Breaking News
Home / خبریں / ٹیکنالوجی نیوز / پاکستان نے سیارے مدار میں بھجوانے کے بعد دونوں ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ کا کنٹرول سنبھال لیا
پاکستان نے سیارے مدار میں بھجوانے کے بعد  دونوں ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ کا کنٹرول سنبھال لیا

پاکستان نے سیارے مدار میں بھجوانے کے بعد دونوں ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ کا کنٹرول سنبھال لیا

منگل 14 اگست 2018.    اسلام آباد: اس سال جون میں چین کی سرزمین سے بھیجے جانے والے پاکستان کے دو اہم مصنوعی سیارچوں (سیٹلائٹس) کو مدار میں بھیجا گیا تھا اب یہ دونوں سیٹلائٹس مکمل طور پر آپریشنل ہوگئے ہیں اور ان کے انتظامات پاکستان کے حوالے کردیئے گئے ہیں۔

http://pakmediaupdates.com/video/paksat1.wmv

Download Satellites Launching Video

پاکستان کے پہلے ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ ’پی آر ایس ایس ون‘ اور اس کے ساتھ ایک چھوٹے سیٹلائٹ ’پاک ٹی ای ایس ون اے‘ کو چینی راکٹ کے ذریعے مدار میں بھیجا گیا تھا۔ ان میں سے موخر الذکر سیٹلائٹ کو پاکستان کے ماہرین، سائنس دانوں اور انجینئرز نے تیار کیا تھا۔

یہ دونوں سیٹلائٹ 9 جون 2018ء کو چین کے جائی قوان سیٹلائٹ مرکز سے خلا میں بھیجے گئے تھے۔

وزارتِ منصوبہ بندی، ترقی اور اصلاحات کی جانب سے ٹویٹر پیغام میں کہا گیا ہے کہ ان دونوں سیارچوں کو مدار میں کامیاب ٹیسٹ سے

گزارنے کے بعد ان کے کنٹرول پاکستان کو تفویض کردیئے گئے ہیں جنہیں پاکستان کے زمینی اسٹیشنوں سے کنٹرول کیا جائے گا

ان میں سے پاک ٹی ای ایس ون اے سیٹلائٹ کو مکمل طور پر پاکستانی ماہرین اور انجینئرز نے تیار کیا ہے جس میں زمینی معلومات کی رسائی اور تحقیق کے لیے اہم آلات نصب ہیں جبکہ دوسرا ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ زمینی مشاہدے، وسائل کی تحقیق اور قدرتی ماحول پر

نظر رکھنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

جیسا کہ نام سے ظاہر ہے ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ بہت اعلیٰ معیار کے ہوتے ہیں۔ ان سے زمین کی تصویر کشی، ماحولیاتی تحقیق، قدرتی وسائل، زراعت، آب پاشی اور دیگر کئی اہم ترین کام لیے جاتے ہیں۔ اپنے خاص آلات کی بدولت ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ زمین کی جانب ڈیٹا اور تصاویر روانہ کرتے رہتے ہیں۔

پاکستان کے یومِ آزادی پر ان سیٹلائٹس کا کنٹرول پاکستان کے حوالے ہونے سے قوم کو ایک اور خوشخبری ملی ہے۔ دوسری جانب دنیا کے بہت کم ممالک ایسے ہیں جو اپنا ذاتی ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ رکھتے ہیں

پاکستانی عہدے داروں نے کہا کہ سیٹلائٹس، جنوبی چین میں واقع خلائی مرکز جیکون سے مدار میں بھیجے گئے ہیں۔

پاکستان نے دو سیارے مدار میں بھجوا دیے

July 09, 2018

پاکستان نے خلا اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں اہم سنگ میل عبور کرتے ہوئے ملکی تاریخ میں پہلی بار دو سیٹلائٹ زمین کے مدار میں بھجوا دئے۔

پاکستانی ادارے اسپیس اینڈ اپر ایٹمو سفیئر ریسرچ کمیشن (سپارکو) کے مطابق لانچ کیے گئے 2 سیٹلائٹس میں سے ایک پی آر ایس ایس 1 ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ ہے جو زمین کی مختلف خصوصیات اور معدنی ذخائر کا جائزہ لے گا۔ یہ سیٹلائیٹ پاکستان نے چین سے خریدا جو اب لانچ کر دیا گیا ہے۔

یہ سیٹلائٹ موسمیاتی تبدیلی کا بھی اندازہ لگانے میں معاون ثابت ہوگا جس میں گلیشیئرز کے پگھلنے، گرین ہاؤس گیسز کے اثرات، جنگلات میں آتشزدگی اور زراعت سے متعلق مسائل کو حل کرنے میں بھی مددگار ثابت ہو گا۔

اس سیٹلائٹ کی لانچنگ کے بعد پاکستان کا شمار دنیا کے ان چند ممالک میں ہوگا جو زمینی مدار میں اپنا ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ روانہ کر چکے ہیں۔

دوسرا سیٹلائٹ پاک ٹیس – 1 اے حساس آلات اور کیمروں سے لیس خلا میں 610 کلو میٹر کے فاصلے پر رہے گا اور سورج کے اعتبار سے اپنی جگہ تبدیل نہیں کرے گا۔یہ سیٹلائیٹ مکمل طور پر پاکستان میں تیار کیا گیا ہے۔

دونوں سیٹلائٹس چینی ساختہ راکٹس کی مدد سے لانچ کیے گئے ہیں۔ سیٹلائٹ کی سمت کا تعین کرنے والی ٹیکنالوجی پاکستان سنہ 2012 میں ہی چین سے حاصل کرچکا ہے۔

پاکستانی عہدے داروں نے کہا کہ سیٹلائٹس، جنوبی چین میں واقع خلائی مرکز جیکون سے مدار میں بھیجے گئے ہیں۔

دفتر خارجہ کے ترجمان نے بتایا ہے کہ سیٹلائٹ کی تیاری سے پاکستان کا بیرونی دنیا پر کمرشل انحصار انتہائی کم ہو جائے گا اور وہ بنیادی ضروریات کے لیے اپنے وسائل پر بھروسہ کر سکے گا۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ سیٹلائٹس سے بارش کے پانی کی مقدار کو جانچنے اور اسٹوریج کی منصوبہ بندی میں بھی مدد ملے گی جبکہ ان سیٹلائٹس سے پاکستان میں جنگلات کی صورت حال پر بھی نظر رکھی جا سکے گی اور ان کی مانیٹرنگ ہو سکے گی۔

یاد رہے کہ گزشتہ ماہ دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر فیصل نے سیٹلائٹ کی تیاری کا اعلان کرتے ہوئے بتایا تھا کہ پاکستان نے مقامی وسائل سے پاک ٹیس ون اے نامی سیٹلائٹ تیار کیا ہے جس کی تیاری کے تمام مراحل پاکستان میں طے کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا تھا کہ سیٹلائٹ زمین کے جغرافیے، موسم، ماحول اور سائنسی تحقیق میں معاون ثابت ہوگا۔ ٹیس ون اے کا وزن 285 کلو گرام ہے اور یہ 610 کلو میٹر کی بلندی پر مدار میں چکر لگائے گا۔


About Editor

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*