Breaking News
Home / خبریں / صحت / پاکستانی ڈاکٹرز بھی میڈیکل سائنس کے شعبہ میں نمایاں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ امیر جماعةالدعوة
پاکستانی  ڈاکٹرز بھی میڈیکل سائنس کے شعبہ میں نمایاں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ امیر جماعةالدعوة

پاکستانی ڈاکٹرز بھی میڈیکل سائنس کے شعبہ میں نمایاں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ امیر جماعةالدعوة

امیر جماعةالدعوة پاکستان پروفیسر حافظ محمد سعید نے کہا ہے کہ مسلم ملکوں کا باہم اتحاد دیکھ کر صلیبی و یہودی سخت پریشان ہیں۔سعودی عرب اور پاکستان کو نقصانات سے دوچار کرنے کی سازشیں کی جارہی ہیں۔ صلیبی و یہودی داعش کو خطرنا ک ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہے ہیں ۔ داعش اندرونی اختلافات کے سبب تیزی سے غیر موثر ہو رہی ہے۔ منظم منصوبہ بندی کے تحت عالم اسلام میںفرقہ وارانہ مسائل کھڑے کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔پاکستانی سائنسدانوں کی طرح ڈاکٹرز بھی میڈیکل سائنس کے شعبہ میں نمایاں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ہم نے اپنی ترجیحات طے کرنا اوردنیا کو تبدیل شدہ نصاب اور نظام دینا ہے۔ میڈیکل کے شعبہ میں اسلامیت کو نمایاںکرنے کی ضرورت ہے۔ وہ مسلم میڈیکل مشن کے زیر اہتمام ایوان اقبال میں دوروزہ میڈیکل کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔
Medical
اس موقع پر پروفیسر ڈاکٹر جاوید اکرم،پروفیسر ڈاکٹر جنید سرفراز خان،پروفیسر ڈاکٹر ظفر اقبال چوہدری،پروفیسر ڈاکٹر خالد مسعود گوندل،پروفیسر ڈاکٹرعمر علی خان،پروفیسر خالد حسن قریشی،پروفیسر ڈاکٹرمنصور علی خان،پروفیسر ڈاکٹرامیر علی خان،پروفیسر ڈاکٹرافتخار حسین،پروفیسر ڈاکٹرغلام مصطفیٰ آرائیں،اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر امیر حسین بندیشہ،پروفیسر ڈاکٹرعمر علی خان،مولانا سیف اللہ خالد، حافظ عبدالرﺅف،حافظ محمد مسعود ،حافظ طلحہ سعید،ڈاکٹر ناصر ہمدانی و دیگر نے بھی خطاب کیا۔ کانفرنس میں سرکاری اور غیر سرکاری اداروں سے وابستہ ڈاکٹرز، پروفیسرز، سرجنز اور میڈیکل کے شعبہ سے وابستہ طلباءکی کثیر تعداد نے شرکت کی۔اس موقع پرمختلف سیشنز میں شعبہ طب سے متعلق کرنٹ افیئرز‘آرتھو پیڈک کے پیچیدہ مسائل، بیسک لائف سپورٹ اوردیگر اہم موضوعات پر سائنٹیفیک سیشنز کا انعقاد کیا گیا۔میڈیکل کانفرنس میں خواتین ڈاکٹرز نے بھی شرکت کی جن کیلئے پردہ کے الگ سے انتظامات کئے گئے تھے۔ جماعةالدعوة کے سربراہ حافظ محمد سعیدنے اپنے خطاب میں کہاکہ ہم نے مغربی غلامی کا طوق گلے سے اتارنا ہے۔ میڈیکل کے شعبہ میں جو رہنمائی ہمیں اسلامی شریعت سے ملتی ہے ہم نے اس کے مطابق کام کرنا ہے۔ ہمیں ایسے ادارے قائم کرنے چاہئیں جن سے ہم نوجوان نسل کی ذہن سازی کر سکیں۔ پورے معاشرے میں اس کے گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ اس کیلئے ڈاکٹرز حضرات کو مل بیٹھ کر سوچنا چاہیے۔ اگر پاکستانی سائنسدان ایٹمی و میزائل ٹیکنالوجی میں دنیا میں اپنا لوہا منوا سکتے ہیں تو ہمارے ڈاکٹرز کو بھی اللہ تعالیٰ نے ایسی صلاحیتوں سے نواز رکھا ہے کہ میڈیکل سسٹم میں اسلامی اعتبار سے جو خرابیاں پائی جاتی ہیں ان کی اصلاح کرنی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ میڈیکل سائنس میں مسلمانوںنے بہت کام کیا ہے۔ ہمیں اپنی ترجیحات طے کرنی چاہئیں۔بچوں کو مغرب کا نصاب نہیں پڑھانابلکہ اپنے نصاب ترتیب دینا ہیں۔ انہوںنے کہاکہ ہمیں فرقوں اور پارٹیوں کے نہیں اسلام کے نمائندے بن کر کھڑے ہونا ہے۔ ہمیں اس دورکو سامنے رکھنا ہے کہ جب مغرب بھٹک رہا تھا اور مسلمان میڈیکل سائنس کے شعبہ کی قیادت کر رہے تھے۔ ہمیں اپنے قدموں پر کھڑا ہونا ہے۔ مغرب نے ہر چیز میں حرام شامل کر دیا ہے ہم نے حلا ل کو میڈیکل سائنس میں استعمال کرنا اور دنیا کوتبدیل شدہ نصاب اور نظام دینا ہے۔ اس کیلئے ہمیں سر جوڑ کر بیٹھنا ہے کہ ہم نے اسلامیت کو اس شعبہ میں لانے کیلئے کیا کردار اداکر نا ہے۔جب ہم خلوص نیت سے اس سلسلہ میں محنت کریں گے تو اللہ تعالیٰ آسمانوں سے رحمیتیں و برکتیں نازل کرے گا۔ انہوںنے کہاکہ عالم اسلام کا رخ مغرب کی بجائے ہمارے علاقہ کی طرف ہو رہاہے۔ 34مسلم ملکی اتحادکے قیام میں سعودی عرب اور پاکستان کا نمایاں کردار ہے۔ دنیا سے مسلمانوں کی غلامیاں ختم کرنے کیلئے بہت بڑی بنیاد بن رہی ہے یہی وجہ ہے کہ آج امریکہ نائن الیون کے پندرہ سال بعد اس کا ذمہ دار سعودی عرب کو ٹھہرانے کی کوششیں کر رہا ہے لیکن اللہ کے فضل و کرم سے حالات بہت تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں۔ مسلم ملکوں کا باہم اتحاد مضبوط ہو رہا ہے۔وہ اپنے معاشی اور دفاعی نظام تشکیل دینے کا سوچ رہے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ سعودی عرب کی طرف سے یہ کہنا کہ وہ اپنی معیشت کا انحصار تیل پر سے ختم کر رہے ہیں تو یہ بہت بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ہے۔ان حالات میں ڈاکٹرز سمیت تمام شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے افراد کو اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہے۔ مسلم میڈیکل مشن کو مشنری جذبہ کے تحت کام کرنا چاہیے۔ حافظ محمد سعید نے کہاکہ شام میں اگرچہ روس کی بمباری سے بہت نقصانات ہورہے ہیں لیکن اس کے باوجود شام کے مظلوم مسلمانوں کے حوصلے بلند ہیں۔ داعش کے اندر اختلافات بہت گہرے ہور ہے ہیں اور وہ غیر موثر ہو رہی ہے۔انہوںنے کہاکہ مغرب کا دورجو صلیبی جنگوں کے بعد شروع ہوا تھا اور مغرب نے وسائل و اقتدار قبضے میں لے کرقوموں کو غلام بنایا تھا اب وہ ختم ہو رہا ہے۔کمیونزم،سرمایہ دارانہ نظام کے بعد اسلام کے سوا کوئی ایسا نظام نہیں جو باقی رہ سکے۔اب اسلام قوت کے ساتھ کھڑا ہو رہا ہے۔اسی بات کی مغرب کو فکر ہے۔بین الاقوامی سطح پر مسلمانوں کے خلاف پالیسیاں بنائی جا رہی ہیں۔مسلم میڈیکل مشن کے صدر پروفیسر ڈاکٹر ظفر اقبال چوہدری نے کہاکہ بلوچستان، شمالی علاقہ جات و دیگربہت سے علاقوںمیں لوگ ابتدائی طبی سہولیات سے بھی محروم ہیں۔ ڈاکٹرز اپنے دلوں میں خدمت خلق کا جذبہ پیدا کریں۔ یہ ہماری اسلامی ذمہ داری ہے۔ ہمیں کسی کو حقیرنہیں سمجھنا چاہیے۔پروفیسر ڈاکٹر جاوید اکرم،پروفیسر ڈاکٹر جنید سرفراز خان،پروفیسر ڈاکٹر ظفر اقبال چوہدری،پروفیسر ڈاکٹر خالد مسعود گوندل،پروفیسر ڈاکٹرعمر علی خان،پروفیسر خالد حسن قریشی،پروفیسر ڈاکٹرمنصور علی خان،پروفیسر ڈاکٹرامیر علی خان،پروفیسر ڈاکٹرافتخار حسین،پروفیسر ڈاکٹرغلام مصطفیٰ آرائیں،اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر امیر حسین بندیشہ،پروفیسر ڈاکٹرعمر علی خان،مولانا سیف اللہ خالد، حافظ عبدالرﺅف،حافظ محمد مسعود ،حافظ طلحہ سعید،ڈاکٹر ناصر ہمدانی و دیگر نے کہاکہ اللہ تعالی نے غریب مریضوں کی خدمت کرنے میں بہت زیادہ سکون و اطمینان رکھا ہے۔ وہ طبقے جو معاشرے میں بہت موثر ہوتے ہیں ان میں سے ایک ڈاکٹرز کا بھی ہے ،ڈاکٹر کا احترام ہر دل میں موجود ہے ۔اگر امت کی اصلاح کی بات ڈاکٹرکردار کے ساتھ اداکریں تو بہت بڑی تبدیلی آ سکتی ہے۔ فلاح انسانیت فاﺅنڈیشن کے رہنما ڈاکٹر ناصر ہمدانی نے کہاکہ فلاح انسانیت فاﺅنڈیشن کے ملک بھر میں 11 ہسپتال چل رہے ہیں ۔بلوچستان میں ہم تعلیم و صحت کے بڑے منصوبہ جات پر کام کر رہے ہیں۔انہوںنے کہاکہ ہم پورے ملک میں امدادی سرگرمیوں کا سلسلہ وسیع پیمانے پر جاری رکھیں گے۔

About Editor

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*