Breaking News
Home / خبریں / پاک انڈیا / نریندر مودی بلوچستان کی باتیں کر کے کشمیر میں جاری بھارتی ریاستی دہشت گردی چھپانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔, دفاع پاکستان کونسل
نریندر مودی بلوچستان کی باتیں کر کے کشمیر میں جاری بھارتی ریاستی دہشت گردی چھپانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔, دفاع پاکستان کونسل

نریندر مودی بلوچستان کی باتیں کر کے کشمیر میں جاری بھارتی ریاستی دہشت گردی چھپانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔, دفاع پاکستان کونسل

دفاع پاکستان کونسل کے مرکزی قائدین نے کہاہے کہ نریندر مودی بلوچستان کی باتیں کر کے کشمیر میں جاری بھارتی ریاستی دہشت گردی چھپانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ بلوچستان و آزاد کشمیر پرامن علاقے جبکہ کشمیر میں آٹھ لاکھ بھارتی فوج نے ظلم و دہشت گردی کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ بی جے پی سرکار پروپیگنڈا کے ذریعہ دنیا کی آنکھوںمیں دھول جھونکنے میں کامیاب نہیں ہو سکتی۔ مودی حکومت کشمیر ہاتھ سے نکلتا دیکھ کر پاکستان کیخلاف الزام تراشیاں کر رہی ہے۔بھارتی وزیر اعظم کا بلوچستان سے متعلق بیان وہاں دہشت گردی کی آگ بھڑکانے کا اعتراف جرم کرنے کے مترادف ہے۔ انڈیا بلوچستان میںتخریب کاری و دہشت گردی کے ذریعہ مشرقی پاکستان کی تاریخ دہرانا چاہتا ہے لیکن وہ کسی غلط فہمی میں نہ رہے یہ 71ءوالا پاکستان نہیں ہے۔ان خیالات کا اظہار دفاع پاکستان کونسل کے چیئرمین مولانا سمیع الحق، پروفیسر حافظ محمد سعید، سردار عتیق احمد خاں،لیاقت بلوچ، مولانا محمد احمد لدھیانوی، مولانا فضل الرحمن خلیل اور عبداللہ گل نے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوںنے کہاکہ ہزاروں مسلمانوں کا قاتل بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کس حیثیت سے بلوچستان پر بات کر رہاہے؟ بھارتی خفیہ ایجنسی را پچھلے کئی برسوں سے بلوچستان میں حالات خراب کر رہی ہے۔ کلبھوشن یادیو کی گرفتاری کے بعد انڈیا کا دہشت گردانہ چہرہ پوری دنیا کے سامنے بے نقاب ہو گیا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ جو باتیں ہم پہلے کرتے تھے آج وہ سب درست ثابت ہو رہی ہیں اور انڈیا خود اپنے جرائم کا اعتراف کر رہا ہے۔حکومت پاکستان کو چاہیے کہ وہ ان معاملات پر کسی طور خاموش نہ رہے بلکہ دنیا کو بتایا جائے کہ بلوچستان میںتخریب کاری کے ذریعہ بے گناہوں کے خون سے ہولی کھیلنے والا بھارت اور اس کی خفیہ ایجنسی را ہے۔ انہوںنے کہاکہ مودی نے کچھ عرصہ قبل ڈھاکہ میں کھڑے ہو کر مکتی باہنی کے ساتھ مل کر پاکستان کو دولخت کرنے کا اعتراف کیا تھا۔ساری دنیا کے سامنے یہ باتیں کی گئیں لیکن کسی کے کانوں پر جوںتک نہیں رینگی آج ہزاروں مسلمانوں کا خون بہانے والا وہی شخص بلوچستان میں دہشت گردی کروانے کا اعتراف کر رہا ہے۔حکومت کو چاہیے کہ وہ اس مسئلہ کو تمام بین الاقوامی فورمز پر اٹھائے اور انڈیا کے گھناﺅنے کردار کو بے نقاب کیا جائے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ انڈیاکشمیر کے مسئلہ سے توجہ ہٹانے کے لئے بلوچستان میں دہشت گردی کروا رہا ہے۔مودی کا کوئی حق نہیں بنتا کہ وہ بلوچستان کے بارے میں بات کرے۔؟اگر وہ بلوچستان سے متعلق بیانات دے گا تو کل کو وہ ہمیں دہلی کے بارے میں بات کرنے سے کیسے روک سکتا ہے؟۔دفاع پاکستان کونسل کے قائدین نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ بھارتی وزیراعظم نے بلوچستان میں باقاعدہ جنگ کی دھمکی دی ہے۔پاکستانی وزیراعظم نواز شریف کو مودی کے بیان کا منہ توڑ جواب دینا چاہئے۔انہوںنے کہاکہ آٹھ لاکھ بھارتی فوج کے ظلم و بربریت کا شکار کشمیری مسلمان پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں۔حکومت پاکستان مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اٹھائے ۔مظلوم کشمیری پاکستان کو اپنا سب سے بڑ اوکیل سمجھتے ہیں ۔ کشمیرکی تحریک کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے پاکستان کو ذمہ داری ادا کرنا ہو گی۔انڈیا سے مذاکرات،تجارت اور یکطرفہ دوستی کا سلسلہ ختم کیا جائے۔انہوںنے کہاکہ کشمیر کی تحریک کشمیریوں کی اپنی ہے۔انڈیا جھوٹے اور بے نبیاد پروپیگنڈا کے ذریعہ کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو دہشت گردی ثابت کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔ بھارت مسئلہ کشمیر کو خود اقوام متحدہ لیکر گیا لیکن اب وہ اسی یو این کی قراردادوں کو تسلیم کرنے اور ان پر عمل درآمد کرنے کیلئے تیار نہیں ہے۔ کشمیری مسلمان پاکستانی پرچم لہراتے ہوئے اپنے سینوں پر گولیاں کھا رہے ہیں لیکن تمامتر ظلم و ستم کے باوجود ان کے عزم و حوصلہ میں کوئی کمی نہیں آئی بلکہ تحریک آزادی کشمیر دن بدن مزید قوت پکڑ رہی ہے۔ انہوںنے کہاکہ کشمیریوںنے میدان میں قربانیاں پیش کرنے کا حق ادا کردیا۔ اب پاکستان کو مسئلہ کشمیر کا فریق ہونے کے ناطے کشمیریوں کے لیے مضبوط کردار ادا کرنا ہوگا۔حکومت پاکستان اس مسئلہ پر جرا ¿تمندانہ پالیسیاں ترتیب دے گی تو انصاف پسند دنیا اس کا ساتھ دے گی۔انڈیا چاہتا ہے کہ پاکستان مظلوم کشمیریوں کی مددوحمایت نہ کر سکے اس لئے وہ عدم استحکام سے دوچار کرنے کی سازشیں کر رہا ہے تاہم اس کی یہ مذموم کوششیں کسی صورت ان شاءاللہ کامیاب نہیں ہوں گی۔ 

About Editor

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*