Breaking News
Home / خبریں / پاک انڈیا / حکمران مظلوم کشمیریوں کی آواز سنیں اور ان کی مدد کریں۔حافظ محمد سعید
حکمران مظلوم کشمیریوں کی آواز سنیں اور ان کی مدد کریں۔حافظ محمد سعید

حکمران مظلوم کشمیریوں کی آواز سنیں اور ان کی مدد کریں۔حافظ محمد سعید

امیر جماعةالدعوة پاکستان پروفیسر حافظ محمد سعید نے کہا ہے کہ بھارتی فوج نے کشمیریوں پر ظلم و دہشت گردی کی انتہا کر دی۔ حکمران مظلوم کشمیریوں کی آواز سنیں اور اللہ کا حکم سمجھ کر ان کی مدد کریں۔ پاکستان کو مدینہ کی طرز پر اسلامی ریاست بنانے کیلئے فرقہ واریت ختم کرنا ہو گی۔نومنتخب حکومت اس کیلئے واضح لائحہ عمل ترتیب دے۔ مسلمانوں کو باہم لڑانا اور قتل و غارت گری صلیبیوں و یہودیوں کا ایجنڈا ہے۔ ہمیں ملک کو دشمن قوتوں کی سازشوں سے محفوظ رکھنا ہے۔ علماءکرام اور حکومت اپنی ذمہ داریاں ادا کرے۔جامع مسجد القادسیہ میں خطبہ جمعہ کے دوران انہوںنے کہاکہ کشمیر میں روزانہ بے گناہ نوجوانوں کو فرضی جھڑپوں میں شہید کیا جارہا اور ان کی املاک برباد کی جارہی ہیں لیکن کوئی انہیں پوچھنے والا نہیں ہے۔ ایک دن قبل بھی آٹھ کشمیریوں کو شہید کیا گیا ہے۔حکومت کو غاصب بھارتی فوج کی اس ریاستی دہشت گردی پر کسی صورت خاموش نہیں رہنا چاہیے اور تمام بین الاقوامی فورمز پر انڈیا کی ریاستی دہشت گردی کو بے نقاب کرنا چاہیے۔حکمران مظلوموں کی مدد کریں گے تو اللہ تعالیٰ انہیں ملک و قوم کی خدمت کی توفیق سے بھی ضرور نوازے گا۔ انہوںنے کہاکہ مسلمان قیامت تک اگر کسی اسلامی ریاست کو نمونہ کے طور پر پیش کر سکتے ہیں تو وہ مدینہ کی ریاست ہے۔وزیر اعظم عمران خان نے پاکستان کو بھی مدینہ کی طرز پر اسلامی ریاست بنانے کی بات کی ہے۔ یہ بہت شاندار اور عظیم مشن ہے لیکن یہ بات محض ایک سیاسی نعرہ نہیں ہونی چاہیے۔ ہمیں سب سے پہلے یہ دیکھنا ہے کہ اس کے تقاضے کیا ہیں‘ اللہ تعالیٰ نے مدینہ کا کیا تعارف کروایا ہے اورسیرت رسول ﷺ سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے؟۔ اللہ رب العزت نے مدینہ کو جو مقام عطا کیا ہے وہ کسی اور شہرکو نہیں کیا۔ دعوت کا آغاز مکہ سے ہوا لیکن اسلامی ریاست اور نظام کی تشکیل مدینہ میں ہوئی۔ہمیں نبوی منہج کے مطابق اسی دعوت کو دنیا کے سامنے پیش کرنا ہے۔ حافظ محمد سعید نے کہاکہ فرقہ واریت مسلمانوں کیلئے زہر قاتل کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس سے امت مسلمہ کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ ہمیں مسلمانوں کے باہمی لڑائی جھگڑے ختم اور مسلمانوں کو ایک ملت بنانا ہے۔ فقہی اختلافات ہمیشہ سے رہے ہیں لیکن فرقہ واریت کی بنیاد پر شدت نہیں ہونی چاہیے۔ مسلمانوں کا ایک دوسرے کیخلاف فتوے لگا کرقتل و غارت گری کی آگ بھڑکانا اسلامی شریعت میں جائز نہیں ہے۔ فرقہ واریت ختم کئے بغیر اسلامی ریاست تشکیل نہیں دی جاسکتی۔اگرمسلم ملکوں اور جماعتوں میں اسلام کا درد ہے توانہیں فرقہ وارانہ اختلافات کو ترک کرنا ہو گا۔ہمیں اسلام اور مسلمانوں کے دفاع کیلئے بیرونی سازشوں کو سمجھنا ہو گا۔ انہوںنے کہاکہ مسلمانوں کے اسلامی سال کا آغاز محرم سے ہوتا ہے۔اسے ہجری سال کہتے ہیں اورحضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مسلمانوںکے دلوں میں ہجرت اسلامی کی یادزندہ رکھنے کیلئے یہ نظام دیا۔ آج مسلم حکومتوں کو اسلامی کیلنڈرکے مطابق اپنے نظام ترتیب دینے چاہئیں۔ سوچ کے بدلنے سے تبدیلی آتی ہے۔ ہمیں اپنے ملکوں و معاشروں کومضبوط بنیادوں پر کھڑا کرنا ہے تو اس کیلئے اسلامی تعلیمات کوہی بنیاد ہونا چاہیے۔

About Editor

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*