Breaking News
Home / خبریں / پاک انڈیا / بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کیلئے 20ٹن پتھر ایودھیا پہنچائے جانے پر شدید ردعمل
بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کیلئے 20ٹن پتھر ایودھیا پہنچائے جانے پر شدید ردعمل
Babri Masjid

بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کیلئے 20ٹن پتھر ایودھیا پہنچائے جانے پر شدید ردعمل

Babri Masjid

مذہبی و سیاسی جماعتوں کے قائدین نے بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کیلئے 20ٹن پتھر ایودھیا پہنچائے جانے پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہندو انتہاپسند سرکاری سرپرستی میں بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیرکیلئے سازشیں کر رہے ہیں۔ ایودھیا میں پتھر جمع کئے جانے پر حکمرانوں کو کسی صورت خاموش نہیں رہنا چاہیے اور اس مسئلہ کو بین الاقوامی سطح پر اٹھانا چاہیے۔ مسجدیں اللہ کا گھر ہیں ان کی جگہ کچھ اور نہیں بن سکتا۔بی جے پی اور مودی سرکار کی بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کی سازشیں کامیاب نہیں ہوں گی۔ بابری مسجد کی جگہ ان شاءاللہ دوبارہ مسجد ہی تعمیر ہو گی اور اس کے دفاع کیلئے مسلمان ہر قسم کی قربانی دینے کیلئے تیار ہیں۔ان خیالات کااظہار امیر جماعةالدعوة پاکستان پروفیسر حافظ محمد سعید، پروفیسر حافظ عبدالرحمن مکی، امیر جماعت اہلحدیث حافظ عبدالغفارروپڑی، تحریک حرمت رسول ﷺ کے چیئرمین مولانا امیر حمزہ اور متحدہ جمعیت اہلحدیث کے مرکزی رہنما شیخ نعیم بادشاہ نے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوںنے کہاکہ بابری مسجد کا مقدمہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے اس کے باوجود ہندو انتہاپسندوںنے پتھر تراشنے کی فیکٹریاں لگا رکھی ہیں لیکن ہندوستانی عدالتوں کی جانب سے اس کاکوئی نوٹس نہیں لیا جارہا۔ بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کیلئے بی جے پی سرکار نے بھی انتہا پسندوں کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔ مذہبی و سیاسی قائدین نے کہاکہ بھارت میں اس وقت صرف بابری مسجد کی شہادت کا ہی مسئلہ نہیں ہے۔ مسلمانوں پر جھوٹے اور بے بنیاد الزامات لگا کر جگہ جگہ انہیں بدترین تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ہندوستان میں تشدد اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ محض گھر میں گائے کا گوشت رکھنے کی افواہ پھیلا کر فسادات بھڑکائے جاتے ہیں اور مسلمان باپ بیٹے کو زبردستی گھر سے گھسیٹ کا باہر نکالا اور پھر شہید کر دیا جاتا ہے۔ بھارتی مسلمان بہت زیادہ کسمپرسی کی حالت میں ہیں۔ انہوںنے کہاکہ بھارت میں بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کی کوششیں کی جاتی ہیں اور گائے ذبیحہ کے بہانے مسلمانوں کا قتل عام کیا جا رہا ہے تو یہ مسئلہ صرف انڈیا کا نہیں بلکہ اس کا ذمہ دار پاکستان ہے۔ قیام پاکستان کے وقت صرف پنجاب، سرحد، سندھ یا بلوچستان کے لوگوں نے ہی نہیں حیدر آباد دکن، جونا گڑھ اور دیگر علاقوں میں بسنے والے بھارتی مسلمانوں نے بھی پاکستان کے حق میں ووٹ دیے اور قربانیاں پیش کی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے دور حکومت میں مودی سرکار ہندو انتہا پسندوں کو یہ باور کروا رہی ہے کہ کانگریس نے بہت وقت ضائع کیا لیکن ان کی حکومت بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کیلئے بھرپور کوششیں کر رہی ہے۔حکومت پاکستان کو چاہیے کہ وہ بھارتی دہشت گردی کیخلاف تمام بین الاقوامی فورمز پر بھرپور آواز اٹھائے۔ یہ بنیادی حقوق کا مسئلہ ہے۔ اس مسئلہ پر کسی صورت خاموشی اختیا رنہیں کرنی چاہیے۔

About Editor

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*