Breaking News
Home / خبریں / پاکستان / علماءکی تربیت کیلئے دورہ جات کا انعقاد وقت کی اہم ضرورت ہے ۔, دورہ تدریب الدعاة مکمل ہونے پرتقریب
علماءکی تربیت کیلئے  دورہ جات کا انعقاد وقت کی اہم ضرورت ہے ۔, دورہ تدریب الدعاة مکمل ہونے پرتقریب

علماءکی تربیت کیلئے دورہ جات کا انعقاد وقت کی اہم ضرورت ہے ۔, دورہ تدریب الدعاة مکمل ہونے پرتقریب

مذہبی جماعتوں کے قائدین، جید علماءکرام، شیوخ الحدیث اور وکلاءرہنماﺅںنے جماعةالدعوة کی تقریب تقسیم انعامات سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بیرونی قوتیں مسلم معاشروں میں قتل و غارت گری کیلئے فتنہ تکفیر اور داعش جیسی تنظیموں کوپروان چڑھا رہی ہیں۔مسلمانوں پر کفر کے فتوے لگا کر قتل و غارت گری درست نہیں۔ دشمنان اسلام چاہتے ہیں کہ مسلمان فلسطین اور کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کی مددو حمایت کی بجائے اپنے ہی ملکوں میں باہم دست و گریباں ہو جائیں۔ مسلمانوں میں داعش کا فتنہ کھڑا کرنے کیلئے بے پناہ وسائل خرچ کئے جارہے ہیں۔ امت مسلمہ کو اصل حقائق سے آگاہ کرنے اور ان فتنوں سے محفوظ رکھنے کی ضرورت ہے۔بنگلہ دیش میں بھارتی خوشنودی کیلئے اسلام و پاکستان سے محبت رکھنے والوں کو پھانسیاں دی جارہی ہیں۔ حکومت پاکستان او آئی سی اور سلامتی کونسل سمیت ہر فورم پران پھانسیوں کے خلاف آواز بلند کرے‘ خاموشی اختیار کرنا کسی صورت درست نہیں ہے۔علماءکرام مسلم امہ کی رہنمائی اور بیرونی سازشوں کے توڑ کا فریضہ انجام دیں۔ ان خیالات کا اظہارانہوںنے مرکز القادسیہ چوبرجی میںدینی مدارس کے فارغ التحصیل اور یونیورسٹیز کے طلباءکا ایک سالہ دورہ تدریب الدعاة مکمل ہونے پرتقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب سے امیر جماعةالدعوة پاکستان پروفیسر حافظ محمد سعید، حافظ عبدالسلام بن محمد، پروفیسر حافظ عبدالرحمن مکی،علامہ ابتسام الہٰی ظہیر، حافظ عبدالغفار روپڑی، سید ضیاءاللہ شاہ بخاری، جسٹس (ر) عبدالحفیظ چیمہ،پروفیسر ڈاکٹر عبدالغفور راشد،سپریم کورٹ بارکے سیکرٹری جنرل اسد منظور بٹ ،پروفیسر ظفر اقبال، مولانا امیر حمزہ ، مولانا سیف اللہ خالد، قاری یعقوب شیخ، شیخ الحدیث حافظ عبدالستار حماد ،مفتی مبشر احمد ربانی،قاری صہیب احمد میر محمدی ،پروفیسر یوسف عرفان، ڈاکٹر حافظ حسن مدنی،مولانا محمد شمشاد احمد سلفی، انجینئر عبدالقدوس سلفی، مولانا احسان الحق شہباز ،الشیخ عبداللطیف بہاولپوری، حافظ محمد مسعود، مولانا اعجاز احمد تنویر، مولانا ابو ذر زکریا و دیگر نے خطاب کیا۔اس موقع پر ملک بھر سے جید علماءکرام، شیوخ الحدیث، اساتذہ، وکلائ، طلباءاور دیگر شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے افراد کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ایک سالہ دورہ تدریب الدعاة میں 130طلباءاور60طالبات نے شمولیت اختیار کی۔42اساتذہ نے دورہ مکمل کروایا۔اگلے دورہ کیلئے13 شوال کو انٹرویو اورٹیسٹ ہوگا جبکہ15شوال کو نئے دورہ کا آغاز ہو گا۔تقریب کے اختتام پر دورہ تدریب الدعاة مکمل کرنے والے علماءاور طلباءمیں اسناد اور انعامات تقسیم کئے گئے۔ جماعةالدعوة پاکستان کے سربراہ حافظ محمد سعید نے اپنے خطاب میں کہاکہپہلے عبدالقادرملاو دیگر رہنماﺅں کو پھانسیاں دی گئیں اور اب جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے امیر مولانا مطیع الرحمن نظامی کو پھانسی دے دی گئی ہے۔ یہ انتہائی تکلیف دہ امر ہے‘ حکومت پاکستان کو اس مسئلہ پر ہر فورم پر آواز بلند کرنے کا فریضہ انجام دینا چاہیے وگرنہ اس سے مایوسیاں پھیلیں گی۔ انہوںنے کہاکہ بنگلہ دیش کی موجودہ حکومت اس بات سے سخت خوفزدہ ہے کہ لوگ ایک بار پھر نظریہ پاکستان کی بنیادوں پر متحد و بیدار ہو رہے ہیں اور ان کے دلوںمیںبھارت کے خلاف شدید نفرت پیدا ہو رہی ہے۔انڈیا بھی واضح طور پر یہ دیکھ رہا ہے کہ آخر یہ دھوکے اور ظلم و ستم کب تک چلے گا ‘ وہ وقت دور نہیں ہے کہ جب اس خطہ میں اس کے خلاف تحریک مزید زور پکڑے گی اور اس کے گہرے اثرات ختم ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ بنگلہ دیشی حکومت بھار ت سرکار کے اشاروں پر یہ گھناﺅنا کھیل کھیل رہی ہے۔ حافظ محمد سعید نے کہاکہ جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے امیر مطیع الرحمان نظامی کو پاکستان سے محبت کے جرم میں پھانسی دی گئی۔انہیں پھانسی دیے جانے پر پوری پاکستانی قوم میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔حکومت پاکستان او آئی سی اور سلامتی کونسل سمیت ہر فورم پران کی پھانسی کے خلاف آواز بلند کرے‘ خاموشی اختیار کرنا کسی صورت درست نہیں ہے۔ ہمیں اپنے ان محسنوں کی قدر کرنی چاہئے ۔ بھارتی شہ پر پاکستان سے محبت کرنے والوں کو پھانسیاں دی جارہی ہیں۔انہوںنے کہاکہ بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی قائدین کی پھانسیوں پر ملک بھر کی مذہبی و سیاسی جماعتوں کو متحد ہو کرحکومت پر دباﺅ بڑھانا چاہیے کہ وہ اس ظلم و بربریت پر خاموشی اختیار نہ کرے بلکہ بنگلہ دیش کو اس ظلم سے روکا جائے۔انہوںنے کہاکہ بنگلہ دیش میں جن قائدین کو پھانسیاں دی گئیں ان کا جرم صرف یہ تھا کہ جب بھارت نے اگر تلہ سازش کے تحت مجیب الرحمن جیسے غداروں کو کھڑ اکیااور مشرقی پاکستان پر باقاعدہ فوج کشی کی تو ان بزرگوںنے دفاع پاکستان کیلئے پاک فوج کے ساتھ مل کر بھارتی فوج کا مقابلہ کیاتھا۔ آج بنگلہ دیش پر اسی مجیب الرحمن کی بیٹی کی حکومت ہے جو اپنے باپ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے پاکستان کا نام لینے والوں کو جیلوں میں ڈال رہی ہے اوربھارت کی ہمنوا بن کر انہیں پھانسیاں دی جارہی ہیں۔ انہوںنے کہاکہ بیرونی قوتیں پاکستان میں بدامنی کا ماحول پیدا کر رہی ہیں۔ منظم منصوبہ بندی کے تحت فرقہ وارانہ قتل و غارت گری اور علاقائیت کو پروان چڑھانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ مسلمانوں پر کفر کے فتوے لگا کر قتل و غارت گری سے بیرونی قوتوں کو سازشوں کے مواقع مل رہے ہیں۔ ملک میں اتحاد و یکجہتی کا ماحول پیدا کرکے دشمنوں کی سازشوں کو ناکام بنانے کی ضرورت ہے۔ جماعة الدعوة فرقہ واریت کے خاتمہ کیلئے ملک میں اتحاد و یکجہتی کیلئے کوششیں کر رہی ہے۔جماعةالدعوة پاکستان کے مرکزی رہنما حافظ عبدالسلام بن محمد نے کہاکہ علماءکرام انبیاءکے وارث ہیں۔ کتاب و سنت کا خالص نبوی منہج رکھنے والے لوگ اخلاص کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ آج کی دنیا میںاللہ کے دین کو پیش کر کے فتنوں کا علاج کرنے کی ضرورت ہے۔ نبی اکرم ﷺ کی سیرت پر عمل کر کے ہی یہ کام کیا جاسکتا ہے۔ جماعة الدعوة سیاسی امور کے سربراہ پروفیسر حافظ عبدالرحمان مکی نے کہا کہ ہم نے دورہ تدریب الدعاة میں ایسے نوجوان تیار کئے ہیں جو مسلمانوںکو اتحاد امت کی دعوت دیں گے اور فرقہ واریت کا راستہ روکیں گے۔پاکستان کو لبرل بنانے کی کوششیں اوربھارت سے دوستی وتجارت یہ سب کچھ امریکہ کی شہ پر ہو رہا ہے۔انہوںنے کہا کہ ایسے علماءکرام کی اشد ضرورت ہے جو سوئی ہوئی قوم کو جگائیں۔ہمیں اللہ نے اسلام کے ذریعے عزت دی۔جمعیت اہلحدیث پاکستان کے ناظم اعلیٰ علامہ ابتسام الہٰی ظہیر نے کہاکہ ایک عالم کو دانا اور حکمت کا حامل ہونا چاہیے۔ ان میں تفرقہ اور انتشار پیدا کرنے کی سوچ نہیں بلکہ اتحادویکجہتی کا ماحول پیدا کرنے کا جذبہ ہونا چاہیے۔ جسٹس(ر) عبدالحفیظ چیمہ نے کہا کہ ملک میں پڑھایا جانے والاتعلیمی نصاب اسلام کے بارے میں کنفیوژن پیدا کر رہا ہے۔مرکز القادسیہ میں ہونے والے دورہ تدریب الدعاة کا نصاب اور نظام تعلیم بہترین ہے۔اسے قومی سطح پر شروع کیا جائے تو زیادہ بہتر اثرات مرتب ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے آئین میں درج ہے کہ اسلام کے خلاف کوئی قانون نہیں بن سکتا مگر سوسائٹی کو دیکھیں تو اسلام کی دھجیاں بکھرتی نظر آتی ہیں اور قانون خاموش ہے۔انہوںنے کہاکہ جماعة الدعوة کے مختلف شعبہ جات میں کام کو دیکھ کو دل خوش ہوتا ہے۔امیر جماعت اہلحدیث حافظ عبدالغفار روپڑی نے کہاکہ علماءکی تربیت کیلئے ایسے دورہ جات کا انعقاد وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ نوجوانوں کی دینی بنیادوں پر تربیت کی جائے تو وہ مستقبل میں سیاست، معیشت اور زندگی کے دوسرے شعبہ جات میں بہترین کردار ادکر سکیں گے۔متحدہ جمعیت اہلحدیث پاکستان کے امیر سید ضیاءاللہ شاہ بخاری نے کہاکہ ملک میں موجود فتنوں سے نمٹنے کا راستہ اتحادویکجہتی میں ہے۔ یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ جماعة الدعوة کے کسی کاکارکن نے کبھی بھی آئین و قانون کو ہاتھ میں نہیں لیا،اتنی بڑی تعداد میں نوجوان ہونے کے باوجود آئین پاکستان کی پاسداری خوش آئند ہے۔مرکزی جمعیت اہلحدیث کے مرکزی رہنما پروفیسر ڈاکٹر عبدالغفور راشد نے کہا کہ اسلامی ریاست کا دعویٰ کرنے والے ملک بنگلہ دیش میں اسلام اور پاکستان سے محبت کے جرم میں پھانسیا ں دی گئیںاور اس پر دنیائے اسلام خاموش ہے جو کہ لمحہ فکریہ ہے۔جماعة الدعوة کی طرف سے دورہ تدریب الدعاة کا انعقاد قابل تحسین ہے۔معاشرے میں عملی طور پر دین کا کام زیادہ کرنے کی ضرورت ہے۔سپریم کورٹ بار کے سیکرٹری جنرل اسد منظور بٹ نے کہا کہ تعلیم کا حصول رضائے الہیٰ ہونا چاہئے۔ہمارا ماضی گواہ ہے کہ جب تک حکمران،والدین قر آن و سنت کے مطابق تربیت و رہنمائی کرتے رہے ہم نے دنیا پر حکمرانی کی مگر افسوس کہ آج کفار کا مسلمانوں پر غلبہ ہے پاکستا ن اسلام کے نام پر بنا تھا ہم نے اسے اسلامی پاکستان بنانا ہے۔جماعة الدعوة کے مرکزی رہنما مولانا امیر حمزہ نے کہا کہ حصول علم کے لئے ادب کو ملحوظ خاطر رکھنا انتہائی ضروری ہے اور ہمیشہ وہی لوگ کامیاب ہوتے ہیں جو ادب کرتے ہیں۔صحابہ کرام نبی کریم ﷺ کا ہمیشہ ادب کیا کرتے تھے۔جماعة الدعوة کے مرکزی رہنما مولانا سیف اللہ خالد نے کہا کہ ایک سال قبل دورہ تدریب الدعاة کا آغاز کیا گیاجس میں ملک بھرکے مختلف دینی مدارس سے فارغ التحصیل اور ملک کی نامور یونیورسٹیز کے طلباءکو ٹیسٹ و انٹرویو کے بعد داخلہ دیا گیا ۔اس دورہ کے ان شاءاللہ دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ نظریہ پاکستان رابطہ کونسل کے کنوینر اور جماعةالدعوة کے مرکزی رہنما قاری یعقوب شیخ نے کہاکہ علم کا حصول بہت ضروری ہے۔ علماءاور طلباءدین اسلام کیخلاف سازشوں کے توڑ کا فریضہ سرانجام دیں۔ دورہ تدریب الدعاة کے ان شاءاللہ دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ نامور دانشور اور کالم نگار پروفیسر یوسف عرفان نے کہا کہ تعلیمی نظام قرآن و سنت کے مطابق ہونے سے معاشرہ مضبوط ہو گا اور اندرونی فسادات کا بھی خاتمہ ہو گا۔ معروف عالم دین قاری صہیب احمد میر محمدی نے کہا کہ علم ایک ایسی روشنی کا نام ہے کہ اس سے صرف انسان کی شخصیت ہی نہیں بلکہ گھر،خاندان،معاشرہ،قوم روشن ہو جاتی ہے۔ عزت ہمیشہ اسلام سے ہی ملتی ہے ۔شیخ الحدیث حافظ عبدالستار حماد اور دیگر رہنماﺅںنے کہا کہ ہمیں نوجوان نسل کی تربیت اس انداز میں کرنا ہے کہ وہ مغربی تہذیب اور سازشوں کا مقابلہ کر سکیں۔

About Editor

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*