واقعہ کے کلیدی ملزم سپیشل پولیس آفیسر (ایس پی او) دیپک کھجوریہ کو گرفتار کرکے سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا ہے۔

کرائم برانچ کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آلوک پوری نے یہاں یو این آئی کو بتایا ’ہم نے واقعہ کے ملزم ایس پی او کو گرفتار کیا ہے۔ مزید تحقیقات جاری ہے‘۔ انہوں نے گرفتار شدہ ایس پی او کی شناخت پولیس تھانہ ہیرانگر میں تعینات 28 سالہ دیپک کھجوریہ کے بطور کی۔ پولیس ذرائع نے یو این آئی کو بتایا کہ واقعہ کے حوالے سے پولیس تھانہ ہیرا نگر میں درج ایف آئی آر میں آر پی سی کی سیکشن 376 بھی شامل کی گئی ہے۔ تحصیل ہیرانگر کے رسانہ نامی گاؤں کی رہنے والی آٹھ سالہ کمسن بچی آصفہ بانو کو 10 جنوری کو اس وقت اغوا کیا گیا تھا جب وہ گھوڑوں کو چرانے کے لئے نذدیکی جنگل گئی ہوئی تھی۔ اس کی لاش 17 جنوری کو ہیرا نگر میں جھاڑیوں سے برآمد کی گئی تھی۔ قتل اور عصمت ریزی کے اس واقعہ کے خلاف مقتولہ بچی کے کنبے اور رشتہ داروں نے اپنا شدید احتجاج درج کیا تھاجبکہ اپوزیشن نے اسمبلی میں اپنا احتجاج کئی دنوں تک جاری رکھا تھا ۔

این ڈی ٹی وی کی ایک رپورٹ میں پولیس کے حوالے سے کہا گیا ہے ’’کھجوریہ نے دوسرے ایک کم عمر لڑکے کے ساتھ ملکر آٹھ سالہ آصفہ کو ایک ہفتے تک یرغمال بنا رکھا اور عصمت ریزی کے بعد اس کا قتل کیا۔‘‘

رپورٹ کے مطابق اس عصمت ریزی اور قتل کا مقصد علاقہ میں مقیم خانہ بدوش گوجر بکروال طبقہ کو خوفزدہ کرنا تھا۔ این ڈی ٹی وی رپورٹ کے مطابق ستم ظریفی یہ ہے کہ دیپک کھجوریہ اُس پولیس ٹیم کا حصہ تھا جو آصفہ کے اغوا کے بعد اس کی تلاش کررہی تھی۔ واضح رہے کہ جموں وکشمیر حکومت نے 23 جنوری کو آصفہ بانو کے قتل اور عصمت ریزی کے واقعہ کی تحقیقات کی ذمہ داری کرائم برانچ کو سونپی۔ قانون اور پارلیمانی امور کے وزیر عبدالرحمان ویری نے ایوان اسمبلی کو بتایا تھا ’’کمسن بچی آصفہ بانو کے قتل کے واقعہ کی تحقیقات اب کرائم برانچ کرے گا۔‘‘

اس اعلان کے محض چند گھنٹے بعد جموں وکشمیر پولیس کے کرائم برانچ نے ایک ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (آف کرائم برانچ) کی قیادت میں پانچ رکنی خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دیکر واقعہ کی تحقیقات شروع کی تھی۔ سٹیٹ کرائم برانچ ہیڈکوارٹرس (جموں) کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس نے ایک حکم نامے میں کہا تھا ’کیس کی مزید تحقیقات کے لئے ایڈیشنل ایس پی کرائم برانچ کشمیر پیرزادہ نوید کی قیادت میں ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل کو منظوری دی جارہی ہے۔ یہ ٹیم تحقیقات کو تیزی کے ساتھ پایہ تکمیل تک پہنچائے گی اور اس آفس کو ریگولر بنیادوں پر کیس کی پیش رفت کے بارے میں مطلع کرتی رہے گی‘۔ ٹیم کے باقی چار اراکین میں ڈپٹی ایس پی کرائم برانچ جموں نثار حسین، ڈپٹی ایس پی کرائم برانچ جموں شیتم باری شرما، ایس آئی کرائم برانچ جموں عرفان وانی اور اے ایس آئی طارق احمد شامل ہیں۔

انتہاپسند ہندوؤں کی آصفہ بانو کی وکیل کو زیادتی اور قتل کی دھمکیاں

سری نگر: مقبوضہ کشمیرمیں آٹھ سالہ معصوم بچی آصفہ بانو سے زیادتی اورقتل کے ملزموں کوکیفرکردارتک پہنچانے کے لئے احتجاج مزید شدت اختیار کر گیا، انتہا پسند ہندو آصفہ بانو کی وکیل دپیکا سنگھ کو زیادتی کا نشانہ بنانے اور قتل کی دھمکیوں پر اتر آئے۔

تفصیلات کے مطابق ہندو انتہا پسندوں کی درندگی کا نشانہ بننے والی آٹھ سالہ آصفہ بانو  مرنے کے بعد بھی انصاف سے محروم ہے، معصوم بچی آصفہ بانو کو انصاف دینے کے لئے وادی کشمیر کے چپے چپے میں مظاہرے جاری ہیں۔

بھارتی میڈیا کے مطابق انتہا پسندوں کی جانب سے آصفہ بانو کی وکیل کو زیادتی اور قتل کی دھمکیاں مل رہی ہے۔

وکیل آصفہ بانو دپیکا سنگھ نے دھمکیوں کے بعد سپریم کورٹ سےسیکیورٹی فراہم کرنے کا مطالبہ کردیا اور کہا کہ مجھے اغوا اور قتل کی دھمکیاں دی جارہی ہیں، ہوسکتا ہے مجھےعدالت میں کیس لڑنے سے بھی روک دیا جائے۔

یاد رہے کہ آصفہ بانوکے والدین کوبھی قتل کے بعد دھمکیاں ملنے پراپنا آبائی علاقہ چھوڑنا پڑا تھا۔

مقبوضہ کشمیر میں چرواہے کی بیٹی آصفہ بانو کو جنوری میں مویشی چرانے گئی تھی، جسے سات ہندوپولیس اہلکاروں نے اغواکیا اور مندرمیں قید کرکے چار روز تک زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد بے دردی سے قتل کرکے جھاڑیوں میں پھینک دیا تھا۔


About Editor

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*