Breaking News
Home / خبریں / پاک انڈیا / حکمران بھارت سے دوستی والا رویہ ترک کریں, کشمیر کانفرنس
حکمران بھارت سے دوستی والا رویہ ترک کریں, کشمیر کانفرنس

حکمران بھارت سے دوستی والا رویہ ترک کریں, کشمیر کانفرنس

لاہور( )سیاسی،مذہبی ،کشمیری جماعتوں کے قائدین و حریت رہنماﺅں نے کہا ہے کہ کشمیر مذاکرات سے نہیں بلکہ متحد ہو کر جہاد فی سبیل اللہ سے آزاد ہو گا۔بھارت نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کو تسلیم نہیں کیا،وہ بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں بکھیر رہا ہے۔کیمیکل ہتھیاروں کے استعمال کی دنیا میں کہیں اجازت نہیں لیکن بھارت کر رہا ہے۔اپنا دہشت گردانہ چہرہ چھپانے کے لئے ہمیشہ مودی سرکار نے پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ کیا۔ہاکستان کشمیریوں کے حقیقی وکیل ہونے کا کردار ادا کرے،مظلوموں کی مدد کا حکم رب نے قرآن میں دیا ہے،حکومت و اپوزیشن سمیت تمام سیاسی جماعتیں کشمیر کے مسئلہ پر ایک ہوں۔بھارتی بربریت پرانسانی حقوق کی تنظیموں و عالمی اداروں کی خاموشی کی مذمت اورمقبوضہ کشمیر کے شہد اور تحریک جاری رکھنے والے بزرگوں،خواتین،بچوں اور نوجوانو ںکو خراج تحسین پیش کرتے ہیں ۔مودی پاکستان کا پانی بند کے اسے صومالیہ بنانا چاہتا ہے۔حکمران بھارت سے دوستی والا رویہ ترک کریں اور کشمیریوں کی تحریک کا عملی طور پر ساتھ دیں۔سیز فائر لائن کو نہیں مانتے۔اقوام متحدہ نے کشمیر سمیت امت مسلمہ کے مسائل کے حل کے لئے دوہرا معیار اپنایا ہوا ہے۔اسلامی ممالک کا اتحاد تشکیل دیا جائے جو امت مسلمہ کے مسائل حل کرے۔مودی بھارت کے لئے گوربا چوف ثابت ہو گا ۔سرجیکل سٹرائیک کی بڑھک مودی سرکار کو مہنگی پڑے گی۔آزاد کشمیر و پاکستان کے عوام عہد کرتے ہیں کہ کشمیریوں کی آزادی کی تحریک میں ان کے شانہ بشانہ رہیں گے۔ان خیالات کا اظہار امیر جماعة الدعوة پاکستان پروفیسر حافظ محمد سعید،سید صلاح الدین،غلام محمد صفی، مولانا عبدالعزیز علوی،لیاقت بلوچ،حافظ عبدالرحمان مکی،مولانا فضل الرحمان خلیل،سید ضیا ءاللہ شاہ بخاری،شیخ جمیل الرحمان،مفتی کفایت حسین نقوی ،مولانا محمد صدیق بالا کوٹی،،مولانا سیف اللہ خالد،قاری محمد یعقوب شیخ،خواجہ فاروق،مولانا امتیاز،شوکت جاوید میر،مفتی محمد روئیس خان،شیخ عقیل الرحمان،جنرل عبداللہ،مرتضیٰ گیلانی،مفتی منصور،مولانا فاروق کشمیری،قاری عبدالمالک،مشتاق الاسلام،خواجہ شفیق ،اصغر نثار میر،حاجی گل خندن،عزیر احمد غزالی،قاری مقبول الرحمان،راجہ ثاقب مجید،مولانا احسان الحق شہباز،انجنیئر حارث ڈار،محمد راشد و دیگر نے یونیورسٹی گراﺅنڈ اپر اڈہ مظفر آباد میں تحریک آزادی جموں کشمیر کے زیر اہتمام کشمیر کانفرنس سے خطا ب کرتے ہوئے کیا۔کشمیر کانفرنس میں شہر و گردونواح سے تمام مکاتب فکر کے لوگوں نے ہزاروں کی تعداد میں شرکت کی۔شرکاءنے پاکستانی پرچم اٹھا رکھے تھے جبکہ مقررین کے خطابات کے دوران بھارت کے خلاف اور کشمیریوں کے حق میں نعرے بھی لگاتے رہے۔اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کے گئے تھے۔جامہ تلاشی کے بعد شرکاءکو پنڈال میں داخلے کی اجازت دی گئی۔پنڈال کے چاروں اطراف کشمیری شہدائ،حریت رہنماﺅں کے پیغامات بینر ز و فلیکس پر لگائے گئے تھے۔مقررین کے خطابات کے دوران شرکاءجذباتی انداز میں نعرے لگاتے رہے۔پنڈال میں فلاح انسانیت فاﺅنڈیشن کی جانب سے کنٹرول لائن پر بھارتی جارحیت سے متاثرہ خاندانوں کے لئے امدادی کیمپ بھی لگایا گیا تھا جس کی نگرانی فلاح انسانیت فاﺅنڈیشن کے چیئرمین حافظ عبدالرﺅف نے کی۔پانچ ہزار متاثرین میں خشک راشن و دیگر امدادی سامان تقسیم کیا گیا۔امدادی سامان میں آٹا،چاول،گھی ،چینی،دالیں و دیگر اشیائے خوردونوش شامل ہیں۔امیر جماعة الدعوة پروفیسر حافظ محمد سعید و دیگر سیاسی و مذہبی،کشمیری جماعتوں کے قائدین نے متاثرین میں امدادی سامان تقسیم کیا۔امیر جماعة الدعوة پاکستان پروفیسر حافظ محمد سعید نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے بچوں،عورتوں،جوانوں،بوڑھوں ،حریت قائدین کو سلام پیش کرتا ہوں جنہیں اللہ نے عظیم استقامت سے نواز ا اورانہوں نے تاریخ کی طویل ترین تحریک برپا کی۔عزیمت و استقامت کا معیار کیا ہوتا ہے یہ واضح ہو چکا ہے۔تمام کشمیریوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔انہو ں نے کہا کہ کشمیر میںبچے غلیل میں پتھر رکھ کر سنگ بازی کر رہے ہیں۔ان کی تصویریں دنیا کو پیغام دے رہی ہیں۔چھوٹے چھوٹے بچے،خواتین،آپا جی آسیہ اندرابی ،جنوبی ایشیا کی سب سے لمبی جیل کاٹنے والے ،ڈاکٹر قاسم فکتو جیل میں ہیں،یہ وہ قربانیاں ہیں جنہوں نے آزادی کا علم بلند کر رکھا ہے۔مہاجرین کو بھی خراج تحسین پیش کر تا ہوں ۔آزادی کی بنیاد ہجرت سے ہوتی ہے۔سید صلاح الدین،غلام محمد صفی،جمیل الرحمان و ددیگر نے ہجرت کی،یہ مہاجرین تحریک آزادی کا ہروال دستہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ آزادی کی تحریک کشمیریوں کی ہے ۔ہم سب کے دل اکٹھے دھڑکتے ہیں۔جیلوں میں ظلم سہنے والے،سنگ بازی کرنے والے،مساجد کمیٹیوں کے لوگ عظیم کردار ادا کر رہے ہیں،شبیراحمد شاہ گرفتار ہیں،مسر ت عالم لمبی قید کاٹ رہے ہیں یہ سب وہ لوگ ہیں جنہوں نے آزادی کی تحریک کو دنیا کے سامنے پیش کر دیا۔انڈیا کی آٹھ لاکھ فوج اور متشدد قوم پرست تنظیموں کے ذریعے تحریک کو روکا گیا اور آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کی سازش کی گئی،پہلے جموں میں خون بہایا گیا اور مسلمانوں کو ہجرت پر مجبور کیا گیا ،اب بی جے پی کی حکومت وادی میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنا چاہتی ہے۔انہوںنے کہا کہ ہم سب کی بات اور کام ایک ہے۔ہم مسلمان ہیں۔سرینگر میں لاالہ الااللہ ہے تو یہاں بھی اور لاہور ،اسلام آباد میں بھی یہی کلمہ ہے،اسی کی وجہ سے ہمارے رشتے قائم ہیں، ہمارے لئے لائحہ عمل ہمارے نبی ﷺ طے کر گئے ہیں۔نبی کریم ﷺ نے بھی ہجرت کی تھی۔مہاجرین اور انصار کی اصطلاح نبی کریم ﷺ کی ہجرت سے شروع ہوئی۔ نبی کریم ﷺ ہجرت کے بعد مدینہ میں آرام سے نہیں بیٹھے بلکہ تیاری کی اور پھر مکہ گئے اسی طرح ہم نے بھی سرینگر جانا ہے۔انہوں نے کہا کہ مشرکوں نے مکہ نبی کریمﷺ سے چھینا تھا ۔آج تین کروڑ خداﺅں کے پجاری ہندو نے کشمیر پر قبضہ کیا ،ان کے سینوں پر مونگ دلیں گے۔انہوں نے کہا کہ جب ہم بات کرتے ہیں تو انڈیا بولتا ہے اور پھر امریکہ اور اسکے بعد سارا مغرب بولتا ہے اور کہتے ہیں کہ یہ دہشت گرد ہیں،یہ بہت بڑی چال ہے،انڈیا نے اپنی دہشت گردی چھپانے کے لئے سید صلاح الدین کو دہشت گرد قرار دیا اور افغانستان ،عراق میں لاکھوں مسلمان شہید کرنے والے،شام میں داعش کے ذریعے خون بہانے والے مجھے دہشت گرد قرار دیتے ہیں،ہم نے قرآن سے یہ چیزیں سمجھ لی ہیں ۔امریکہ نیو ورلڈ آرڈر بنا کر بیٹھا ہے،دنیا کو اپنی چوکٹھ پر جھکانا چاہتا ہے،امریکہ وہ بات کہتا ہے جو کل فرعون کہتا تھا۔اللہ نے قرآن میں بتا دیا کہ دہشت گرد وہ ہے جس نے ہزاروں بچے ذبح کروا دیے،خواتین کی عصمتیں لوٹ لیں،امریکہ و بھارت کے الزامات تحریک آزادی کشمیر میں رکاوٹ نہیں بنیں گے،آزادی کی تحریک جاری رہے گی۔انہوں نے کہا کہ پہلے مودی نے دھمکی دی پھر راجناتھ آیا اور کہا کہ پاکستان کے اب دس ٹکڑے کریں گے۔یہ راجناتھ کی زبان نہیں بلکہ مودی سرکار کی زبان ہے۔ہم نے اس کا جواب دینا ہے۔اس سے پہلے انڈیا نے دعویٰ کیا کہ سرجیکل سٹڑائیک کی،وہ صرف فلمیں بنانے والے ہیں لڑنے والے نہیں،نواز شریف صاحب جنگ نہیں ہو گی،پریشان نہ ہوں،یہ اکہتر والا دور نہیں،آج کا پاکستان مضبوط پاکستان ہے۔انہوں نے کہا کہ سرجیکل سٹرائیک صرف ایک فلم تھی دنیا نے اس کو نہیں مانا ،کشمیری مجاہدین نے پھر جواب دیا۔ بھارت نے بوکھلاہٹ میں دعوے کئے لیکن عملی طور پر کچھ نہیں کر سکتا،راجناتھ کے اس اعلان کو اعلان جنگ سمجھتے ہیں۔کب تک دہشت گردی کا پروپیگنڈہ کر کے دہشت گردانہ چہرہ چھپاﺅ گے۔اب مخلص بندوں کو پورا حق حاصل ہے کہ اس کا جواب میدان میں دیں۔انہوں نے کہا کہ سرتاج عزیز بھارت جا کر بے عزتی نہ کروایا کرے ۔یہ کشمیر اورپاکستان کی بے عزتی ہے۔آپ وہاں جاﺅ جہاں بات سنی جائے، برہان وانی کی شہادت سے ماجد شہید کی شہادت تک بریفنگ ہم تیار کر کے دیتے ہیں ،دنیا کو دکھاﺅ،ماجد پر کیمکیل ہتھیار استعمال کیا گیا،سرتاج عزیز ماجد شہید کی لاش کی تصویر مغرب اور دنیا کو دکھائیں کہ بین الاقوامی قوانین بنا رہے ہو انڈیا ان کی دھجیاں بکھیر کے کیمیکل ہتھیار استعمال کر ر ہاہے۔انہوں نے کہا کہ حکومتیں دباﺅ کا شکار ہیں اور مجبور ہیں،یہی دنیا میں مسائل کی بنیاد ہیںحکومتیں مجبور نہیں ہوتیں بلکہ مسائل کا حل کرنے والی ہوتی ہیں،انہوں نے کہا کہ مطالبے ہم کریں گے لیکن کشمیر کی آزادی کا کام ہم نے خود ہی کرنا ہے۔آج عظیم اتحاد کی ضرورت ہے،تمام کشمیری تنظیمیں ایک ہو جائیں،آزادو مقبوضہ کی تقسیم ایک حادثہ ہے،کنٹرول لائن کو تسلیم نہیں کرتے،یہ سیز فائز لائن ہے۔کنٹرول لائن اسوقت بنائی گئی تھی جب مشرقی پاکستان کا واقعہ پیش آیا تھا،شملہ معاہدہ ہوا تھا اور پاکستان کی فوج انڈیا کی جیلوں میں تھی۔مجبوری سے فائدہ اٹھائے ہوئے بھارت نے کنٹرول لائن تسلیم کروائی تھی۔ہم اس فیصلے کو رد کرتے ہیں۔کنٹرول لائن تسلیم نہیں کرتے۔،آزادو مقبوضہ کشمیر ایک ہیں۔انہوں نے کہا کہ جس طرح مقبوضہ کشمیر کے بھائی میدان میں کھڑے ہیں اسی طرح آزادکشمیر میں بھی لوگوں کو کھڑا ہونا چاہئے۔کشمیری پاکستان کو اپنا وکیل سمجھتے ہیں ،وہ پاکستان سے رشتہ کیا کے نعرے لگاتے ہیں اور پاکستان کا پرچم اٹھاتے ہیں جب یہ صورتحال سرینگر کی ہے تو اسلام آباد کے سیاستدانوں،حکومت،اپوزیشن سب سے عرض کرتا ہوں کہ اللہ کا حکم ہے کہ جس حال میں سرینگر ہو اسی حال میں اسلام آباد کو ہونا چاہئے۔عظیم اتحاد ہمارے مسئلہ کا حل ہو گا۔انہوں نے کہا کہ انڈیا نے اقوام متحدہ،سلامتی کونسل کی قرادادوں کو پامال کیا،نہیں مانا،ستر سال سے خون بہہ رہا ہے،قراردادوں کے پرزے اڑا دیے گئے،بین الاقوامی قوانین کی دھجیان بکھیر دی گئیں،ہر بات کی حد ہوتی ہے۔آزاد کشمیر و پاکستان کے عوام عہد کریں کہ آزادی کے حصول اور مظلوموں کی مدد کا جو حکم رب نے دیا ہے اس پر عمل کرکے اکٹھے ہو کر میدان میں اتریں اور نبی کریم ﷺ کی سیرت سے لائحہ عمل لے کر کردار ادا کریںگے تو کشمیر آزاد ہو گا۔لاکھوں شہادتوں کے بعد اب کوئی پیچھے نہیں ہٹے گا۔اتحاد اور پھر جہادآزاد ی سے آزادی ملے گی اور صرف کشمیر کو آزادی نہیں ملے گی بلکہ دنیا کے تمام مظلوم مسلمانوں کو لائحہ عمل ملے گا۔حزب المجاہدین کے امیر ،متحدہ جہاد کونسل کے چیئر مین سید صلاح الدین نے کہا کہ مہاجرین و انصار کا کردار کشمیر کی آزادی کے لئے لازم و ملزوم ہے۔بھارت کا پروپیگنڈہ کہ کشمیر کی تحریک میں آئی ایس آئی ،لشکر طیبہ،جیش محمد ،حرکت المجاہدین کے ناموں سے کام کروا رہی ہے۔افسوس بیس کیمپ کی قیادت عالمی برادری کو یہ بات نہ منوا سکی۔خونی لکیر کے اس پار 65لاکھ وہ لوگ رہ رہے ہیں جو اصلا کشمیری ہیں اور بھارت ان پر مسلط ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں کسی کی اجازت اور سرٹفکیٹ کی ضرورت نہیں،اللہ کی اجازت ہمیں چاہئے اور اللہ نے مظلوموں کی مدد کا حکم دیا ہے۔آج بھی عالم اسلام کے مشترکہ مسائل کا حل اتحاد میں مضمر ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان کو معذرت خواہانہ رویہ ترک کرنا چاہئے۔سیا چین سے سے لے سیالکوٹ تک سرحد زندگی اور موت کی حیثیت رکھتی ہے۔قائداعظم نے کہا تھا کہ کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے۔پاکستان کی قیادت خواہ وہ سیاسی ہو یادینی و عسکری ،کشمیر کی آزادی کے لئے فیصلہ کن کردار ادا کرنا چاہئے۔انہوںنے کہا کہ مکتی باہنی کے نام پر بھارت مداخلت نہ کرتا تو آج بھی مشرقی پاکستان پاکستا ن کا حصہ ہوتا۔نواز شریف ،آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کشمیریوں کی عملی مدد کریں ،ستر سالوں سے ان پر بھارتی فوج مسلط ہے۔چھ سال کے بچے سے لے کر چھیاسی سال کے بوڑھے تک ہر کشمیر ی پاکستا ن کے لئے اپنے خون کا آخری قطرہ بہانے کو تیار ہے۔برہان وانی کی شہادت کے بعد ہاتھ میں پتھر لے کر بھارتی فوج کے مقابلے میں نوجوان کھڑے ہیں۔گولی کا مقابلہ پتھر سے نہیں ہوتا ۔انہوںنے کہا کہ قیادت کو وسائل کی کمی اور عالمی دباﺅ کا رونا نہیں رونا چاہئے۔محمد بن قاسم سترہ سال کی عمر میں بہن کی مدد کے لئے آیا تھا،کشمیری بہنیں مدد کے لئے پکار رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ کشمیری جذبہ جہاد اور شوق شہادت سے سرشار ہیں،بھارت نے اپنے تمام خزانوں کے منہ کھول دیےے لیکن کشمیریوں کی تحریک کو سرد نہیں کر سکا،انہوں نے کہا کہ برہان کی شہادت سے لے کر آج تک پندرہ ہزار لوگ زخمی،سوا سو شہید،کروڑوں کا مالی نقصان ہوا۔ہمیں آج عزم کرنا ہے کہ خونی لکیر کو روندیں گے۔مودی سرکار جنگی بنیادوں پر تیاری کر رہی ہے،۔جموں میں ہندو بسا کر وہاں مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں بدلا جا رہا ہے یہ خطرے کی گھنٹی ہے۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف مذاکرات سے بات حل کرنے کی توقع رکھتے ہیں۔بی جے پی نے بھارتی قوم سے وعدہ کیا تھا کہ حکومت میں آگئے تو اکھنڈ بھارت کو پورا کریں گے۔پاکستانی حکومت ہوش کے ناخن لے،کشمیر جہاد فی سبیل اللہ سے آزاد ہو گا۔انہوں نے کہا کہ کشمیر کاز کے نام پر مختلف مکاتب فکر کے لوگوں کو جماعة الدعوة نے جمع کیا۔اسلام آباد میں اسی طرح کا گلدستہ دیکھا تھا۔نہتے کشمیریوں کی مدد کے لئے مملکت خداداد پاکستان کی عوام اور آزاد جموں کشمیر کے باسی ایک ہیں۔ آل پارٹیزحریت کانفرنس کے کنوینئر غلام محمد صفی نے کہا کہ اب یہ بات ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیشن بنانے میں کن قوتوں کا کردار رہا ہے،نریندر مودی نے ڈھاکہ میں جوکچھ کہا اس کے بعد قیاس آرائیوں کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی کہ انڈیا نے مشرقی بازو کو کاٹا اور اسے بنگلہ دیش بنایا۔انہوں نے کہا کہ میں حکمرانوں سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ مومن ایک سوراخ سے دو مرتبہ نہیں ڈساجاتا۔ہندوستان کے بارے میں آپ کے پاس نرم گوشہ کیوں ہے؟حالانکہ وہ ہمارا ازلی دشمن ہے۔انہوں نے کہا کہ ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں سرتاج عزیز گیا ۔بھارت نے وہاں لشکر طیبہ اور جیش محمد کی بات کی ۔یہ کشمیریوں کے بازو،قوت ہیں کیونکہ ان سے ہندوستان خائف ہے۔ حکومت پاکستان کشمیریوں کی مدد کرنے والوں کو جکڑنے کی بجائے کلبھوشن کو جکڑے ۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان ٹائمز میں مودی کی صحت کے راز کے حوالہ سے انٹرویو شائع ہوا جس میں وہ کہتا ہے کہ چودہ گلاس گائے کا پیشاب روزانہ اور گوبر کا کچھ حصہ ہفتے میں ایک بار لیا جائے تو صحت کے لئے مفید ہے،کشمیریوں کاگائے کے پجاریوں کے ساتھ کوئی رشتہ نہیں بلکہ طیب اور پاکیزگی کے ساتھ رشتہ ہے۔جماعة الدعوة کو کامیاب پروگرام کے انعقاد پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ تحریک آزادی جموں کشمیر کے چیئر مین مولانا عبدالعزیز علوی نے کہا کہ ریاست جموں کشمیر کے لوگ آج تک پانچ لاکھ شہدا کا خون پیش کر چکے ہیں۔تین اسمبلیاں آئیں اور صرف سڑکیں بنائیں اور کھمبے لگائے،تحریک آزادی کشمیر کے لئے کچھ نہ کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم اور صدر آزاد کشمیر آزادی کے حوالہ سے جذبہ رکھتے ہیں ،آج انہیں اس کانفرنس میں خطاب سے کس نے روکا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی حکومت کشمیر کی حکومت کو آزاد ی دے تا کہ وہ کھل کر بول سکیں،انہوں نے کہا کہ حکومت بنانے اور بچانے کے لئے صلاحیتیں صرف کرنے کی بجائے کشمیریوں کی مدد کی جائے۔ان کی آزادی کی تحریک کو مضبوط کیا جائے۔ جماعت اسلامی کے مرکزی سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے کہا کہ جماعة الدعوة کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔آج کی کشمیر کانفرنس عظیم الشان،تاریخ ساز ہے اور ان شاءاللہ آنے والے مراحل میں سنگ میل ثابت ہو گی۔برہان مظفر وانی کی شہادت کے بعد مقبوضہ کشمیر میں حق خود ارادیت کی تحریک نے ایک نیا منظر اختیار کیا۔کم و بیش ایک سو پچاس دن گزر گئے کرفیو نافذ ہے،جمعہ ،عید کی نمازیں نہیں پڑھنے دی گئیں۔محرم،ربیع الاول میں سیرت کانفرنسیں نہیں کرنے دی گئیں اسکے باوجود تحریک ہر دن مضبوط ہو رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کے پالیسی ساز،دانشور اس حقیقت کو سمجھیں کہ پاکستان میں سیاسی اختلافات لا تعداد ہیں لیکن کشمیریوں کے حق خود ارادیت پر پوری قوم یکجان اور یک آواز ہے۔سرجیکل سٹرائیک کی باتیں کر کے ،پاکستان کا پانی بند کرنے کی بات کر کے مودی دنیا کو دھوکا دینا چاہتا ہے،سلامتی کونسل کو ممبر بن کر مسئلہ کشمیر سردخانے میں ڈالوا لو گے،یہ ہم جانتے ہیں،مذاکرات بھارتی قیادت کا کھیل ہے،کشمیر کے مسئلہ پر عالمی برادری کے فیصلوں کا انحراف بھارت کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے،انہوں نے کہا کہ یہ خطہ تباہ ہو رہا ہے اور مستقبل میں ایک بڑی تباہی کی طرف جا رہا ہے اس کی ذمہ دار بھارتی قیادت ہے۔تم پانی بند کرنے کی بات کرتے ہوہم تمہاری سانس بند کریں گے۔انہوں نے کہا کہ ہم کشمیری عوام کو یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ کشمیر ی پاکستان یا بھارت کے زر خرید نہیں،یہ انسانوں کا مسئلہ ہے،کشمیر کا فیصلہ کشمیریوں نے کرنا ہے لیکن اس مقصد کے لئے ہماری ضرورت دو قومی نظریہ کو مضبوط کرنا ہو گا،انہوں نے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ امریکہ ،بھارت ،اسرائیل کے لئے وبال جان بنا ہوا ہے،بھارت چاہتا ہے کہ افغانستان کی سرزمین استعمال کر کے ہمیں دہشت گردی کے حوالے کر دے،آج اس بات کی ضرورت ہے کہ کلمہ گو افغانی ہماری طاقت ہیں،اشرف غنی امریکہ کے کٹھ پتلی بن کے اس کے حشر کو سمجھیں ۔پاکستان اور افغانستان کو مل کر چلنا ہو گا۔انہوں نے کہا کہ امریکہ بھارت کی خدمت کر رہا ہے وہ بھارت سے نیو کلیر معاہدے کر رہا ہے۔عالم اسلام،کشمیر فلسطین ،حلب،برما سب مسلم ممالک ان کا ہدف ہیں،ترکی ،سعودی عرب ،ایران کو ملکر عالم اسلام کے مسائل کا حل تلاش کرنا ہو گا اور اس خطے میں پاکستان ،افغانستان،چین،روس کو نئی صف بندی کے ساتھ دنیا بھر کی قیادت کرنی ہو گی۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کشمیر کی تحریک میں حافظ محمد سعید کے ساتھ کھڑی ہے۔یہ نوشتہ دیوار ہے کہ کشمیر آزاد ہو گا اور بھارت کے ٹکڑے ہوں گے،مودی بھارت کے لئے گوربا چوف ثابت ہو گا۔جماعة الدعوة کے مرکزی رہنما پروفیسر حافظ عبدالرحمان مکی نے کہا کہ پاکستان دو قومی نظریہ کی بنیاد پر وجود میں آیا،قوم قرآن مجید پر یقین رکھتی ہے۔اسمبلیاں سیاسی رنگ اختیار کریں لیکن عوام قرآن مجید کو مقدم رکھتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اللہ نے قرآن میں مجبور ،مظلوم مسلمانوں کی مددکا حکم دیا ہے۔اسلام کے نام پر مدد مانگی جائے تو جنرل اسمبلی،اقوام متحدہ سمیت کوئی بھی نہیں روک سکتا۔مظفر آباد میں کشمیر کانفرنس غیرتمند نوجوانوں کا اجتماع مود ی سرکار کو بتلا رہا ہے کہ پاکستان کی عوام تیارہے،کشمیرکو نہیں بھولے،مظفر آباد بیس کیمپ ہے۔کشمیر کو آزادی دلوائیں گے۔مودی نے پاکستان کو دھمکایا کہ پانی روکیں گے لیکن دنیا جانتی ہے کہ اگر بھارت پانی روکے گا تو خون بہایا جائے گا پھر پانی آئے گا۔بھارت کو سرجیکل سٹرائیک کی بڑھک بہت مہنگی پڑے گی۔کشمیری اپنے شہداءکو پاکستانی پرچم میں دفن کر رہے ہیں۔برہان وانی شہید کے جنازے سے لے کر آج تک ایک سو ساٹھ دن میں شہداکے جنازے سبز ہلالی پرچم میں اٹھے ۔آر پار کے کشمیری ایک ہو چکے ہیں۔بھارت بکھرنے والا ہے اور کشمیر آزاد ہونے والا ہے اور مظفر آباد کا بیس کیمپ سرینگر میں منتقل ہونے والا ہے۔جماعة الدعوة کے سربراہ اعلان کر چکے ہیں کہ جسدن بھارت کوئی حماقت کرے گا پاکستان کے شیروں کے لئے راستے وہ خود کھولے گا۔انہوں نے کہا کشمیر میںپیلٹ برسائے گئے تو حکومت پاکستان نے ببانگ دہل ٹھوس مﺅقف دنیا کے سامنے پیش کر دیا۔انصار الامة پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمان خلیل نے کہا کہ کشمیر کانفرنس بھارت کے لئے پیغام ہے۔حافظ محمد سعید نے نوجوانوں کو کشمیر کانفرنس میں جمع کیا۔تحریک آزادی کے بیس کیمپ میں کانفرنس مودی سرکار کے لئے پیغام ہے کہ ہو ش کے ناخن لو اور اگر ظلم بند نہ کیا تو لاکھوں نوجوان خونی لکیر عبور کر کے جہاد کا اعلان کریں گے۔انہوں نے کہا کہ ظلم جہاد کو جنم دیتا ہے۔دین اسلام میں واضح حکم ہے کہ جب ہمارے بھائیوں پر ظلم ہو تو مسلمانوں پر فرض ہو جاتا ہے کہ ان کی مدد کی جائے،ہم مسلمان ہونے کے ناطے کشمیریوں کی مدد کرنے پر مجبور ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارت سوویت یونین کے مقابلے میں کچھ نہیں،افغانستان میں سوویت یونین اور پھر امریکہ کو شکست ہو چکی اب انڈیا کی باری ہے۔راجناتھ کی دھمکیوں نے پاکستانی قوم کو متحد کیا۔مودی سن لے ،انڈیا کے ٹکڑے ہوں گے اور پاکستان سلامت رہے گا۔پاکستان کا پانی بند کرو گے تو ان نالوں میں تمہارا خون بہے گا۔اگر ظلم بند نہیں کر و گے تو اعلان جہاد ہو گا۔مودی سرکار باتوں کو نہیں لاتوں کو سمجھتی ہے،کشمیر کی آزاد ی کا راستہ جہاد ہے۔متحدہ جمعیت اہلحدیث کے امیر سید ضیاءاللہ شاہ بخاری نے کہا کہ بانی پاکستان نے فرمایا تھا کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے اور آج مودی کی دھمکیوں نے بانی پاکستان کی بات کو سچا ثابت کر دیا کہ ہماری شہہ رگ بھارت کے ہاتھ میں ہے اس کو آزاد کروانا ہے۔حافظ محمد سعید کو کشمیر کی آزادی کی تحریک کو اجاگر کرنے پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔کشمیری نوجوانون کی قربانیوں نے ہمیں اس بات کا اعلان کرنے پر مجبورکر دیا ہے کہ ہم پاکستان کے تکیمل اور کشمیر کی آزاد ی کے لئے بائیس کروڑ پاکستانی پروفیسر حافظ محمد سعید کے ہاتھ پر بیعت جہاد کرتے ہیں۔تحریک المجاہدین کے امیر شیخ جمیل الرحمان نے کہا کہ کشمیری قوم قربانیان پیش کر ر ہی ہے۔مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کو شہید کیا جا رہا ہے تو ایل اوسی کے اس طرف بھی کشمیری شہید ہو رہے ہیں۔آج کی کانفرنس بھارت کے لئے پیغام ہے کہ کشمیریوں کی تحریک نظریاتی تحریک ہے۔انہوںنے آزادی کا تہیہ کر رکھا ہے۔آج بھارت نواز جماعتیں بھی حریت رہنماﺅں کے ساتھ کھڑی ہیں۔تحریک آزادی اسوقت تک جاری رہے گی جب تک بھارت کا ایک بھی فوجی کشمیر میں موجود ہے۔بھارت سرکارکشمیر میں ریاستی دہشت گردی کر رہی ہے تو دوسری جانب پاکستان میں بھی تخریب کاری کروائی جا رہی ہے۔بھارت خود غربت میں مبتلا ہے،وہ اپنے ملک کی غربت دور کرے۔حکومت پاکستان کشمیریوں کی مدد کرے۔تحریک آزادی کی کامیابی کے کئی مواقع حکومت نے گنوا دیئے۔اسلامی نظریاتی کونسل کے ممبر مفتی کفایت حسین نقوی نے کہا کہ کشمیر کانفرنس کے انعقاد پر جماعة الدعوة کو مبارکباد دیتا ہوں۔حافظ محمد سعید نے اپنی ساری زندگی کشمیریوں کے لئے گزار دی۔ہم حافظ محمد سعید کا پھٹا ہوا جوتا بھی امریکہ کو دینے کے لئے تیار نہیں،حافظ سعید ہمارا اثاثہ ہیں۔ان کی قیادت میں خونی لکیر عبور کریں گے اور کشمیر کو آزادی دلوائیں گے۔مرکزی جمعیت اہلحدیث آزادکشمیر کے امیر مولانا محمدصدیق بالاکوٹی نے کہا کہ کشمیر کے مسئلہ پر ہم جمع ہیں۔کشمیر کی زندگی ہمارے ملک کی ،ہماری فوج کی زندگی ہے۔کشمیر کے مسئلہ پر سیاست نہیں ہونا چاہئے۔کشمیر کی سفارت میں پاکستان نے مشکل وقت میں ساتھ دیا۔آر پار کے کشمیریوں کو ملاد یا جائے،سیز فائر لائن ختم کی جائے اور اتحاد ویکجہتی قائم کی جائے ۔دفاع پاکستان کونسل کے مرکزی رہنماﺅں مولانا سیف اللہ خالد، قاری محمد یعقوب شیخ نے کہا کہ بے بس اور مظلوم کشمیریوں کی مدد ہم پر فرض بھی ہے اور قرض بھی۔ہم کشمیر کو نہیں بھول سکتے،وہ کل بھی ہمارا تھا اور آج بھی ہمارا ہے۔راجناتھ کی دھمکی گیدڑ بھبھکی ہے،پاکستان کے پا س ایسے لیڈر ہیں جو بھارت کے ٹکڑے کر سکتے ہیں۔انڈیا نے اگر مظالم کا سلسلہ بند نہ کیا تو آج کا یہ اجتماع مودی سرکار کے خلاف اعلان جنگ کی حیثیت رکھتا ہے۔ تحریک انصاف آزاد کشمیر کے نائب صدر خواجہ فاروق نے کہا کہ سقوط بغداد کے بعد ملت اسلامیہ نے سقوط ڈھاکہ کی شکل میں بہت بڑا صدمہ دیکھا تھا۔کشمیر کی آزادی طرح سقوط ڈھاکہ بھی قرض ہے۔تحریک آزادی کشمیر کے بیس کیمپ میں حافظ محمد سعید کو خوش آمدید کہتا ہوں،بھارت ٹکڑے ہو گا اور کشمیر آزاد ہو گا۔جمعیت علماءاسلام (ف)آزاد کشمیر کے سیکرٹری جنرل مولانا امتیاز نے کہا کہ کشمیر میں چار ماہ سے کرفیونافذ ہے،نوجوان جیلوں میں ہیں،شہادتیں ہوئیں لیکن انسانی حقوق کے نام نہاد علمبردار خاموش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کشمیریوں کا وکیل ہے ،اقوام متحدہ منافقت کا کردار ادا کررہی ہے۔کشمیری برصغیر کی تقسیم کے نامکمل ایجنڈے اور دفاع پاکستان کی جنگ لڑ رہے ہیں۔کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ نہیں بلکہ پاکستان کی شہہ رگ ہے،سبز ہلالی پرچم آر پار لہرا رہا ہے۔اب آزادی کی منزل قریب ہے۔پاکستان پیپلز پارٹی آزادکشمیر کے امیر شوکت جاوید میر نے کہا کہ جماعة الدعوة کی کشمیرکانفرنس خوش آئند ہے۔بھارتی وزیر اعظم نے جنگ مسلط کر رکھی ہے۔لائن آف کنٹرول پر سول آبادیوں ،ایمبولینسوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے،راجناتھ سنگھ نے پاکستان نے ٹکڑے کرنے کی بات کی ان حالات میں بھارت کو جواب دینا فرض ہو گیا تھا اور آج کی کشمیر کانفرنس بھارت کے لئے پیغام ہے۔آزاد کشمیر کے وزیر اعظم ،صدر کو آج اس کانفرنس میں ہونا چاہئے تھا۔جمعیت علماءاسلام(س) کے رہنما مفتی محمد روئیس خان نے کہا کہ آزاد کشمیرحکومت ستر سال سے قائم ہے لیکن جو کام حافظ محمد سعید اور دیگر جماعتوں نے کیا وہ حکومت نہ کر سکی۔مظفر آباد تحریک آزادی کا بیس کیمپ ہے ۔لبریشن سیل کو تحریک آزادی کے لئے وقف کیا جائے۔حکومت پاکستان بھی کشمیریوں کی عملی مدد کرے۔جمات اسلامی آزادکشمیر کے نائب امیر شیخ عقیل الرحمان نے کہا کہ کشمیر میں قربانیاں پیش کرنے والوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں،آزادی کی تحریک میں کشمیر و پاکستان کے عوام ساتھ کھڑے ہیں۔حافظ محمدسعید کا شکریہ ادا کرتا ہوں جو تحریک آزادی کشمیر کی جنگ پاکستا ن میں لڑ رہے ہیں اور مضبوط آواز بلند کر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے حکمران بھارت سے دوستی والا رویہ ترک کریں۔مودی پاکستان کا پانی بند کر کے پاکستان کو صومالیہ بنانا چاہتا ہے۔حکمران اپنی ذمہ داری ادا کریں۔جمعیت المجاہدین کے امیر جنرل عبداللہ نے کہا کہ کشمیر کانفرنس اس بات کی غماز ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کے ساتھ پاکستان کا نظریاتی تعلق ہے۔کشمیری قوم،لسانیت ،برادری ازم سے بالاتر ہو کر آزادی کی جدوجہد کر رہے ہیں۔کشمیریوں کا پاکستان سے کلمہ کا رشتہ ہے۔شہدا ءکی والدہ بھی جنازے کے وقت نعرہ لگاتی ہیںکہ پاکستان سے رشتہ کیا لاالہ الااللہ،اور اس رشتے کو کوئی نہیں ختم کر سکتا۔بھارتی فوج کشمیر میں ہے اور پاکستان کو فوجیں بھیجنے کا حق ہے۔پاکستان اپنا حق استعمال کرے اور کشمیریوں کو آزادی دلوائے۔کشمیری پاکستان کے جھنڈے کو اسلامی جھنڈا کہتے ہیں۔ مسلم کانفرنس کے رہنما ،سابق وزیر مرتضیٰ گیلانی نے کہا کہ مسلم کانفرنس ستر سال سے کشمیر بنے گا پاکستان کا نعرہ لگارہی ہے اور آج یہی نعرہ کشمیر کے گلی کوچے میں لگایا جا رہا ہے۔مسلم کانفرنس نے تحریک آزادی کشمیر میں ہمیشہ کلیدی کردار ادا کیا۔انہوںنے کہا کہ سردار عتیق احمد خان نے سیز فائر لائن کو توڑنے کا اعلان کیا ،جماعتوں کی مشاورت کے بعد پروگرام ملتوی کیا گیا،جماعة الدعوة ہمارا ساتھ دے ،ہم سیز فائر لائن توڑیں گے اور کشمیریوں کا عملی طور پر ساتھ دیں گے۔آج کی کانفرنس سے مودی کو پیغام ملے گا کہ کشمیری ہر حال میں آزادی چاہتے ہیں اور پاکستان ان کے ساتھ ہے۔سابق وزیر،مسلم کانفرنس کے رہنما مفتی منصور نے کہا کہ حافظ محمد سعید تحریک آزادی کشمیر کے ہی نہیں بلکہ جہاد اسلام کی سمت بن چکے ہیں۔کشمیری قوم آپ کے جذبہ کی دل کی گہرائیوں سے قدر کرتی ہے۔آزادکشمیر کے عوام مقبوضہ کشمیر کے بھائیوں کے ساتھ ہیں اور تحریک آزادی کے لئے کردار ادا کریں گے۔پروفیسر حافظ محمد سعید کو کشمیر کی آزادی کے بیس کیمپ مظفر آباد آنے پر خوش آمدید کہتا ہوں۔انصار الامة کشمیر کے امیر مولانا فاروق کشمیر ی نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کو ایک فوجی کیمپ کی شکل دے دی گئی ہے۔بے بسی کی زندگی گزارنے پر کشمیریوں کو مجبور کیا جا رہا ہے۔کشمیر کانفرنس کے انعقاد پر جماعة الدعوة کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔کشمیر کانفرنس بھارت کے لئے پیغام ہے کہ اہل کشمیر و پاکستان مقبوضہ کشمیر کے مظلوموں کے ساتھ ہیں۔انسانی حقوق کی تنظیموں و عالمی اداروں کی خاموشی کی مذمت کرتے ہیں۔چار ماہ سے کشمیریوں کا خون بہہ رہا ہے لیکن دنیا خاموش ہے۔ہم یقین دلاتے ہیں کہ کشمیریوں کے ساتھ ہیں۔اشاعت التوحید والسنة کے امیر قاری عبدالمالک نے کہا کہ ہم کشمیری مظلوموں کی مدد کے لئے نکلے ہیں۔اللہ ہمیں قرآن میں مظلوموں کی مدد کا حکم دیتا ہے۔لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے ۔بھارت کو سبق سکھا نا ہو گا۔نعروں سے ملک آزاد نہیں ہو گا۔اتحاد و یکجہتی سے کشمیریون کی مدد کریں گے تو آزادی ان کا مقدر بنے گی۔حریت کانفرنس کے رہنما مشتا ق الاسلام نے کہا کہ بھارت کشمیریوں پر مظالم کےلئے نت نئے ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے۔مہلک ہتھیاروں کا استعمال بھارتی فوج کر رہی ہے۔عالمی ادارے خاموش ہیں۔مہلک ہتھیاروں کے استعمال کی دنیا میں کہیں بھی اجازت نہیں۔سنگ بازوں کے مقابلے میں گولیاں چلائی جا رہی ہیں۔مظالم اور ہتھکنڈوں کے باوجود کشمیری قوم عزم واستقامت کے ساتھ میدان میں کھڑی ہے اور آزادی مانگ رہی ہے۔چھ لاکھ شہداءقربانیاں دے چکے اس کے باوجود کشمیری تھکے نہیں۔اسلامی ممالک کو کشمیریوں کی آزادی کے لئے کردار ادا کرنا ہو گا۔نیلم اتھارٹی کے سابق چیئرمین خواجہ شفیق نے کہا کہ کامیاب کشمیر کانفرنس کے انعقاد پر انتظامیہ کو مبارکباد پیش کرتا ہون،پنڈال میں پاکستان کاسبز ہلالی پرچم لہرا رہا ہے جو ہماری یکجہتی کو ظاہر کرتا ہے۔کشمیریوں پر مظالم کی وجہ سے بھارت سے مکمل طور پر بائیکاٹ کیا جانا چاہئے۔حافظ محمد سعید کی موجودگی میں پاکستان کی طرف کوئی میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا۔کشمیر میں پاکستان کا پرچم لہرائیں گے۔کشمیری جانوں کا نذرانہ تکمیل پاکستان کے لئے پیش کر ر ہے ہیں۔انجمن تاجران نیلم روڈ کے صدر اصغر نثار میر نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے لوگ قربانیاں دے رہے ہیں اور پاکستان کا پرچم بھی لہرا رہے ہیں۔آزادکشمیر کے لوگ اپنے بھائیوں کے ساتھ ہیں اور آزادی کی منزل تک ساتھ رہیں گے۔جماعة الدعوة مظفر آباد کے رہنما قاری مقبول الرحمان نے کہ حافظ محمد سعید کو مظفر آباد آمد پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔مودی اور اس کے وزراءکی پاکستان کو دھمکیاں گیدڑ بھبھکیاں ہیں۔سرجیکل سٹرائیک کا دعویٰ کرنے والا بھارت مجاہدین کی سرجیکل سٹرائیک کو کیوں بھول گیا۔حاجی گل خندن،عزیر احمد غزالی،راجہ ثاقب مجید،مولانا سیف اللہ خالد،مولانا احسان الحق شہباز،انجنیئر حارث ڈار،محمد راشد نے کہا کہ کشمیری ایک سو ساٹھ دنوں سے میدان میں ہیں،برہان وانی کی شہادت نے کشمیریوں کو بھارت کے مقابلے میں ایک بار پھر کھڑا کر دیا ہے،وہ اپنی آزادی کے لئے سب کچھ قربان کر نے کو تیار ہیں۔طلباءنے امتحانات نہیں دیئے،کاروبار تباہ ہو گئے لیکن مودی سرکار کی ایک نہیں سنی گئی ۔کشمیری پاکستا ن کا پرچم لہرا رہے ہیں۔بھارتی بربریت پر انسانی حقوق کی تنظیمیں ،عالمی ادارے خاموش ہیں۔پاکستان کو کشمیریوں کے حقیقی وکیل کا کردار ادا کرنا چاہئے۔

About Editor

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*