Breaking News
Home / کالم / حبیب اللہ سلفی / لاہور سے اسلام آباد تک تاریخی کشمیر کارواں اختتام پذیرتحریر: حبیب اللہ سلفی
لاہور سے اسلام آباد تک تاریخی کشمیر کارواں اختتام پذیرتحریر: حبیب اللہ سلفی

لاہور سے اسلام آباد تک تاریخی کشمیر کارواں اختتام پذیرتحریر: حبیب اللہ سلفی

تحریک آزادی جموں کشمیر کے زیر اہتمام لاہور سے اسلام آباد تک کشمیر کارواں اختتام پذیر ہو چکا ہے۔تاریخی نوعیت کے اس عظیم الشان کارواں میں طلبائ، وکلاء اور تاجروں سمیت زندگی کے تمامتر شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے لاکھوں افراد نے شرکت کی اور مظلوم کشمیری بھائیوں سے یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔ چند دن قبل تک اس بات کی بہت زیادہ شدت محسوس کی جارہی تھی کہ مقبوضہ کشمیر میں لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل کر احتجاج کر رہے ہیںاور اپنے سینوں پر گولیاں کھاتے ہوئے کشمیر کے گلی کوچوں میں سبز ہلالی پرچم لہرارہے ہیں تو پاکستان میں بھی یہ صورتحال ضرور نظر آنی چاہیے۔ بلاشبہ یہ کمی جماعةالدعوة کے سربراہ حافظ محمد سعید اور ان کی جماعت نے پوری کی ہے۔
تین دن کے مختصر وقت میں جس طرح کارواں کے انعقاد کی تیاری کی گئی اور پھر لاہور سے اسلام آباد تک عوام کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے سڑکوں پر امڈ آیایہ فقید المثال جذبہ اپنی مثال آپ ہے۔ 19جولائی کو مسجد شہداء مال روڈ سے کارواں کا آغاز ہوا تو لاہور اور اس کے گردونواح سے آنے والے شہریوں کی بہت بڑی تعداد موجود تھی۔ سخت گرمی اور حبس کے باوجود لوگ اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کے ہمراہ مال روڈ پہنچے اور کارواں میں شریک ہوئے۔ کارواں کے شروع ہونے پر مال روڈ پر تاحد نگاہ لوگوں کا جم غفیر دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا تھا کہ شاید شہر سے باہر نکلنے پر یہ تعداد کم ہو جائے گی لیکن نماز ظہر کی ادائیگی او رقائدین کے مختصر خطابات کے بعد ہزاروں بسوں، گاڑیوں اورموٹر سائیکلوں پر مشتمل یہ کارواں جوں جوں آگے بڑھتا گیا لوگ اس میں شامل ہوتے رہے۔


مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظلم و دہشت گردی کیخلاف اور کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے نکالے گئے اس کشمیرکارواں کے شرکاء جب شاہدرہ سے ہوتے ہوئے کالا شاہ کاکو انٹرچینج پہنچے تو شیخوپورہ، فیصل آباد اور گردونواح کے علاقوں سے کارواں میں شامل ہونے کیلئے آنے والے ہزاروں افراد وہاں پہلے سے موجود تھے جن کی کارواں میں شمولیت پر جی ٹی روڈ پر رینگنے والا یہ قافلہ کئی کلومیٹر تک پھیل گیا اور قرب و جوار کے علاقے کشمیریوں سے رشتہ کیا’ لاالہ الااللہ ، سید علی گیلانی، حافظ محمد سعید قدم بڑھائو ہم تمہارے ساتھ ہیں اور کشمیر بنے گا پاکستان کے فلک شگاف نعروں سے گونجتے رہے۔ کارواں کے شرکاء جب مریدکے، سادھوکی، کامونکی اور موڑ ایمن آباد سے ہوتے ہوئے گوجرانوالہ لاری اڈہ پہنچے تو وہاں جماعةالدعوة کی مقامی قیادت کی جانب سے ایک بڑے جلسہ عام کا انعقاد کیا گیا تھا۔یہ شہر اس حوالہ سے پہلے ہی بہت زرخیز ہے۔
کشمیریوں کی بڑی تعداد اس شہر میں آبادہے اور مقبوضہ کشمیر میں شہادتیں پیش کرنے والے نوجوانوں کی سب سے زیادہ تعداد بھی اسی گوجرانوالہ کی ہے اس لئے یہاں شہداء کے ورثاء کی کثیر تعداد سمیت ہزاروں افراد نے شرکاء کا زبردست استقبال کیا اور روایتی مہمان نوازی کامظاہرہ کرتے ہوئے کارواںمیں شامل افراد میں دودھ کی بوتلیں تقسیم کی گئیں۔اسی طرح شاہدرہ، مریدکے و دیگر مقامات کی طرح یہاں بھی قائدین اور عوام پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کی جاتی رہیں۔لاری اڈہ مین جی ٹی روڈ پر ڈیڑھ گھنٹہ جاری رہنے والے جلسہ عام کے اختتام پر اہالیان گوجرانوالہ جب اس کارواں کا حصہ بنے توشرکاء کی تعدادلاکھوں تک پہنچ چکی تھی۔یوں تحریک آزادی جموں کشمیر کا یہ کارواں حافظ محمد سعید اور دیگر رہنمائوں کی قیادت میں وزیر آباداور گکھڑ سے ہوتا ہوا جی ٹی ایس چوک گجرات پہنچا جہاں قائدین کے مختصر خطابات ہوئے اور پھر اس قافلہ نے لالہ موسیٰ اور کھاریاں کی طرف سفر شروع کر دیا۔ گجرات میں بھی کارواں کا شاندار استقبال کیا گیا اور یہاں سے بھی لوگوں کی کثیر تعداد کارواں میں شامل ہوئی۔
نماز مغرب اور عشاء شرکاء نے راستہ میں پڑھی ۔ لاکھوں لو گ رات کی تاریکی میںجب جہلم کے قریب پہنچے تو سرائے عالمگیر سے جہلم تک سڑک کے دونوں اطراف مساجد، پٹرول پمپس، بڑے شادی ہالز، اسکولوں اور دیگر کھلے مقامات پر انہوںنے رات گزاری۔ صبح نماز فجر کے بعد طے شدہ پروگرام کے تحت قافلہ دوبارہ منظم ہونا شروع ہوا اور ٹھیک چھ بجے جہلم پل پر حافظ محمد سعید نے دیگر قائدین کے ہمراہ دعاکروائی اور اسلام آبادکی جانب کارواں کا آغاز کر دیا گیا۔ اس موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے۔ جماعةالدعوة کے تین ہزار سے زائد رضاکاروں نے سکیورٹی کے فرائض سرانجام دیے جو شرکاء کو اپنے حصار میں لیکر آگے بڑھتے رہے۔ سکیورٹی کے حوالہ سے سی سی ٹی وی لگے کیمروں والی گاڑیاں خصوصی طور پر تیار کی گئی تھیں جن کے ذریعہ کارواں کو مکمل طور پر مانیٹر کیا جاتا رہا۔ کشمیر کارواں کے موقع پر فلاح انسانیت فائونڈیشن کے چیئرمین حافظ عبدالرئوف اور ان کی ٹیم بھی متحرک دکھائی دی۔ ایف آئی ایف کی طرف سے ایک ہزار سے زائد رضاکاروں کی کارواں کے شرکاء کو کھانا کھلانے کی ڈیوٹی لگائی گئی تھی ۔ شاہدرہ سے لیکر راولپنڈی پہنچنے تک حافظ عبدالرئو ف خود اپنی نگرانی میں لوگوں کاکھانا کھلانے کے عمل کی نگرانی کرتے رہے۔

کشمیر کارواں کے دینہ پہنچنے پر میر پور ودیگر علاقوں سے آزاد کشمیرکے شہری بھی کثیر تعداد میں قافلہ میں شامل ہوئے۔ روات سے آگے ٹی چوک کے قریب شرکاء کو کھانا کھلایا گیا ، انہوںنے ظہر و عصر کی نمازیں جمع کیں اور راولپنڈی کمیٹی چوک کی جانب روانہ ہوئے جہاں جلسہ کے انتظامات کئے گئے تھے۔ اس دوران خاص بات یہ تھی کہ جماعت اسلامی کے امیر سینیٹر سراج الحق ، متحدہ جہاد کونسل کے چیئرمین سید صلاح الدین،شیخ جمیل الرحمن و دیگر قائدین بھی کارواں میں شامل ہو گئے۔ راولپنڈی میں جلسہ کے بعد کارواں کا آخری پڑائو کشمیر ہائی وے سرینا چوک تھا جہاں اختتامی جلسہ عام کا انعقادکیا گیا۔
لاکھوں لوگ جب یہاں پہنچے تو کشمیر ہائی وے تنگی داماں کا شکوہ پیش کرنے لگا۔ لوگ اپنی بسوں اور گاڑیوں کو چھوڑ کر کشمیر ہائی وے پہنچے لیکن اس کے باوجود اسٹیج سے شرکاء اجتماع کا آخری سرا دکھائی نہیں دیتا تھا۔ مذکورہ جلسہ اس لحاظ سے انتہائی کامیاب تھا کہ یہاں ملک بھر کی مذہبی و سیاسی جماعتوں کے علاوہ طلبائ، وکلائ، تاجروں و سول سوسائٹی سے وابستہ اہم شخصیات عسکری ماہرین ، متحدہ جہاد کونسل اور آل پارٹیز حریت کانفرنس کے رہنمائوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
تمام مکاتب فکر اور شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات کی بھرپور نمائندگی کی وجہ سے کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کا بھرپور مظاہرہ دیکھنے میں آیا۔ اس موقع پر جماعةالدعوة کے سربراہ اور کشمیرکارواں کے روح رواں پروفیسر حافظ محمد سعید نے اپنے خطاب کے دوران کشمیر ی قیادت کو اپنے دائیں بائیں کھڑا کیا اور واضح طورپراعلان کرتے ہوئے کہاکہ بھارت اپنی آٹھ لاکھ فوج کشمیر سے نکالے اور سید علی گیلانی کے چارنکاتی فارمولہ کو تسلیم کرے۔ اگر ہندوستان کشمیر میں ظلم و ستم بند نہیں کرتا تو ہم اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ مل کر کنٹرول لائن کو پائوں تلے روندیں گے اور آزادی کشمیر کیلئے جو کچھ بھی کرنا پڑا کریں گے۔
ہم سیز فائر لائن کو کنٹرول لائن تسلیم نہیں کرتے۔ ہر کشمیری کو پاکستان آنے اور پاکستان میں بسنے والے کشمیریوں کو مقبوضہ کشمیر جانے کا حق حاصل ہے۔محض یوم سیاہ کااعلان کافی نہیں۔ انڈیا سے ہر قسم کے تعلقات پر سیاہ لائن کھینچ وی جائے۔ہمیں آلو پیازکی تجارت نہیں کشمیریوں کے حقوق چاہئیں۔انہوںنے کہاکہ محض یوم سیاہ منانا کافی نہیں ہے اگر یہ سب کچھ اشک شوئی کیلئے نہیں ہے تو ہندوستان سے تجارت و ثقافت سمیت ہر قسم کے تعلقات پر سیاہ لائن کھینچی جائے۔ وزیر اعظم نواز شریف فوری فیصلے کریں۔جب مشرقی پاکستان کا سقوط ہوا تو زبردستی سیز فائرلائن کو کنٹرول لائن میں تبدیل کیا گیا اگراسلام آباد سنجیدہ ہے تو ان مجبوری کے معاہدوں کی کوئی حیثیت نہیں، نہ تو یہ بارڈر لائن اور نہ ہی کنٹرول لائن ہے۔
ہر کشمیری کو پاکستان آنے اور لاکھوں پاکستانی کشمیریوں کو مقبوضہ کشمیر جانے کا حق حاصل ہے۔ان کے خطابات کے دوران لاکھوں شرکاء میں زبردست جو ش وخروش دیکھنے میں آیااور اس دوران حافظ محمد سعید قدم بڑھائو ہم تمہارے ساتھ ہیں کے زوردارنعرے لگائے جاتے رہے۔ کارواں سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ برہان وانی کی شہادت نے قوم کو نیا جذبہ دیا ہے۔
کشمیری پاکستان کے لئے لڑتے ہیں لیکن پاکستان کے حکمران مودی کے ساتھ تجارت اور تحفے بھیجنے کی خواہاں ہے۔پاکستان کے اندر ایک انڈین لابی ہے جنہوں نے دہلی کو اپنا قلعہ بنارکھا ہے۔ ہم ا علان کرتے ہیں ایسی حکومت قابل قبول نہیں جو کشمیریوں کے لئے آواز نہ اٹھائے،مجھے وقت کا صلاح الدین،غزنوی،محمد بن قاسم چاہئے۔
اسلام آباد سے سید علی گیلانی،شبیر شاہ،یاسین ملک و دیگرکو پیغام دیتا ہوں کہ اگر حکومت سوئی ہے تو بیس کروڑ عوام آپ کی پشت پر کھڑی ہے ۔کشمیر کارواں سے صاحبزادہ ابوالخیر زبیر، سید صلاح الدین، شیخ رشید، حافظ عبدالرحمن مکی، غلام محمد صفی، پیر سید ہارون علی گیلانی، شیخ جمیل الرحمن ، مولانا فضل الرحمن خلیل ، عبداللہ گل ، سید ضیاء اللہ شاہ بخاری، مولانا امیر حمزہ، قاری یعقوب شیخ اور دیگر قائدین نے بھی خطاب کیا۔جلسہ عام سے حافظ عبدالرحمن مکی، غلام محمد صفی اور پیر سیدہارون علی گیلانی کے خطابات کو بہت زیادہ پسند کیا گیا۔شرکا ء نے سجادہ نشیں حضرت میاں میر پیرسیدہارون گیلانی کو مجاہد قرار دیا اور ان کے خطاب کے بعد سبھی قائدین ان سے گلے مل کر مبارکباد پیش کرتے رہے۔ تحریک آزادی جموں کشمیر کا لاہور سے اسلام آباد تک کشمیر کارواں ہر لحاظ سے انتہائی کامیاب تھا۔ اس کے یقینا تحریک آزادی پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے اور پوری دنیاکو مضبوط پیغام جائے گا کہ پوری پاکستانی قوم اپنے کشمیریوں بھائیوں کے ساتھ ہے اور انہیں غاصب بھارتی فوج کے ظلم و بربریت سے نجات دلانے کیلئے ہر قسم کی قربانی پیش کرنے کیلئے تیار ہے۔

About Editor

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*