Breaking News
Home / سوشل میڈیا / اسلام کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں۔ پروفیسر حافظ محمد سعید کا جماعة الدعوة سوشل میڈیا کانفرنس سے خطاب
اسلام کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں۔ پروفیسر حافظ محمد سعید کا جماعة الدعوة سوشل میڈیا کانفرنس سے خطاب
Social Media Conference

اسلام کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں۔ پروفیسر حافظ محمد سعید کا جماعة الدعوة سوشل میڈیا کانفرنس سے خطاب

لاہور( پاک میڈیا اپ ڈیٹس)
امیر جماعة الدعوة پاکستان پروفیسر حافظ محمد سعید نے کہا ہے کہ داعش جیسی تنظیمیں نوجوان نسل کو گمراہ کرنے کیلئے سوشل میڈیا کو بطور ہتھیار استعمال کر رہی ہیں۔ اسلام کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں۔ لوگوں تک دین اسلام کی سچی دعوت پہنچانے کیلئے سوشل میڈیا پربھی اسلامی تعلیمات اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ بیرونی قوتیں مسلمانوں کو آپس میں لڑانے کی خوفناک سازشیں کر رہی ہیں۔فتنہ تکفیر اور خارجیت کو پروان چڑھانے کیلئے بے پناہ وسائل خرچ کئے جارہے ہیں۔دشمنان اسلام کی سازشیں ناکام بنانے کیلئے نظریاتی محاذ پر بھی بھرپور کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ وہ مرکز القادسیہ چوبرجی میں جماعة الدعوة سوشل میڈیاکے تحت دو روزہ سوشل میڈیا کانفرنس کے اختتامی سیشن سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر ملک بھر سے شریک ہونے والے جماعة الدعوة سائبر ٹیم کے ضلعی و تحصیلی ذمہ داران و کارکنا ن موجود تھے۔سوشل میڈیا کانفرنس سے جماعة الدعوة سیاسی امور کے سربراہ پروفیسر حافظ عبدالرحمان مکی،مولانا سیف اللہ خالد، حافظ عبدالرﺅف ، انجینئر نوید قمر،حافظ طلحہ سعید،جماعة الدعوة سائبر ٹیم کے مسﺅل عبدالرحمان سالار،انجینئرمحمد حارث،طہٰ منیب، عبدالرقیب و دیگر نے خطاب کیا۔جماعةالدعوة کے سربراہ حافظ محمد سعید نے نظریہ پاکستان رابطہ کونسل کی ویب سائیٹ کا بھی افتتاح کیا جبکہ اس دوران فیس بک، ٹویٹر اور سوشل میڈیا ایپلی کیشنز کے حوالہ سے ملٹی میڈیا بریفنگ بھی دی گئیں۔کانفرنس کے دوران ٹویٹر پر (#SocialMediaConf)کا ٹرینڈ چلایا گیا جو بائیس گھنٹے تک ٹاپ پر رہا۔ امیر جماعةالدعوة حافظ محمد سعید نے اپنے خطاب میں کہا کہ سوشل میڈیا کے ذریعے پاکستان میں فتنہ تکفیر کو پروان چڑھایا گیا۔ داعش جیسی تنظیموں نے اسلام کا چہرہ مسخ کرنے کی کوشش کی جبکہ جماعةالدعوة اصلاح کی دعوت دینے اور خدمت انسانیت کے ذریعہ دنیا کو اسلام کا اصل چہرہ دکھانے والی جماعت ہے۔ سوشل میڈیا کو معاشروں کی اصلاح اور فرقہ واریت و فتنہ تکفیر کے خاتمہ کیلئے استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوںنے کہاکہ دو قومی نظریہ برصغیر میں قیام پاکستان کی بنیاد بنا تھا جو اب دھندلا پڑ چکا اور لوگوں کے ذہنوں سے محو ہوتا جا رہا ہے۔موجودہ دور میں نظریہ پاکستان کی پہلے سے بھی اشد ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ برصغیر کے حالات پہلے سے اب بہت بہتر ہیں۔کشمیر میں زبردست تحریک جاری ہے جو صرف آزادی کی نہیں بلکہ اب نظریہ پاکستان کے ساتھ وابستہ ہو چکی ہے۔کشمیری مسلمان پاکستان سے رشتہ کیا لاالہ الااللہ کا نعرہ لگاتے ہیں اور یہی حقیقت میں نظریہ پاکستان ہے۔اب یہ نعرہ برصغیر میں عام ہوتا جا رہا ہے۔انڈیا میں بھی پاکستان سے رشتہ کیا لاالہ الااللہ کے نعرے لگ رہے ہیںاور لوگ پاکستان کا جھنڈا بلند کر رہے ہیں۔اس تحریک کا مرکزپاکستان ہے۔یہاں نظریہ پاکستان کے حوالہ سے زبردست تحریک چلاکر انڈیا کے ہر فرد تک پیغام پہنچانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں احیائے نظریہ پاکستان کی تحریک چلانے سے لوگ یکسو ہوں گے۔لسانیت،علاقائیت کے جھگڑے ختم ہوں گے۔حافظ محمد سعید نے کہاکہ جب نظریہ پاکستان کو بھلادیا گیاتو مشرقی پاکستا ن ہم سے الگ ہو گیا۔ہمیں نظریہ پاکستان کو پھر سے پروان چڑھانے کی ضرورت ہے۔پاکستان اسلام کا قلعہ ہے ۔تمام عالم اسلام کی نظریں پاکستان کی طرف ہیں ۔انہوں نے کہا کہ غیر ملکی قوتیں مسلمانوں میں گمراہی پھیلانے کیلئے میڈیا کو بطور ہتھیار استعمال کر رہی ہیں ۔مسلمان فرقوں میں بٹے ہوئے ہیں جس سے اسلام دشمنوں کو فائدہ پہنچ رہاہے ۔میڈیا استعمال کرنے والے لوگ عبادات اور تقویٰ کا خاص خیال رکھیں ۔جماعة الدعوة منہج نبوی ﷺ کی طرف بلانے والی جماعت ہے ۔میڈیا داعش جیسی تنظیموں کو بطور خاص جگہ دے کر ان کی حوصلہ افزائی کرتا ہے ۔دنیا کے سامنے جہاد کا صحیح مفہوم رکھنا ہوگا تا کہ اسلام کے خلاف ہونے والے پروپیگنڈے کا توڑ ہوسکے ۔جماعة الدعوة سیاسی امور کے سربراہ پروفیسر حافظ عبدالرحمان مکی نے کہا کہ جماعة الدعوةنے فتنہ تکفیر کے خلاف پورے پاکستان میںلوگوں کی ذہن سازی کی اور اسلام کا اصل چہرہ دکھا یا ۔اسلام دشمن قوتیں سوشل میڈیاکے ذریعے پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ کرتی ہیں ۔ہم اسلام اور پاکستان کے خلاف ہونے والی سازشوں کے سدباب کی کوششیں کر رہے ہیں ۔پاکستان کے ہونہار طلباءکو اپنی صلاحیتیں دین کے لئے صرف کرنی چاہئیں ۔جماعةالدعوة سائبر ٹیم کے مسﺅل عبدالرحمن سالار نے کہاکہ جماعةالدعوة سوشل میڈیا کے ذریعے اپنی جماعت یا شخصیات کی تشہیر نہیں بلکہ دعوت الی اللہ اور نظریہ پاکستان کے احیاءکیلئے کام کر رہی ہے۔ہندوستان جس قدر مرضی کوششیں کر لے وہ سوشل میڈیا سے اس دعوت کو ختم نہیں کر سکتا۔

About Editor

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*