Breaking News
Home / Tafseer ul Quran / تفسیر سورۂ فاتحہ ۔ حافظ عبدالسلام بن محمدحفظہ اللہ
تفسیر سورۂ فاتحہ ۔ حافظ عبدالسلام بن محمدحفظہ اللہ

تفسیر سورۂ فاتحہ ۔ حافظ عبدالسلام بن محمدحفظہ اللہ

صحیح احادیث میں اس کا نام ” فَاتِحَۃُ الْکِتَابِ ، اَلصَّلَاۃُ ، سُوْرَۃُ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ ، سُوْرَۃُ الْحَمْدِ ، اَلسَّبْعُ الْمَثَانِیْ ، اَلْقُرْآنُ الْعَظِیْمُ ، اُمُّ الْقُرْآنِ “ اور ” اُمُّ الْکِتَابِ “ آیا ہے، جیسا کہ فاتحہ کے فضائل کی احادیث میں آ رہا ہے۔ اسماء کی کثرت سورت کے معانی و مطالب کی کثرت کی دلیل ہے۔ سورۂ فاتحہ کے فضائل : 1 ابن عباس (رض) نے فرمایا : ” ایک دفعہ جبریل (علیہ السلام) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، انھوں نے اپنے اوپر زور سے دروازہ کھلنے کی آواز سنی تو سر اٹھایا اور فرمایا : ” یہ آسمان کا ایک دروازہ ہے جو آج کھولا گیا ہے، آج سے پہلے یہ کبھی نہیں کھولا گیا۔ “ تو اس سے ایک فرشتہ اترا، پھر فرمایا : ” یہ فرشتہ زمین پر اترا ہے جو آج سے پہلے کبھی نہیں اترا۔ “ اس فرشتے نے سلام کہا اور کہا : ” آپ کو دو نوروں کی خوش خبری ہو، جو آپ کو دیے گئے ہیں، آپ سے پہلے وہ کسی نبی کو عطا نہیں ہوئے، فاتحۃ الکتاب اور سورة بقرہ کی آخری آیات۔ آپ ان دونوں میں سے جو حرف بھی پڑھیں گے وہ چیز آپ کو ضرور عطا کردی جائے گی۔ “ [ مسلم، صلاۃ المسافرین، باب فضل الفاتحۃ۔۔ ٨٠٦ ] 2 ابوسعید بن معلی (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے پاس سے گزرے، میں نماز پڑھ رہا تھا۔ آپ نے مجھے بلایا، میں نہ آیا، یہاں تک کہ میں نے نماز پڑھی، پھر آیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” تمہارے آنے میں کیا رکاوٹ بنی ؟ “ میں نے عرض کیا : ” میں نماز پڑھ رہا تھا۔ “ فرمایا : ” کیا اللہ تعالیٰ نے فرمایا نہیں کہ اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اللہ کی اور رسول کی دعوت قبول کرو۔ “ پھر فرمایا : ” کیا میں تمہیں مسجد سے نکلنے سے پہلے قرآن مجید کی سب سے عظیم سورت نہ سکھاؤں ؟ “ پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسجد سے نکلنے لگے تو میں نے آپ کو یاد دلایا تو آپ نے فرمایا : ” الحمد للہ رب العالمین ہی ” سبع مثانی “ ہے، (یعنی وہ سات آیتیں ہیں جو بار بار پڑھی جاتی ہیں) اور یہی القرآن العظیم ہے جو مجھے دیا گیا ہے۔ “ [ بخاری، التفسیر، باب قولہ : ( ولقد آتیناک سبعا۔۔ ) : ٤٧٠٣ ] 3 ابوسعید خدری (رض) فرماتے ہیں کہ ہم اپنے ایک سفر میں تھے، راستے میں اترے تو ایک لڑکی آئی اور کہنے لگی : ” قبیلے کے سردار کو سانپ نے کاٹ لیا ہے اور ہمارے لوگ غائب ہیں تو کیا تم میں کوئی دم کرنے والا ہے ؟ “ چناچہ اس کے ساتھ ایک آدمی گیا جس کے متعلق ہمیں دم کرنے کا گمان نہیں تھا، اس نے اسے دم کیا تو وہ تندرست ہوگیا۔ سردار نے اسے تیس بکریاں دینے کو کہا اور ہمیں دودھ پلایا۔ جب وہ واپس آیا تو ہم نے اس سے پوچھا : ” کیا تم اچھی طرح دم کرلیا کرتے تھے ؟ “ اس نے کہا : ” نہیں، میں نے صرف ام الکتاب کے ساتھ دم کیا ہے۔ “ ہم نے کہا : ” جب تک ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس نہ پہنچیں کچھ نہ کرو۔ “ جب ہم مدینہ میں آئے تو ہم نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کا ذکر کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اسے کیسے معلوم ہوا کہ یہ دم ہے ؟ (بکریاں) تقسیم کرلو اور میرا حصہ بھی رکھو۔ “ [ بخاری، فضائل القرآن، باب فضل فاتحۃ الکتاب : ٥٠٠٧ ] بخاری کی ایک روایت (٥٧٣٦) میں ہے کہ ان لوگوں نے ابوسعید (رض) اور ان کے ساتھیوں کی مہمان نوازی سے انکار کردیا تھا، جب انھوں نے دم کی درخواست کی تو صحابہ (رض) نے یہ کہہ کر کہ تم نے ہماری ضیافت نہیں کی تیس بکریوں کی شرط طے کی تھی۔ مسلم (٢٢٠١) میں ہے کہ یہ دم کرنے والے ابوسعید خدری (رض) ہی تھے۔ 4 خارجہ بن صلت کے چچا (علاقہ بن صحار تمیمی (رض) بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاضر ہو کر اسلام لے آئے، پھر واپس گئے تو ان کا گزر کچھ لوگوں کے پاس سے ہوا جن کے پاس ایک پاگل آدمی لوہے کی زنجیروں میں بندھا ہوا تھا۔ اس کے گھر والے کہنے لگے : ” تمہارا یہ ساتھی (یعنی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) خیر لے کر آیا ہے تو تمہارے پاس کوئی چیز ہے جس سے تم اس کا علاج کرو ؟ “ تو میں نے اسے فاتحۃ الکتاب کے ساتھ دم کیا تو وہ تندرست ہوگیا، انھوں نے مجھے ایک سو بکریاں دیں، میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور آپ کو (سارا واقعہ) بتایا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” تم نے اس کے علاوہ بھی کچھ پڑھا ؟ “ میں نے کہا : ” نہیں ! “ آپ نے فرمایا : ” بکریاں لے لو ! مجھے اپنی عمر کی قسم ! جس نے باطل دم کے ساتھ کھایا (وہ جانے) تم نے تو حق دم کے ساتھ کھایا ہے۔ “ [ أبوداوٗد، الطب، باب کیف الرقٰی : ٣٨٩٦ ] 5 ابوہریرہ (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے ہیں : ” جس نے کوئی نماز پڑھی جس میں ام القرآن نہ پڑھی، وہ ناقص ہے۔ “ تین دفعہ فرمایا تو ابوہریرہ (رض) سے کہا گیا : ” ہم امام کے پیچھے ہوتے ہیں۔ “ تو فرمایا : ” اسے اپنے دل میں پڑھو، کیونکہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ کہتے ہوئے سنا : ” اللہ تعالیٰ نے فرمایا، میں نے ” صلاۃ “ (نماز) کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان دو نصف حصوں میں تقسیم کرلیا ہے اور میرے بندے کے لیے ہے جو اس نے سوال کیا۔ تو جب بندہ (اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ ) کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ” میرے بندے نے میری حمد کی “ اور جب وہ ( الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ) کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ” میرے بندے نے میری ثنا کی “ اور جب وہ ( مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ ) کہتا ہے تو وہ فرماتا ہے : ” میرے بندے نے میری تمجید کی (بزرگی بیان کی) “ اور کبھی فرماتا ہے : ” میرے بندے نے (اپنا آپ) میرے سپرد کردیا۔ “ پھر جب وہ (اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَاِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ ) کہتا ہے تو وہ فرماتا ہے : ” یہ میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے اور میرے بندے کے لیے ہے جو اس نے سوال کیا۔ “ پھر جب وہ (اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَـقِيْمَ ۝ ۙصِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ ٩ غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّاۗلِّيْنَ ) کہتا ہے تو وہ فرماتا ہے : ” یہ میرے بندے کے لیے ہے اور میرے بندے کے لیے ہے جو اس نے سوال کیا۔ “ [ مسلم، الصلاۃ، باب وجوب قراء ۃ الفاتحۃ فی ۔۔ : ٣٩٥ ] چند فوائد : 1 جس طرح اللہ تعالیٰ کے رسولوں کے مراتب میں فرق ہے، ان میں سے بعض بعض سے افضل ہیں، ہمارے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پوری اولاد آدم کے سردار ہیں، اسی طرح سورة فاتحہ تورات، انجیل اور قرآن کی ہر سورت سے بڑی سورت ہے، اگرچہ بہت سی سورتیں آیات کے اعتبار سے اس سے لمبی ہیں، مگر عظمت میں یہ سب سے بڑھ کر ہے، جیسا کہ آیات میں آیت الکرسی سب سے عظیم آیت ہے، گو اس سے لمبی آیات بہت سی ہیں۔ 2 اس سورت کا نام ” فاتحہ “ اس لیے ہے کہ اس سے کتاب اللہ کا آغاز ہوتا ہے۔ نماز میں قراءت کا آغاز بھی اسی سے ہوتا ہے۔ قاموس میں ہے : ” فَاتِحَۃُ کُلِّ شَیْءٍ اَوَّلُہُ “ ” ہر چیز کا فاتحہ اس کے اوّل کو کہتے ہیں۔ “ 3 اس سورت کا نام ’ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ ‘ یا ” سُوْرَۃُ الْحَمْدِ “ اس لیے ہے کہ اس میں اللہ تعالیٰ کی جامع حمد آئی ہے۔ 4 اس کا نام ” اَلسَّبْعُ الْمَثَانِیْ “ اس لیے ہے کہ یہ سات آیات ہیں جو ہر نماز (فرض ہو یا نفل) کی ہر رکعت میں دہرائی جاتی ہیں، نماز کے علاوہ بھی کثرت سے پڑھی جاتی ہیں۔ دیکھیے سورة حجر (٨٧) ۔ 5 اس کے نام ” ام القرآن، ام الکتاب، القرآن العظیم “ اس لیے ہیں کہ اس میں مختصر طور پر قرآن مجید کے تمام بنیادی مضامین آگئے ہیں، باقی قرآن ان کی تفصیل ہے، چناچہ ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ کی تمام صفات کمال، اس کی حمد، ثنا اور تمجید آگئی ہیں، جیسا کہ اوپر ابوہریرہ (رض) کی حدیث میں گزرا اور آگے آیات کی تفسیر میں بیان ہوگا۔ ” يَوْمِ الدِّيْنِ “ میں آخرت، ثواب و عذاب اور وعدے اور وعید کا ذکر ہے۔ ” اِيَّاكَ نَعْبُدُ “ میں بندوں کو ایک اللہ سے مانگنے، اسی کے سامنے عاجزی کرنے، اپنی تمام عبادات زبانی ہوں یا بدنی یا مالی اسی کے لیے خاص کرنے اور اسے ہر شریک سے پاک قرار دینے کی تعلیم ہے۔ اسے ” توحید الوہیت “ کہتے ہیں، تمام پیغمبر اسی کی دعوت لے کر آئے۔ ” وَاِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ “ میں اپنے آپ کو مکمل طور پر اللہ تعالیٰ کے حوالے کرنے، اسی پر توکل کرنے اور عبادت اور دوسرے تمام معاملات میں اسی سے مدد مانگنے کی تعلیم ہے کہ اگر اس کی مدد نہ ہو تو کچھ بھی نہیں ہوسکتا۔ اسے ” استعانت “ کہتے ہیں۔ ” الصِّرَاطَ الْمُسْتَـقِيْمَ “ میں شریعت کے تمام احکام، پورا اسلام اور پورا قرآن شامل ہے۔ ” اِھْدِنَا “ میں زندگی کے ایک ایک لمحہ میں راہ راست پر چلنے اور آخری دم تک بلکہ جنت میں پہنچنے تک اس پر قائم رہنے کی دعا کی تعلیم ہے۔ ” اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ “ میں انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کی تاریخ اور ان کے واقعات کی طرف اشارہ ہے اور ان جیسے اعمال صالحہ اختیار کرنے کی ترغیب ہے، تاکہ ان کے ساتھ جنت میں جاسکیں۔ ” الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ “ میں یہود اور ان تمام اقوام کی تاریخ کا ذکر ہے جو حق جاننے کے باوجود اس کی مخالفت پر اڑ گئے اور ” الضَّاۗلِّيْنَ “ میں نصاریٰ اور ان تمام لوگوں کے واقعات کی طرف اشارہ ہے جو راہ راست سے بھٹک گئے اور ان دونوں قسم کے لوگوں کے اعمال بد سے اجتناب کی تلقین ہے، تاکہ ان کے ساتھ جہنم میں جانے سے بچے رہیں۔ (القاسمی) ان سات آیات میں قرآن مجید کے مزید مضامین کا ذکر ہر آیت کی الگ تفسیر میں بھی آئے گا۔ (ان شاء اللہ العزیز) 6 اس سورت کا نام ” صلاۃ “ اس لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ” میں نے صلاۃ کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان دو نصف حصوں میں تقسیم کرلیا ہے، اس کی وضاحت سورة الفاتحہ کے ساتھ فرمائی۔ معلوم ہوا جو ” صلاۃ “ (نماز) اس ” صلاۃ “ (فاتحہ) کے بغیر ہو وہ ” صلاۃ “ (نماز) ہی نہیں، جیسا کہ عبادہ بن صامت (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرمایا : ( لَا صَلَاۃَ لِمَنْ لَّمْ یَقْرَأْ بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ ) ” اس شخص کی کوئی نماز نہیں جو سورة فاتحہ نہ پڑھے۔ “ [ بخاری، الأذان، باب وجوب القراء ۃ للإمام۔۔ : ٧٥٦۔ مسلم : ٣٩٤ ] 7 بعض لوگوں نے کہا ہے کہ پورے قرآن کے اسرار سورة فاتحہ میں، فاتحہ کے اسرار ” بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ “ میں ” بِسْمِ اللّٰهِ “ کے اسرار اس کی باء میں اور باء کے اسرار اس کے نقطے میں آگئے ہیں۔ مگر سورة فاتحہ میں پورے قرآن کے مضامین آجانے کا یہ مطلب درست نہیں، دراصل یہ ان لوگوں کا طریقہ ہے جو نہ قرآن سمجھنا چاہتے ہیں نہ اس پر عمل کرنا چاہتے ہیں، بلکہ اپنے ایجاد کردہ طریقوں کو قرآن کا نام دے کر مسلمانوں کو گمراہ کر رہے ہیں۔ (المنار) 8 سورة فاتحہ کا دوسری سورتوں سے تعلق : 1 کائنات کی تمام چیزوں کی تخلیق، پرورش اور حفاظت ” رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ “ اور ” الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ “ کے تحت ہیں۔ 2 توحید کے متعلق تمام قرآنی آیات ” اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَاِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ “ کے تحت ہیں۔ 3] داؤد (علیہ السلام) کے واقعہ میں اور دوسرے تمام مقامات میں عدل و انصاف کا ذکر ” مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ “ کے تحت ہے۔ 4 ابراہیم (علیہ السلام) کی قربانی ” اِيَّاكَ نَعْبُدُ “ کے تحت اور ان کی اور تمام انبیاء کی دعائیں ” اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَـقِيْمَ “ کے تحت ہیں۔ 5 ایوب (علیہ السلام) کی شفا، یونس (علیہ السلام) کی نجات، ابراہیم (علیہ السلام) کا آگ میں محفوظ رہنا، زکریا (علیہ السلام) کو بڑھاپے میں اولاد ملنا وغیرہ سب ” الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ “ کے تحت ہیں۔ 6 ایمان دار اور متقی لوگوں کے احوال و واقعات اور ان کا نیک انجام آخری آیت کے تحت ہیں۔ اسی طرح بدکار اور سرکش لوگوں کے احوال و واقعات اور ان کا انجام بد بھی اسی آیت کے تحت ہیں۔ اسی کے مطابق دوسری تمام آیات و واقعات سمجھ لیں۔ 7 شیطان کا تکبر کے باعث دھتکارا ہوا ہونا ” الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ “ کی مثال ہے۔ (بدیع التفاسیر) 9 یہ سورت اگرچہ اللہ کا کلام ہے مگر یہ بندوں کو سکھانے کے لیے نازل ہوئی ہے کہ وہ یوں کہیں۔ دلیل اس کی گزشتہ حدیث ہے کہ بندہ یوں کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے۔ اس میں بندے کو اللہ تعالیٰ سے مانگنے کا طریقہ سکھایا گیا ہے کہ پہلے اس کی حمد و ثنا اور تمجید کی جائے، پھر اللہ تعالیٰ سے اس کا بندہ ہونے کے تعلق کا ذکر کیا جائے اور اپنی بندگی کا وسیلہ پیش کیا جائے، اس کے بعد اللہ سے مدد مانگتے ہوئے اصل مقصد کا سوال کیا جائے جو صراط مستقیم کی ہدایت کا سوال ہے، جس سے اہم کوئی سوال نہیں۔ اس لیے بعض اہل علم نے اس کا نام ” تعلیم المسئلہ “ بھی رکھا ہے، یعنی مانگنے کا طریقہ سکھانے والی سورت۔ 0 بعض لوگ زندہ یا فوت شدہ لوگوں کے نام کے وسیلے سے دعا کرتے ہیں کہ یا اللہ ! فلاں کے وسیلے سے یا واسطے سے یا بحرمت فلاں میری دعا قبول فرما، یہ بدعت ہے اور قرآن و سنت سے کہیں ثابت نہیں اور اگر یہ عقیدہ رکھے کہ ان بزرگوں کا نام لیا جائے تو وہ اللہ تعالیٰ سے منوا لیتے ہیں تو یہ شرک ہے جس میں مشرکین عرب مبتلا تھے۔ دیکھیے سورة یونس (١٨) اور سورة زمر (٣) ۔ صحیح وسیلہ جو ثابت ہے وہ اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات کے وسیلے سے دعا کرنا ہے، یا اپنے کسی صالح عمل کے وسیلے سے دعا کرنا، جیسا کہ ” اِيَّاكَ نَعْبُدُ “ میں ہے اور جیسا کہ آل عمران (١٩٣) میں ایمان لانے کے وسیلے سے دعا کی گئی ہے اور غار والے تین اصحاب نے اپنے اپنے خالص عمل کے وسیلے سے دعا کی تھی۔ [ بخاری، أحادیث الأنبیاء، باب حدیث الغار : ٣٤٦٥، عن ابن عمر ] یا کسی زندہ آدمی سے دعا کروانا، جیسا کہ صحابہ کرام (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دعا کروایا کرتے تھے اور عمر (رض) عباس (رض) سے بارش کی دعا کروایا کرتے تھے۔ [ بخاری، فضائل أصحاب النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، باب ذکر العباس بن عبد المطلب (رض) : ٣٧١٠، عن أنس ] ان تین صورتوں کے سوا وسیلے کی جتنی صورتیں ہیں، کچھ بدعت ہیں اور کچھ شرک کے زمرے میں آتی ہیں، اس لیے ان سے اجتناب لازم ہے۔ ! یہ سورت بہترین دم ہے، سانپ کے زہر جیسی خطرناک بیماری اور دیوانگی جیسی مشکل سے درست ہونے والی بیماری کا دور ہونا اس کی بےانتہا شفائی تاثیر کی دلیل ہے۔ میری ہمشیرہ ایک ٹانگ سے معذور تھی اور بیساکھی کے سہارے سے چلتی تھی، اس کی تندرست ٹانگ بھی بےکار ہوگئی، سارے گھر والے سخت مصیبت میں پھنس گئے، میرے والد صاحب کو ایک عالم نے سورة فاتحہ کا دم کرنے کی تاکید کی۔ تیرھویں دن ہمشیرہ دیوار کے سہارے سے ٹانگ پر کھڑی ہوگئی اور پھر اس کی ٹانگ بالکل تندرست ہوگئی۔ تقریباً چالیس برس ہوگئے آج تک وہ بیساکھی کے ساتھ اس ٹانگ پر چلتی پھرتی ہے۔ مجھے زندگی میں دو تین دفعہ نہایت سخت بیماری پیش آئی، علاج کے ساتھ ساتھ گھر والے سورة فاتحہ کا دم کرتے رہے، اگرچہ کچھ مدت لگی مگر اللہ تعالیٰ نے شفا دے دی۔ (الحمد للہ) @ ان احادیث سے قرآن کے ساتھ دم پر اجرت کا جواز ثابت ہوتا ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے الفاظ : ( اِنَّ اَحَقَّ مَا اَخَذْتُمْ عَلَیْہِ اَجْرًا کِتَاب اللّٰہِ ) (سب سے زیادہ حق چیز جس پر تم اجرت لو، اللہ کی کتاب ہے) [ بخاری، الطب، باب الشروط فی الرقیۃ بفاتحۃ الکتاب : ٥٧٣٧ ] اس کی دلیل ہیں۔ کتاب اللہ کی کتابت، طباعت، جلد بندی، خریدو فروخت اور تعلیم وغیرہ پر اجرت نہایت پاکیزہ اجرت ہے۔ اہل کتاب کو جو اللہ کی آیات کے بدلے تھوڑی قیمت لینے پر ملامت کی گئی اس کی وجہ ان کا حق کو چھپانا اور دنیاوی مفاد کے لیے غلط فتوے دینا تھا۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورة بقرہ (٤١، ٧٩، ١٧٤) اور آل عمران (١٨٧) ۔/ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ۝ اللہ کے نام سے جو بےحد رحم والا، نہایت مہربان ہے۔ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ : شیخ المفسرین طبری (رض) فرماتے ہیں :” اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ادب سکھایا کہ اپنے تمام کاموں اور اہم مواقع سے پہلے اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ اور اس کی صفات عالیہ کا ذکر کریں اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ذریعے سے اپنی تمام مخلوق کو طریقہ سکھایا کہ اپنی گفتگو کا آغاز اور اپنے خطوط، کتابوں اور تمام ضروری کاموں کی ابتدا اسی کے ساتھ کریں، یہاں تک کہ ” بِسْمِ اللّٰهِ “ (اللہ کے نام کے ساتھ) کہتے ہوئے یہ بیان کرنے کی ضرورت ہی نہیں کہ اللہ کے نام کے ساتھ کیا کرنا ہے، حذف شدہ لفظ خود ہی واضح ہوتا ہے کہ میں اللہ کے نام کے ساتھ پڑھتا ہوں یا کھاتا ہوں یا فلاں کام کرتا ہوں۔ یہاں ” اسم “ (نام) ” تَسْمِیَۃٌ“ (نام لینے) کے معنی میں ہے، جیسا کہ ” کَلَامٌ“ ” تَکْلِیْمٌ“ (کلام کرنے) کے معنی میں اور ” عَطَاءٌ“ ” اِعْطَاءٌ“ (دینے) کے معنی میں ہے۔ معنی یہ ہے کہ میں اللہ کا نام لینے اور اسے یاد کرنے کے ساتھ پڑھتا ہوں (یا کوئی بھی کام کرتا ہوں) اور اس کے اسمائے حسنیٰ اور صفات علیا کا نام لینے کے ساتھ قراءت (یا کسی بھی کام) کا آغاز کرتا ہوں۔ “ مختصراً لفظ ” اللّٰهِ “ اس ہستی کا علم (ذاتی نام) ہے جو سب سے بلندو برتر اور سب کا خالق ومالک ہے۔ اس لفظ کا اصل ” اِلَاہٌ“ ہے۔ الف لام لگایا تو ” اَلْاِلَاہٌ“ بن گیا۔ کثرت استعمال کی وجہ سے تخفیف کے لیے ” اِلاَہٌ“ کا ہمزہ حذف کردیا گیا اور الف لام والے لام کو ” اِلَاہٌ“ کے لام میں مدغم کردیا، ” اِلَاہٌ“ کے لام کے بعد والا الف بھی کثرت استعمال کی وجہ سے لکھنے میں ترک کردیا گیا، تو لفظ ” اللّٰهِ “ ہوگیا۔ یہ ” فِعَالٌ“ بمعنی ” مفعول “ ہے، یعنی ” اِلَاہٌ“ بمعنی ” مَأْلُوْہٌ“ ہے، یعنی وہ ذات جس کی عبادت کی جاتی ہے۔ ’ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ‘ کی تفسیر اگلی آیت میں آرہی ہے۔ ” بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ “ سورة نمل میں بالاتفاق آیت کا جزو ہے۔ صحابہ کے اجماع کے ساتھ اسے فاتحہ اور دوسری سورتوں کے شروع میں لکھا گیا ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ سورة توبہ کے سوا ہر سورت کا جزو ہے۔ ہر سورت کے ساتھ اس کا نازل ہونا صحیح حدیث سے بھی ثابت ہے۔ عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک سورت کا دوسری سے الگ ہونا اس وقت تک نہیں پہچانتے تھے جب تک آپ پر ” بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ “ نازل نہیں ہوتی تھی۔ [ أبوداوٗد، الصلاۃ، باب من جھر بہا : ٧٨٨ ] اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ 1- 1 – 1 سب تعریف اللہ کے لیے ہے جو سارے جہانوں کا پالنے والا ہے۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ : حمد کا معنی کسی خوبی کی وجہ سے تعریف ہے۔ اس پر الف لام استغراق کا ہے جس سے مراد حمد کے تمام افراد ہیں، یعنی جو تعریف بھی ہے اللہ ہی کی ہے، نہ کسی دوسرے خود ساختہ معبود کی نہ کسی مخلوق کی، کیونکہ مخلوق میں اگر تعریف کے لائق کوئی خوبی ہے تو وہ اسی کی پیدا کردہ ہے۔ لفظ ” اللہ “ چونکہ ذاتی نام ہے، اس لیے اس میں اللہ تعالیٰ کے تمام اسماء وصفات آجاتے ہیں، وہ ننانوے اسماء وصفات بھی جن کا ذکر حدیث میں ہے اور وہ بھی جو ان کے علاوہ ہیں، خواہ وہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق میں سے کسی کو سکھائے ہیں یا ان کا علم صرف اپنے پاس رکھا ہے۔ جس طرح محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مراد وہ ذات گرامی ہے جو نبی بھی ہے رسول بھی، شاہد، مبشر اور نذیر بھی، داعی الی اللہ اور سراج منیر بھی، ماحی اور عاقب بھی، خاتم النّبیین اور سید ولد آدم بھی، غرض اسم محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (ذاتی نام) میں آپ کے تمام نام اور تمام صفات آجاتی ہیں، اسی طرح لفظ ” اللہ “ علم (ذاتی نام) ہونے کی وجہ سے تمام اسماء وصفات کا جامع ہے، اس لیے اہل علم فرماتے ہیں کہ ” اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ “ دعویٰ بھی ہے اور دلیل بھی، یعنی سب تعریف اللہ کے لیے ہے، کیونکہ وہ تمام صفات کمال کا جامع ہے اور ہر صفت پر اس کی حمد لازم ہے۔ 3 ” اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ “ میں کئی عموم ہیں اور ایک خصوص ہے۔ ” اَلْحَمْدُ “ میں الف لام استغراق کا ہونے کی وجہ سے کئی قسم کا عموم ہے اور ” لِلّٰهِ “ میں ایک خصوص ہے، وہ یہ کہ اس میں لام اختصاص کا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ہر حمد اللہ تعالیٰ کے لیے خاص ہے۔ حمد کے عموم میں فاعل کا بھی عموم ہے کہ ہر حمد کرنے والا درحقیقت اللہ ہی کی تعریف کرتا ہے، خواہ وہ خود رب العالمین ہو یا انسان یا جن یا فرشتہ یا کوئی بھی مخلوق ہو۔ ایک مقام پر فرمایا : (وَاِنْ مِّنْ شَيْءٍ اِلَّايُسَبِّحُ بِحَمْدِهٖ ) [ بنی إسرائیل : ٤٤ ] ” جو بھی شے ہے اس کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتی ہے۔ “ اسی طرح حمد کے عموم میں مکان (جگہ) کا بھی عموم ہے، یعنی وہ کسی بھی جگہ میں ہو، زمین میں ہو یا آسمان میں، یا ان کے درمیان ہو یا عرش پر، فرمایا : (وَلَهُ الْحَمْــدُ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ) [ الروم : ١٨ ] یعنی آسمانوں اور زمین میں اسی کی حمد ہے۔ اسی طرح زمان کا بھی عموم ہے، یعنی وہ حمد دن میں ہو یا رات میں، ماضی میں ہو یا حال میں یا مستقبل میں، دنیا میں ہو یا آخرت میں، سب کی سب اللہ کے لیے خاص ہے، فرمایا : (وَهُوَ اللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ۭ لَهُ الْحَمْدُ فِي الْاُوْلٰى وَالْاٰخِرَةِ ۡ) [ القصص : ٧٠ ] ” اور وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، اسی کے لیے دنیا اور آخرت میں سب تعریف ہے۔ “ اس طرح ” اَلْحَمْدُ “ میں خود حمد کا بھی عموم ہے، یعنی وہ حمد کسی بھی لفظ کے ساتھ ہو یا کسی بھی زبان میں، بلند آواز سے ہو یا آہستہ، دل سے ہو یا زبان سے یا دوسرے اعضاء کے ساتھ، غرض تعریف کوئی بھی ہو صرف اکیلے اللہ کے لیے خاص ہے، کسی دوسرے میں کوئی خوبی یا قابل تعریف بات ہے تو وہ اس کی اپنی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ ہی کی عطا کردہ ہے، اس لیے اس کی وجہ سے اس کی تعریف بھی درحقیقت اللہ تعالیٰ ہی کی تعریف ہے۔ 3 بعض اہل علم نے قرآن مجید کے چار حصے کیے ہیں، ہر حصہ ” اَلْحَمْدُ “ سے شروع ہوتا ہے۔ پہلا حصہ (اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ ) ” سورة فاتحہ “ سے شروع ہوتا ہے، دوسرا ( اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَجَعَلَ الظُّلُمٰتِ وَالنُّوْرَ ) سورة انعام سے، تیسرا (اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْٓ اَنْزَلَ عَلٰي عَبْدِهِ الْكِتٰبَ ) سورة کہف سے اور چوتھا (اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ ) سورة سبا سے۔ 3 ” اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ “ ایسا مبارک کلمہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی کتاب کا آغاز اس سے ہوتا ہے، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہر خطبہ کی ابتدا اس سے کرتے تھے۔ (مسلم : ٤٥؍٨٦٨) کھانا کھانے کے بعد اور چھینک آنے پر اللہ کی حمد کرتے تھے۔ (بخاری : ٥٤٥٨، ٦٢٢٤) سوتے وقت بستر پر آ کر یہ دعا پڑھتے : (اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَکَفَانَا وَ آوَانَا، فَکَمْ مِمَّنْ لَا کَافِیَ لَہُ وَلَا مُؤْوِیَ ) ” سب تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے ہمیں کھلایا اور ہمیں پلایا اور ہمیں کافی ہوگیا اور ہمیں ٹھکانا دیا، کیونکہ کتنے ہی لوگ ہیں جنھیں نہ کوئی کفایت کرنے والا ہے اور نہ کوئی ٹھکانا دینے والا۔ “ [ مسلم، الذکر والدعاء، باب الدعاء عند النوم : ٢٧١٥، عن أنس ] صبح اٹھتے وقت یہ دعا پڑھتے : ( اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَحْیَانَا بَعْدَ مَا اَمَاتَنَا وَ اِلَیْہِ النُّشُوْرُ )” سب تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے ہمیں مارنے کے بعد زندہ کیا اور اسی کی طرف اٹھ کر جانا ہے۔ “ [ بخاری، الدعوات، باب وضع الید تحت الخد الیمنٰی : ٦٣١٤، عن حذیفۃ (رض) ] قیامت کے دن لوگ قبروں سے اللہ تعالیٰ کی حمد کرتے ہوئے نکلیں گے، فرمایا : (يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ ) [ بنی إسرائیل : ٥٢] ” جس دن وہ تمہیں بلائے گا تو تم اس کی حمد کرتے ہوئے چلے آؤ گے۔ “ اور جنت میں داخل ہونے کے بعد اللہ کی حمد کریں گے، فرمایا : ( وَقَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ هَدٰىنَا لِھٰذَا ۣ وَمَا كُنَّا لِنَهْتَدِيَ لَوْلَآ اَنْ هَدٰىنَا اللّہ) [ الأعراف : ٤٤] ” اور وہ کہیں گے سب تعریف اللہ کی ہے جس نے ہمیں اس کی ہدایت دی اور ہم کبھی نہ تھے کہ ہدایت پاتے اگر یہ نہ ہوتا کہ اللہ نے ہمیں ہدایت دی۔ “ اور جنت میں ان کی گفتگو کا اختتام بھی اسی پر ہوا کرے گا، فرمایا : (دَعْوٰىھُمْ فِيْهَا سُبْحٰنَكَ اللّٰهُمَّ وَتَحِيَّتُھُمْ فِيْهَا سَلٰمٌ ۚ وَاٰخِرُ دَعْوٰىھُمْ اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ ) [ یونس : ١٠ ] ” ان کی دعا ان (جنتوں) میں یہ ہوگی ” پاک ہے تو اے اللہ ! “ اور ان کی آپس کی دعا ان میں سلام ہوگی اور ان کی دعا کا خاتمہ یہ ہوگا کہ سب تعریف اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔ “ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ان خوش نصیبوں میں شامل فرمائے۔ (آمین) 3 کلمہ ” اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ “ ایک عظیم الشان حقیقت کا اظہار بھی ہے، کلمۂ شکر بھی اور بہترین مکمل دعا بھی، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” پاکیزگی نصف ایمان ہے اور ” الحمد للہ “ میزان کو بھر دیتا ہے۔ “ [ مسلم، الطہارۃ، باب فضل الوضوء : ٢٢٣، عن أبی مالک الأشعری (رض) ] تفصیل اس کی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ہر عبادت کا اصل مقصود اسے پکارنا اور اس سے مانگنا ہے، جیسا کہ نعمان بن بشیر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( اَلدُّعَاءُ ھُوَ الْعِبَادَۃُ )” پکارنا ہی عبادت ہے۔ “ [ ترمذی، الدعوات، باب منہ ۔۔ : ٣٣٧٢، و صححہ الألبانی ] انسان کی ہر عبادت، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، جہاد، غرض زندگی کا ہر لمحہ اس کے حکم کے مطابق غلام بن کر گزارنا اس سے مانگنے ہی کی مختلف صورتیں ہیں۔ ان میں سے بہترین صورت اس کی تعریف کرنا اور اس کا شکر ادا کرنا ہے، اس پر وہ مزید نعمتوں سے نوازتا ہے، فرمایا : (لَىِٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِيْدَنَّكُمْ ) [ إبراہیم : ٧ ] ” بیشک اگر تم شکر کرو گے تو میں ضرور ہی تمہیں زیادہ دوں گا۔ “ اسی لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : (اَفْضَلُ الذِّکْرِ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَ اَفْضَلُ الدُّعَاءِ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ ) ” سب سے بہتر ذکر لا الہ الا اللہ ہے اور سب سے بہتر دعا الحمد للہ ہے۔ “ [ ترمذی، الدعوات، باب ما جاء أن دعوۃ المسلم مستجابۃ : ٣٣٨٣، عن جابر (رض) ۔ السلسلۃ الصحیحۃ : ١٤٩٧ ] ایک عرب شاعر نے اپنے ممدوح کے متعلق کہا ہے ؂ اِذَا أَثْنٰی عَلَیْکَ الْمَرْأُ یَوْمًا کَفَاہُ مِنْ تَعَرُّضِہِ الثَّنَاءُ ” جب کوئی شخص کسی دن تمہاری تعریف کرتا ہے تو اسے اس کے سوال کرنے سے تعریف ہی کافی ہوجاتی ہے۔ “ جب ایک سخی شخص جو مخلوق ہے، صرف تعریف سن کر نواز دیتا ہے، صاف لفظوں میں سوال کا انتظار نہیں کرتا تو رب العالمین جو جواد بھی ہے، ماجد بھی، اپنی حمد پر کیوں نہیں نوازے گا۔ خصوصاً جب اس سے بڑھ کر اپنی تعریف سن کر خوش ہونے والا کوئی نہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” ایسا کوئی نہیں جسے اللہ سے زیادہ (اپنی) تعریف پسند ہو، اس لیے اس نے خود اپنی تعریف کی ہے۔ “ [ بخاری، التفسیر، باب قول اللہ عزوجل : ( قل إنما حرم ربی الفواحش۔۔ ) : ٤٦٣٧، عن ابن مسعود (رض) ] رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ : ” رَبِّ “ کا معنی ہے سردار جس کی اطاعت ہوتی ہو اور مالک اور پرورش کرنے والا۔ یہ ” رَبَّ یَرُبُّ (ن) “ (پرورش کرنا) میں سے صفت مشبہ کا صیغہ ہے، یا مصدر ہے جو مبالغہ کے لیے اسم فاعل کی جگہ استعمال ہوا ہے، جیسے ” زَیْدٌ عَدْلٌ“ ” زَیْدٌ عَادِلٌ“ کی جگہ استعمال ہوتا ہے، یعنی زید اتنا عادل ہے کہ اس کا وجود ہی عدل ہے۔ اللہ تعالیٰ میں یہ تینوں صفات بدرجۂ اتم موجود ہیں، اس سے بڑا سید کوئی نہیں، وہی سب کا مالک ہے اور ہر ایک کو پیدائش سے کمال تک پہنچانے والا اور اس کی ہر ضرورت پوری کرنے والا بھی وہی ہے، گویا وہ ذات پاک سراپا پرورش ہے۔ 8 ” الْعٰلَمِيْنَ “ ” اَلْعَالَمُ “ کی جمع ہے، جہان۔ ” اَلْعَالَمُ “ جمع ہے جس کا واحد نہیں، جیسے ” قَوْمٌ، رَھْطٌ، نَاسٌ“ وغیرہ۔ معنی اس کا ہے : ” مَا یُعْلَمُ بِہِ الشَّیْءُ “ جس کے ذریعے سے کسی چیز کا علم حاصل ہو، جیسا کہ ” خَاتَمٌ“ کا معنی ہے : ” مَا یُخْتَمُ بِہِ “ جس کے ساتھ مہر لگائی جائے۔ عرب یہ وزن آلہ کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ جہان کو عالم اس لیے کہتے ہیں کہ کوئی بھی مخلوق ہو، اس کے ذریعے سے خالق کا علم حاصل ہوتا ہے کہ اسے پیدا کرنے والا موجود ہے۔ ” ۭالْعٰلَمِيْنَ “ کو جمع اس لیے ذکر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی ہر مخلوق ایک الگ جہان ہے، مثلاً عالم انس، عالم جن، عالم نبات، عالم جماد، عالم ارض اور عالم سماء وغیرہ۔ پھر ان میں سے ہر ایک کے کئی عالم ہیں، مثلاً انسانوں میں ہر جنس، ہر زبان اور ہر علاقے والوں کا الگ جہان ہے۔ غرض اتنے بےحساب جہاں ہیں جنھیں رب تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، فرمایا : (وَمَا يَعْلَمُ جُنُوْدَ رَبِّكَ اِلَّا هُوَ ) [ المدثر : ٣١ ] ” اور تیرے رب کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ “ ایک چیونٹی ہی کی ہزاروں قسمیں ہیں، پرندوں کے بیشمار جہان ہیں، سمندر کی مخلوقات کا شمار ہی نہیں، بیشمار کہکشائیں اور ان کے سیارے جن کے مقابلے میں سورج چاند وغیرہ ایک انگوٹھی کی طرح ہیں، ہر ایک الگ جہان ہے۔ ان میں سے ہر ایک اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کے وحدہ لا شریک لہ ہونے کے علم کا ذریعہ ہے۔ رب العالمین ان میں سے ہر ایک کو پیدا کرنے والا، پھر ہر لمحہ اس کی ہر ضرورت پوری کرنے والا اور اسے کمال تک پہنچانے والا ہے۔ غرض سب تعریف اللہ کے لیے ہے، کیونکہ وہ ” رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ “ ہے۔ 3 ” اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ “ کے بعد اللہ تعالیٰ کی چار صفات بیان ہوئی ہیں، پہلی صفت ” رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ “ میں قرآن کے بنیادی مضامین میں سے توحید کے علاوہ وعدہ اور وعید دونوں موجود ہیں کہ پرورش کرنے والا خوش ہو کر نوازتا ہے تو ناراض ہو کر محروم بھی کردیا کرتا ہے۔ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ 2- 2-1 بےحد رحم والا، نہایت مہربان ہے۔ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ. یہ دوسری اور تیسری صفت ہے۔ جب سارے جہانوں کی ربوبیت کا ذکر ہوا تو ساتھ ہی اللہ کی بیحد و حساب رحمت کا ذکر ہوا، کیونکہ رحمت کے بغیر ربوبیت ممکن ہی نہیں ہے۔ یہ دونوں رحم میں سے مبالغے کے صیغے ہیں۔ معنی دونوں کا بہت زیادہ رحم والا ہے، مگر اس پر اتفاق ہے کہ ” الرَّحْمٰنِ “ میں مبالغہ زیادہ ہے، کیونکہ اس کے حروف ” الرَّحِيْمِ “ سے زیادہ ہیں (اور حروف کی زیادتی سے معنی میں زیادتی ظاہر ہوتی ہے) اور اس لیے بھی کہ لفظ ” اللہ “ کی طرح ” رحمان “ بھی صرف باری تعالیٰ کے لیے بولا جاتا ہے، جب کہ ” رحیم “ بعض اوقات مخلوق پر بھی آجاتا ہے، جیسا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق فرمایا : (بِالْمُؤْمِنِيْنَ رَءُوْفٌ رَّحِيم) [ التوبۃ : ١٢٨ ] ” مومنوں پر بہت شفقت کرنے والا، نہایت مہربان ہے۔ “ اللہ تعالیٰ نے یہاں رحم میں مبالغے کا اظہار کرنے کے لیے دو لفظ کیوں ذکر فرمائے ؟ بعض اہل علم نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ یہ تاکید کے لیے ہے، مگر اکثر علماء ایک مادے (رحم) سے مشتق ہونے کے باوجود ان دونوں کے درمیان فرق مانتے ہیں۔ اکثر مفسرین نے فرمایا کہ ” الرَّحْمٰنِ “ کا معنی بڑی بڑی نعمتیں عطا کرنے والا اور ” الرَّحِيْمِ “ کا معنی دقیق اور باریک نعمتوں سے نوازنے والا ہے۔ بعض نے فرمایا کہ رحمٰن وہ ہے جس کی رحمت سب کے لیے عام ہے، مسلم ہوں یا کافر، جب کہ رحیم وہ ہے جو خاص طور پر مومنوں کو رحمت سے نوازنے والا ہے۔ بعض نے فرمایا کہ رحمٰن وہ ہے جس کی رحمت دنیا میں مسلم و کافر سب کے لیے اور آخرت میں صرف مسلمانوں کے لیے ہے اور رحیم وہ جو آخرت میں خاص مسلمانوں پر رحم کرنے والا ہے۔ مگر ان تینوں اقوال کی پختہ دلیل، جس پر اعتراض نہ ہو، مجھے معلوم نہیں ہوسکی۔ مفسر قاسمی نے شیخ محمد عبدہ مصری (رض) سے ایک مدلل و مضبوط فرق نقل کیا ہے، میں اسے تھوڑی سی وضاحت اور اضافے سے نقل کرتا ہوں۔ وہ یہ ہے کہ رحمٰن ” فَعْلَانُ “ کے وزن پر ہے، جو معنی کی کثرت پر دلالت کرتا ہے، مثلاً ” عَطْشَانُ “ بہت زیادہ پیاسا، ” غَرْثَانُ “ بہت زیادہ بھوکا اور ” غَضْبَانُ “ غصے سے بھرا ہوا۔ اس وزن میں معنی کی کثرت تو ہوتی ہے مگر ضروری نہیں کہ وہ اس میں ہمیشہ رہے، بلکہ وہ ختم بھی ہوسکتی ہے، جیسا کہ موسیٰ (علیہ السلام) طور سے لوٹے تو ” غَضْبَانُ “ (غصے سے بھرے ہوئے) تھے، مگر ہارون (علیہ السلام) کا عذر سن کر غصہ ختم ہوگیا، بلکہ ان کے لیے مغفرت کی دعا فرمائی۔ گویا رحمٰن کا معنی وہ ذات ہے جس میں بہت ہی زیادہ رحمت ہے، جو بیحد و بےحساب ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے جب مخلوق پیدا فرمائی تو اس کتاب میں لکھ دیا جو اس کے پاس عرش پر ہے کہ بیشک میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے۔ “ [ بخاری، التوحید، باب قول اللہ تعالیٰ : ( ویحذرکم اللہ نفسہ ) : ٧٤٠٤، عن أبی ہریرہ (رض) ] ” فَعِیْلٌ“ کا وزن کسی چیز میں مفہوم کے لزوم، دوام اور ہمیشگی کے لیے آتا ہے، وہ صفت اس سے جدا نہیں ہوسکتی، مثلاً علیم، حلیم، عظیم، خبیر، بصیر، سمیع، رؤف اور رحیم۔ یعنی وہ ذات جس کی رحمت دائمی ہے، کبھی اس سے جدا نہیں ہوتی۔ دونوں صفتوں کے ملنے سے صفت رحمت کی وسعت بھی ثابت ہوئی اور اس کا دوام بھی۔ اگر اس کی رحمت میں وسعت و کثرت نہ ہو تو بعض مخلوق محروم رہ جائے اور اگر اس میں دوام نہ ہو تو کوئی چیز نہ پایۂ تکمیل تک پہنچے، نہ باقی رہ سکے۔ 3 قرآن مجید میں ثنائے الٰہی پر مشتمل تمام آیات ” الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ “ کی تفصیل ہیں۔ اللہ تعالیٰ اور بندے کے درمیان نماز کی تقسیم والی حدیث قدسی کے مطابق بندہ جب ” الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ “ کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ” میرے بندے نے میری ثنا کی۔ “ [ مسلم، الصلوۃ، وجوب قراء ۃ الفاتحۃ ۔۔ : ٣٩٥ ] مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ 3-1 بدلے کے دن کا مالک ہے۔ مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ ” الدِّيْنِ “ ” دَانَ یَدِیْنُ “ کا مصدر ہے، بدلہ دینا، جزا دینا۔ رحمن و رحیم کے بعد جزا کے دن کا مالک ہونے کی صفت بیان فرمائی۔ ایک قراءت (مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ ) ہے یعنی روز جزا کا مالک اور دوسری ” مَلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ “ ہے، یعنی روز جزا کا بادشاہ۔ قرآن مجید کے رسم الخط میں ” مٰلِكِ “ لکھا ہے، اسے ” مَالِکِ “ اور ” مَلِکِ “ دونوں طرح پڑھا جاسکتا ہے اور دونوں قراءتیں متواتر طور پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ثابت ہیں۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کا مالک بھی ہے اور بادشاہ بھی۔ ” الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ “ کے ساتھ قیامت کے دن کے مالک اور بادشاہ ہونے کی مناسبت یہ ہے کہ بعض اوقات کوئی بہت رحم کرنے والا ہوتا ہے مگر اس کی ملکیت میں کچھ نہیں ہوتا، اس لیے وہ چاہتے ہوئے بھی رحم نہیں کرسکتا، پھر کوئی شخص بہت سی ملکیت کا مالک ہوتا ہے مگر اس کا بادشاہ کوئی اور ہوتا ہے، وہ مالک ہوتے ہوئے بھی پورا اختیار نہیں رکھتا۔ ” يَوْمِ الدِّيْنِ “ کے معنی یوم جزا کے ہیں۔ اس دنیا میں بھی مکافات یعنی اعمال کی جزا کا سلسلہ جاری رہتا ہے، مگر اس جزا کا مکمل ظہور چونکہ قیامت کے دن ہوگا اس لیے قیامت کے دن کو خاص طور پر ” يَوْمِ الدِّيْنِ “ (بدلے کا دن) کہا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ کے اس دن کے ” مَالِک “ اور ” مَلِک “ (بادشاہ) ہونے کے یہ معنی ہیں کہ اس روز ظاہری طور پر بھی مالکیت اور ملوکیت کا یہ سلسلہ ختم ہوجائے گا، فرمایا : (يَوْمَ لَا تَمْلِكُ نَفْسٌ لِّنَفْسٍ شَـيْــــًٔا ۭ وَالْاَمْرُ يَوْمَىِٕذٍ لِّلّٰهِ ) [ الانفطار : ١٩ ] ” جس دن کوئی جان کسی جان کے لیے کسی چیز کی مالک نہیں ہوگی اور اس دن حکم صرف اللہ کا ہوگا۔ “ اور فرمایا : (لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ ۭ لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ ) [ المؤمن : ١٦ ] ” آج بادشاہی کس کی ہے ؟ اللہ ہی کی جو ایک ہے، دبدبے والا ہے۔ “ اس دن مالک بھی اللہ تعالیٰ ہوگا، بادشاہ بھی وہی ہوگا، صرف اسی کا حکم چلے گا۔ صفت رحمت اور بدلے کے دن کی ملکیت میں مناسبت اس حدیث سے واضح ہوتی ہے جس میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ کے پاس سو رحمتیں ہیں، جن میں سے اس نے ایک رحمت جن و انس، جانوروں اور کیڑے مکوڑوں کے درمیان نازل فرمائی ہے، اسی کے ساتھ وہ ایک دوسرے پر شفقت کرتے ہیں اور اسی کے ساتھ وہ ایک دوسرے پر رحم کرتے ہیں اور اسی کے ساتھ وحشی جانور اپنے بچوں پر شفقت کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ننانویں رحمتیں مؤخر کر رکھی ہیں، جن کے ساتھ وہ قیامت کے دن اپنے بندوں پر رحم فرمائے گا۔ “ [ مسلم، التوبۃ، باب فی سعۃ رحمۃ اللہ تعالٰی۔۔ : ١٩؍٢٧٥٢۔ بخاری : ٦٠٠٠، عن أبی ہریرہ (رض) ] 3 تقسیم صلاۃ والی حدیث قدسی کے مطابق بندہ جب (مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ ) کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ( مَجَّدَنِیْ عَبْدِیْ ) ” میرے بندے نے میری تمجید (بزرگی بیان) کی۔ “ ایک روایت کے مطابق فرماتا ہے : ( فَوَّضَ اِلَیَّ عَبْدِیْ )” میرے بندے نے اپنا سب کچھ میرے سپرد کردیا۔ “ [ مسلم، الصلوۃ، باب وجوب قراءۃ الفاتحۃ ۔۔ : ٣٩٥ ] قرآن مجید میں تمجید الٰہی اور تفویض و توکل پر مشتمل تمام آیات ” مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ “ کی تفصیل ہیں۔ اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَاِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ 4- ہم صرف تیری عبادت کرتے ہیں اور صرف تجھ سے مدد مانگتے ہیں۔ اِيَّاكَ نَعْبُدُ : سورت کے شروع میں اللہ تعالیٰ کی حمد غائب کے صیغے کے ساتھ کی گئی ہے، ” اِيَّاكَ نَعْبُدُ “ اور اس کے بعد کی آیات میں اللہ تعالیٰ کو مخاطب کرلیا گیا ہے، اسے التفات کہتے ہیں۔ اس میں اشارہ ہے کہ بندہ جب اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہے تو اسے اس کا قرب اور اس کی بارگاہ میں حاضری کا شرف حاصل ہوجاتا ہے، اب وہ براہ راست خطاب کے صیغے سے اپنی درخواست پیش کرتا ہے۔ 2 عربی زبان میں جملہ فعلیہ کی ترتیب یہ ہے کہ پہلے فعل، پھر فاعل اور اس کے بعد مفعول ہوتا ہے۔ اگر بعد والے لفظ کو پہلے لایا جائے تو اس سے کلام میں تخصیص یا حصر پیدا ہوجاتا ہے۔ ” اِيَّاكَ نَعْبُدُ “ اصل میں ” نَعْبُدُکَ “ (ہم تیری عبادت کرتے ہیں) تھا۔ مفعول ” کاف ضمیر “ کو ” نَعْبُدُ “ سے پہلے لایا گیا تو ” اِيَّاكَ نَعْبُدُ “ ہوگیا، جس سے کلام میں حصر پیدا ہوگیا، یعنی ہم تیری عبادت کرتے ہیں، کسی اور کی نہیں کرتے۔ اس مفہوم کو ” ہم صرف تیری عبادت “ یا ” ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں “ کے ساتھ ادا کیا جاتا ہے۔ یہ بعینہ ” لا الٰہ الا اللہ “ کا مفہوم ہے، یعنی عبادت کے لائق اللہ تعالیٰ ہی ہے، دوسرا کوئی نہیں۔ 3 عبادت کا معنی کسی کو غیبی طاقتوں کا مالک سمجھ کر اس سے انتہائی درجے کی محبت کے ساتھ اس کے سامنے انتہائی درجے کی عاجزی، ذلت اور خوف ہے۔ یہ حق صرف اللہ تعالیٰ کا ہے۔ اسلام نے بندوں کو ایسی ہر غلامی سے آزادی دلا کر صرف ایک ذات پاک کا بندہ اور عبد بنادیا جو انھیں پیدا کرنے والی اور ان کی پرورش کرنے والی ہے۔ عبادت صرف اس کی ہے، اس کے ساتھ کسی کو نہ شریک کرنا جائز ہے نہ اس کی محبت جیسی محبت یا اس کے خوف جیسا خوف کسی سے جائز ہے۔ افسوس کہ بعض مسلمان اللہ کے گھر میں داخل ہوتے یا نکلتے وقت اتنے خوف زدہ اور لرزہ براندام نہیں ہوتے جتنے وہ کسی قبر پر یا کسی پیر کے پاس جاتے یا واپس آتے وقت ہوتے ہیں۔ ہر نماز کی ہر رکعت میں ” اِيَّاكَ نَعْبُدُ “ کے عہد و اقرار کے بعد کسی دوسرے کی بندگی اللہ تعالیٰ سے سب سے بڑی غداری ہے، جسے وہ کبھی معاف نہیں فرمائے گا۔ دیکھیے سورة نساء (١١٦) اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں تین جگہ فرمایا کہ ان لوگوں نے اللہ کی قدر اس طرح نہیں کی جیسے اس کی قدر کا حق ہے۔ دیکھیے سورة انعام (٩١) ، حج ( ٧٤) اور زمر (٦٧) ۔ وَاِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ ” نَسْتَعِيْنُ “ ” عَوْنٌ“ میں سے باب استفعال فعل مضارع جمع متکلم کا صیغہ ہے، جو اصل میں ” نَسْتَعْوِنُ “ تھا۔ اس میں بھی ” اِيَّاكَ “ پہلے آنے کی وجہ سے حصر ہے، یعنی ہم تجھ سے مدد مانگتے ہیں، کسی دوسرے سے نہیں۔ یہاں سے بندے کی درخواست شروع ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق قبول ہوچکی۔ 3 ” اِيَّاكَ نَعْبُدُ “ کو پہلے اور ” وَاِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ “ کو بعد میں ذکر کرکے دعا کا سلیقہ سکھایا گیا ہے کہ درخواست سے پہلے اللہ کی حمد و ثنا اور تمجید کے بعد اپنی بندگی اور اپنے تعلق کا حوالہ پیش کرو، یعنی اپنے عمل کے وسیلے سے درخواست کرو۔ یہ وسیلہ حق ہے، جیسا کہ فرمایا : (رَبَّنَآ اِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِيًا يُّنَادِيْ لِلْاِيْمَانِ اَنْ اٰمِنُوْا بِرَبِّكُمْ فَاٰمَنَّاڰ رَبَّنَا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَكَفِّرْ عَنَّا سَيِّاٰتِنَا وَتَوَفَّنَا مَعَ الْاَبْرَارِ ) [ آل عمران : ١٩٣ ] ” اے ہمارے رب ! بیشک ہم نے ایک آواز دینے والے کو سنا، جو ایمان کے لیے آواز دے رہا تھا کہ اپنے رب پر ایمان لے آؤ تو ہم ایمان لے آئے۔ اے ہمارے رب ! پس ہمیں ہمارے گناہ بخش دے اور ہم سے ہماری برائیاں دور کر دے اور ہمیں نیکوں کے ساتھ فوت کر۔ “ صحیح بخاری (٣٤٦٥) میں غار میں پھنسنے والے تین آدمیوں کا قصہ بھی اس کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص سے کیے ہوئے اعمال کے وسیلے سے دعا قبول ہوتی ہے۔ البتہ کسی شخص کا نام لے کر اس کی ذات یا اس کی حرمت وغیرہ کے وسیلے سے دعا کرنا کتاب و سنت سے ثابت نہیں، مثلاً یہ کہنا کہ یا اللہ ! فلاں کے وسیلے یا طفیل یا واسطے سے یا بحرمت فلاں میری دعا قبول کر۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورة بقرہ (٣٧) (فَتَلَـقّيٰٓ اٰدَمُ مِنْ رَّبِّهٖ كَلِمٰتٍ ) کی تفسیر۔ 6 ” اِيَّاكَ نَعْبُدُ “ کے بعد ” وَاِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ “ لانے میں یہ سبق بھی ہے کہ آدمی یقین رکھے کہ وہ کوئی بھی نیکی اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر نہیں کرسکتا اور مکمل طور پر اللہ کے سامنے بےبس اور بےاختیار ہونے کا عقیدہ رکھے اور اس کا اظہار و اقرار بھی کرے۔ یعنی ہم صرف تیری عبادت کرتے ہیں اور تیری عبادت میں اور اپنے تمام کاموں میں تیری ہی مدد مانگتے ہیں، تیری مدد کے بغیر نہ ہم تیری عبادت کرسکتے ہیں نہ کچھ اور۔ اس لفظ میں اللہ پر توکل اور اپنے تمام کام اس کے سپرد کرنے کی اعلیٰ ترین تعلیم دی گئی ہے۔ بعض سلف نے فرمایا، فاتحہ قرآن کا خلاصہ ہے اور (اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَاِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ ) فاتحہ کا خلاصہ ہے۔ کیونکہ ” اِيَّاكَ نَعْبُدُ “ کہنے سے انسان شرک سے بری ہوجاتا ہے اور ” وَاِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ “ کہنے سے وہ اپنی قوت و طاقت اور اختیار سے خالی ہو کر صرف اللہ پر توکل و اعتماد کا اقرار و اظہار کرتا ہے۔ 7 اس استعانت سے مراد ان کاموں میں مدد طلب کرنا ہے جن کا اختیار اللہ تعالیٰ نے صرف اپنے پاس رکھا ہے، کسی مخلوق کو ان کا اختیار نہیں دیا، مثلاً معالج دوا دے سکتا ہے مگر شفا صرف اللہ کے پاس ہے۔ کوئی صاحب خیر کچھ روپے پیسے دے سکتا ہے مگر غنی یا فقیر کردینا اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ طبیب علاج کرسکتا ہے مگر اولاد سے نوازنا صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ فوج، آدمیوں اور اسلحے سے ایک دوسرے کی مدد ہوسکتی ہے مگر فتح و شکست اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ غرض دنیا کے ظاہری اسباب و وسائل جو انسانوں کو عطا کیے گئے ہیں، ان میں ایک دوسرے سے مدد مانگنا بھی جائز ہے اور ایک دوسرے کی مدد کرنا بھی لازم ہے، جیسا کہ فرمایا : (وَتَعَاوَنُوْا عَلَي الْبِرِّ وَالتَّقْوٰى [ المائدۃ : ٢ ] ” نیکی اور تقویٰ پر ایک دوسرے کی مدد کرو۔ “ افسوس کہ بعض لوگ ان ہستیوں کو مدد کے لیے پکارتے ہیں جو سنتے ہی نہیں، نہ پاس موجود ہوتے ہیں اور ایسی چیزوں کی مدد مانگتے ہیں جو اگر وہ زندہ ہوں یا سن رہے ہوں تب بھی ان کے اختیار میں نہیں۔ کتنا ظلم ہے کہ نماز کی ہر رکعت میں ” وَاِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ “ (صرف تجھ سے مدد مانگتے ہیں) کا اقرار کرتے ہیں، پھر غیر اللہ سے مدد مانگتے ہیں، مثلاً ” یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ! اَغِثْنِیْ “ (اے اللہ کے رسول ! میری مدد کیجیے) یا اے مولا علی، اے شیر خدا ! میری کشتی پار لگا دینا، یا المدد یا غوث اعظم، یا مدد کن یا معین الدین چشتی۔ غرض صرف اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنے کے عہد و اقرار کے بعد غیروں کو رب تعالیٰ کا شریک بنا کر انھیں رب کے اختیارات کا مالک سمجھتے ہیں اور ان سے استغاثہ و استعانت کرتے ہیں۔ 3 یہاں ایک سوال ہے کہ ” اِيَّاكَ نَعْبُدُ “ سے آخر فاتحہ تک دعا کرنے والا جمع کے صیغے سے دعا کرتا ہے، جب کہ دعا کرنے والا ایک ہے، اس لیے واحد کا صیغہ ہونا چاہیے تھا، اگر جمع کا لفظ تعظیم کے لیے مانا جائے تو یہ دعا کے مناسب نہیں ہے۔ جواب اس کا یہ ہے کہ بندہ اپنی انتہائی تواضع کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی عالی بارگاہ میں اپنی درخواست اکیلا پیش کرنے کی جرأت نہیں کرتا، بلکہ تمام عبادت کرنے والے جن و انس اور فرشتوں کے ساتھ مل کر پیش کرتا ہے کہ ہم سب (جن میں تیرا یہ عاجز بندہ بھی ہے) تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھی سے مدد مانگتے ہیں۔ بعض اہل علم نے یہ حکمت بیان فرمائی کہ جمع کے صیغے میں ایک لطیف تواضع پائی جاتی ہے، وہ یہ کہ واحد کے صیغے میں اپنی کچھ بڑائی کا اظہار ہوتا ہے جو جمع کے صیغے میں نہیں ہے۔ (ابن کثیر) بعض مفسرین نے اس میں یہ حکمت بیان فرمائی کہ ہر مومن دوسرے مومنوں کے ساتھ ایک جسم کی مانند ہے اور ہر مومن تمام مومنوں کی نمائندگی کرتا ہے، اس لیے وہ اکیلا ہی تمام مسلمانوں کی طرف سے عرض کرتا ہے کہ ہم سب صرف تیری تعریف کرتے ہیں اور صرف تجھ سے مدد مانگتے ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( اَلْمُؤْمِنُوْنَ تَتَکَافَأُ دِمَاءُ ھُمْ وَ یَسْعٰی بِذِمَّتِھِمْ اَدْنَاھُمْ وَ ھُمْ یَدٌ عَلٰی مَنْ سِوَاھُمْ ) ” ایمان والے لوگ، ان کے خون آپس میں برابر ہوتے ہیں، ان کا سب سے معمولی آدمی بھی ان کے عہد کو پورا کرنے کی کوشش کرتا ہے اور وہ اپنے سوا سب کے مقابلے میں ایک ہاتھ ہوتے ہیں۔ “ [ أبوداوٗد، الدیات، باب أیقاد المسلم من الکافر ؟ : ٤٥٣٠، وقال الألبانی حسن صحیح ] اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَاِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ “ سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ عبادت و استعانت کی بہترین صورت اجتماعی عبادت و استعانت ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کی جامع صورت نماز کو باجماعت ادا کرنے کا حکم دیا : (وَاَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتُوا الزَّكٰوةَ وَارْكَعُوْا مَعَ الرّٰكِعِيْنَ ) [ البقرۃ : ٤٣ ] ” اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔ “ وَاِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ میں یہ ذکر نہیں فرمایا کہ کس کام کے لیے مدد مانگتے ہیں، تاکہ وہ عام رہے، مقصد یہ ہے کہ ہر کام میں تیری مدد مانگتے ہیں۔ اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَـقِيْمَ 4-1 ہمیں سیدھے راستے پر چلا۔ اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَـقِيْمَ ہدایت کا ایک معنی نرمی اور مہربانی کے ساتھ راستہ بتانا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا : (وَاِنَّكَ لَـــتَهْدِيْٓ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ ) [ الشوریٰ : ٥٢ ] ” اور بیشک تو یقیناً سیدھے راستے کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔ “ یہ ہدایت اللہ تعالیٰ ، اس کے رسول اور دوسرے لوگ سبھی کرسکتے ہیں۔ ہدایت کا دوسرا معنی راستے پر چلنے کی توفیق دینا ہے، یہ صرف اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو مخاطب کرکے فرمایا : (اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَاۗءُ ) [ القصص : ٥٦ ] ” بیشک تو ہدایت نہیں دیتا جسے تو دوست رکھے اور لیکن اللہ ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے۔ “ ” الصِّرَاطَ “ اس کا اصل ” سِرَاطٌ“ ہے، جو ” سَرَطَ یَسْرُطُ سَرَطًا، سَرَطَانًا (ن، ع ) “ سے مشتق ہے، سین کو صاد سے بدل دیا گیا، اس کا معنی نگلنا ہے۔ ” سِرَاطٌ“ کا معنی واضح راستہ ہے، کیونکہ اس پر چلنے والا اس طرح غائب ہوجاتا ہے جیسے نگلا ہوا کھانا غائب ہوجاتا ہے۔ (القاموس) ” الْمُسْتَـقِيْمَ “ ” قَامَ یَقُوْمُ “ میں سے باب استفعال سے اسم فاعل ہے، جو اصل میں ” مُسْتَقْوِمٌ“ ہے، معنی اس کا وہی ہے جو ” قَامَ یَقُوْمُ “ کا ہے۔ حروف کی زیادتی سے معنی میں تاکید پیدا ہوگئی، بالکل سیدھا راستہ۔ پچھلی آیت میں ” اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ “ سے سوال پیدا ہوتا تھا کہ کیا مدد چاہتے ہو ؟ اللہ تعالیٰ نے جواب یہ سکھایا کہ کہو پروردگار ! ہمیں زندگی کے ہر لمحے میں اور اپنے ہر کام میں تیری ہدایت کی ضرورت ہے، کیونکہ اگر تو نہ بتائے تو ہم ظلوم و جہول کسی چیز کے متعلق جان ہی نہیں سکتے کہ اس میں صحیح راستہ کیا ہے۔ اگر جان بھی لیں تو اپنے نفس کی کمزوریوں، شہوت، غضب، حسد، طمع، بخل اور کبر وغیرہ کی وجہ سے اور شیطان اور دوسرے دشمنوں کی وجہ سے اس صحیح راستے پر چلنا اور قائم رہنا تیری توفیق کے بغیر ممکن نہیں، اس لیے ہماری درخواست ہے کہ ہر کام اور ہر لمحے میں ہمیں سیدھے راستے کو جاننے کی اور اس پر چلنے کی توفیق عطا فرما۔ بعض لوگ یہاں ایک سوال ذکر کرتے ہیں کہ جب ہم پہلے ہی ہدایت پر ہیں تو پھر ہدایت کی درخواست کا کیا مطلب ؟ اس کا جواب وہ یہ دیتے ہیں کہ مقصد یہ ہے کہ ہمیں ہدایت پر قائم رکھ۔ یہ مطلب بھی درست ہے، مگر آپ خود سوچ لیں کہ انسان کو ہر لمحے کسی نہ کسی کام کے متعلق فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ مجھے اس میں کیا کرنا ہے، تھوڑی سی لغزش اسے بہت دور پہنچا سکتی ہے، اس لیے یہ کہنا کہ ہم ہر وقت اور ہر کام میں ہدایت پر ہیں، بہت بڑی دلیری کی بات ہے۔ اس لیے یہ حقیقت تسلیم کرتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے بغیر ہم کسی بھی قدم پر گمراہی کا شکار ہوسکتے ہیں، ہر وقت اللہ تعالیٰ سے ہدایت مانگتے رہنا لازم ہے۔ الصِّرَاطَ الْمُسْتَـقِيْمَ : سے مراد دین اسلام ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ تک اور جنت تک پہنچانے والا یہی واضح، صاف اور سیدھا راستہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خود اس کی صراحت فرمائی : (قُلْ اِنَّنِيْ هَدٰىنِيْ رَبِّيْٓ اِلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ ڬ دِيْنًا قِــيَمًا مِّلَّةَ اِبْرٰهِيْمَ حَنِيْفًا ۚ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ. قُلْ اِنَّ صَلَاتِيْ وَنُسُكِيْ وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِيْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ ١٦٢؀ۙلَا شَرِيْكَ لَهٗ ۚ وَبِذٰلِكَ اُمِرْتُ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِيْن)[ الأنعام : ١٦١ تا ١٦٣ ] ” کہہ دے بیشک مجھے تو میرے رب نے سیدھے راستے کی طرف راہنمائی کردی ہے جو مضبوط دین ہے، ابراہیم کی ملت، جو ایک ہی طرف کا تھا اور مشرکوں سے نہ تھا۔ کہہ دے بیشک میری نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت اللہ کے لیے ہے جو جہانوں کا رب ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں اور مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے اور میں مسلمین (حکم ماننے والوں) میں سب سے پہلا ہوں۔ “ نواس بن سمعان (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے صراط مستقیم (سیدھے راستے) کی مثال بیان فرمائی۔ اس راستے کے دونوں طرف دو دیواریں ہیں جن میں کھلے ہوئے دروازے ہیں۔ ان دروازوں پر پردے لٹکے ہوئے ہیں اور اس راستے کے دروازے پر ایک بلانے والا ہے جو کہتا ہے : ” اے لوگو ! تم سب اس راستے میں داخل ہوجاؤ اور ٹیڑھے مت ہونا۔ “ اور ایک بلانے والا اس راستے کے اوپر کنارے سے آواز دے رہا ہے۔ جب کوئی انسان ان دروازوں میں سے کسی کو کھولنا چاہتا ہے تو وہ کہتا ہے : ” افسوس تجھ پر ! اسے مت کھول، کیونکہ اگر تو اسے کھولے گا تو اس میں داخل ہوجائے گا۔ “ سو ” الصِّرَاطَ “ (وہ راستہ) اسلام ہے اور دونوں دیواریں اللہ تعالیٰ کی حدود ہیں اور کھلے دروازے اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزیں ہیں اور راستے کے شروع میں بلانے والی چیز اللہ کی کتاب ہے اور راستے کے اوپر کنارے والا اللہ تعالیٰ کا نصیحت کرنے والا ہے جو ہر مسلم کے دل میں ہے۔ “ [ مسند أحمد : ٤؍١٨٢، ١٨٣، ح : ١٧٦٥٢۔ ترمذی : ٢٨٥٩، قال ابن کثیر حسن صحیح و صححہ الألبانی والسیوطی ] معلوم ہوا صراط مستقیم اسلام ہے جو ہمارے پاس کتاب و سنت کی صورت میں موجود ہے، اس لیے جب کوئی کتاب و سنت سے ہٹ کر کسی شخصیت یا گروہ کے پیچھے لگتا ہے تو وہ صراط مستقیم سے ہٹ جاتا ہے، پھر اس کے لیے منزل مقصود جنت تک پہنچنا کسی صورت ممکن نہیں، جب تک ان تمام ٹیڑھی راہوں سے ہٹ کر کتاب و سنت کی واضح، کشادہ، روشن اور سیدھی راہ پر نہیں آتا۔ الصِّرَاطَ الْمُسْتَـقِيْمَ : میں پورا اسلام اور اس کے احکام آگئے، باقی قرآن و سنت اس کی تفصیل ہے۔ صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ ۹ غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّاۗلِّيْنَ 5-1 ان لوگوں کے راستے پر جن پر تو نے انعام کیا، جن پر نہ غصہ کیا گیا اور نہ وہ گمراہ ہیں۔ (صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ ) یعنی جن لوگوں پر تو نے دوسرے بیشمار انعامات کے ساتھ اپنی اطاعت کی توفیق کا خاص انعام کیا، ان سے مراد چار قسم کے لوگ ہیں جن کا اس آیت میں ذکر ہے، فرمایا : (وَمَنْ يُّطِعِ اللّٰهَ وَالرَّسُوْلَ فَاُولٰۗىِٕكَ مَعَ الَّذِيْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ مِّنَ النَّبِيّٖنَ وَالصِّدِّيْقِيْنَ وَالشُّهَدَاۗءِ وَالصّٰلِحِيْنَ ۚ ) [ النساء : ٦٩ ] ” اور جو کوئی اللہ اور رسول کی فرماں برداری کرے تو یہ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام کیا، نبیوں اور صدیقوں اور شہداء اور صالحین میں سے۔ “ قرآن مجید میں مذکور انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کے تمام واقعات اس مختصر جملے کی تفصیل ہیں۔ (غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّاۗلِّيْنَ ) قرآن مجید میں ” الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ “ یہود کو کہا گیا ہے، چناچہ ان کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا : ( وَضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ وَالْمَسْكَنَةُ ۤ وَبَاۗءُوْ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ ) [ البقرۃ : ٦١ ] ” اور ان پر ذلت اور محتاجی مسلط کردی گئی اور وہ اللہ کی طرف سے بھاری غضب لے کر لوٹے۔ “ اور فرمایا : (فَبَاۗءُوْ بِغَضَبٍ عَلٰي غَضَبٍ ) [ البقرۃ : ٩٠ ] ” پس وہ غضب پر غضب لے کر لوٹے۔ “ اور فرمایا : (قُلْ هَلْ اُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِكَ مَثُوْبَةً عِنْدَ اللّٰهِ ۭ مَنْ لَّعَنَهُ اللّٰهُ وَغَضِبَ عَلَيْهِ وَجَعَلَ مِنْهُمُ الْقِرَدَةَ وَالْخَـنَازِيْرَ وَعَبَدَ الطَّاغُوْتَ ۭ اُولٰۗىِٕكَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّاَضَلُّ عَنْ سَوَاۗءِ السَّبِيْلِ ) [ المائدۃ : ٦٠ ] ” کہہ دے کیا میں تمہیں اللہ کے نزدیک جزا کے اعتبار سے اس سے زیادہ برے لوگ بتاؤں ؟ وہ جن پر اللہ نے لعنت کی اور جن پر وہ غصے ہوا اور جن میں سے اس نے بندر اور خنزیر بنا دیے اور جنھوں نے طاغوت کی عبادت کی۔ یہ لوگ درجے میں سب سے برے اور سیدھے راستے سے زیادہ بھٹکے ہوئے ہیں۔ “ اور ” الضَّاۗلِّيْنَ “ نصاریٰ کو کہا گیا ہے، چناچہ فرمایا : (وَلَا تَتَّبِعُوْٓا اَهْوَاۗءَ قَوْمٍ قَدْ ضَلُّوْا مِنْ قَبْلُ وَاَضَلُّوْا كَثِيْرًا وَّضَلُّوْا عَنْ سَوَاۗءِ السَّبِيْلِ ) [ المائدۃ : ٧٧ ] ” اور اس قوم کی خواہشوں کے پیچھے مت چلو جو اس سے پہلے گمراہ ہوچکے اور انھوں نے بہت سوں کو گمراہ کیا اور وہ سیدھے راستے سے بھٹک گئے۔ “ اس آیت سے پہلے مسلسل نصاریٰ کا ذکر آ رہا ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی ” الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ “ اور ” الضَّاۗلِّيْنَ “ کی یہی تفسیر فرمائی۔ چناچہ عدی بن حاتم (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : (اَلْیَھُوْدُ مَغْضُوْبٌ عَلَیْھِمْ وَ النَّصَارٰی ضُلَّالٌ ) ” یہود ” مَغْضُوْبٌ عَلَیْھِمْ “ ہیں اور نصاریٰ گمراہ ہیں۔ “ [ ترمذی، تفسیر القرآن، باب ومن سورة فاتحۃ الکتاب : ٢٩٥٤، و صححہ الألبانی ] 3 رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تفسیر سے ثابت ہوگیا کہ ” الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ “ یہود ہیں اور ” الضَّاۗلِّيْنَ “ نصاریٰ ، مگر لفظ عام ہونے کی وجہ سے اس میں وہ تمام لوگ شامل ہیں جن میں وہ عادات و خصائل پائے جاتے ہیں جو یہود کے ” الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ “ بننے کا باعث ٹھہرے، یا جن کی وجہ سے نصاریٰ ” الضَّاۗلِّيْنَ “ (گمراہ) ٹھہرے۔ مثلاً یہود پر غضب نازل ہونے کے اسباب جو اللہ تعالیٰ نے شمار فرمائے ہیں اختصار کے ساتھ یہ ہیں، اللہ کی کتاب میں تحریف، اللہ کی آیات کو چھپانا، اللہ کی حدود مثلاً رجم اور ہاتھ کاٹنے کو معطل کرنا، اللہ پر جھوٹ باندھنا، اپنے پاس سے مسائل بیان کرکے انھیں اللہ کا حکم قرار دینا، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر حسد کی وجہ سے ایمان نہ لانا اور باہمی ضد کی وجہ سے بہتر (٧٢) فرقوں میں بٹ جانا۔ شاہ ولی اللہ (رض) لکھتے ہیں : ” وَ بالْجُمْلَۃِ فَاِنْ شِءْتَ أَنْ تَرَی نَمُوْذَجَ الْیَھُوْدِ فَانْظُرْ اِلٰی عُلَمَاء السُّوْءِ مِنَ الَّذِیْنَ یَطْلُبُوْنَ الدُّنْیَا وَ قَدِ اعْتَادُوْا تَقْلِیْدَ السَّلَفِ وَ اَعْرَضُوْا عَنْ نُّصُوْصِ الْکِتَابِ وَالسُّنَّۃِ وَ تَمَسَّکُوْا بِتَعَمُّقِ عَالِمٍ وَ تَشَدُّدِہِ وَ اسْتِحْسَانِہِ فَاَعْرَضُوْا عَنْ کَلَام الشَّارِعِ الْمَعْصُوْمِ وَ تَمَسَّکُوْا بِأَحَادِیْثَ مَوْضُوْعَۃٍ وَ تَأْوِیْلَاتٍ فَاسِدَۃٍ کَانَتْ سَبَبَ ھَلَاکِھِمْ “ ” قصہ مختصر اگر تم چاہو کہ یہود کا نمونہ دیکھو تو ان علمائے سوء کو دیکھ لو جو دنیا طلب کر رہے ہیں اور پہلے لوگوں کی تقلید کے عادی ہوچکے ہیں، جنھوں نے کتاب و سنت کی صریح آیات و احادیث سے منہ موڑ لیا اور کسی عالم کے تکلف، اس کے تشدد اور اس کے استحسان کو مضبوطی سے پکڑ لیا ہے۔ چناچہ انھوں نے معصوم پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کلام سے منہ موڑ لیا اور من گھڑت احادیث اور فاسد تاویلات سے چمٹ گئے، جو ان کی ہلاکت کا باعث بن گئیں۔ “ (الفوز الکبیر) اور نصاریٰ کی گمراہی کے اسباب یہ تھے، مسیح (علیہ السلام) کے بارے میں غلو، ان کو عین خدا یا تین میں سے ایک خدا کہنا، مریم [ کو تین میں سے ایک خدا کہنا، مسیح (علیہ السلام) ، مریم [ اور صلیب کی پوجا کرنا، قبروں کو مسجدیں بنانا، احبارو رہبان کو رب بنانا وغیرہ۔ شاہ ولی اللہ (رض) فرماتے ہیں : ” وَاِنْ شِءْتَ أَنْ تَرَی نَمُوْذَجًا لِھٰذَا الْفَرِیْقِ فَانْظُرِ الْیَوْمَ اِلٰی أَوْلَادِ الْمَشَاءِخِ الْأَوْلِیَاءِ مَاذَا یَظُنُّوْنَ بآبَاءِھِمْ ؟ فَتَجِدُھُمْ قَدْ أَفْرَطُوْا فِیْ اِجْلَالِھِمْ کُلَّ الْاِفْرَاطِ وَ سَیَعْلَمُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا أَیَّ مُنْقَلَبٍ یَّنْقَلِبُوْنَ “ ” اگر چاہو کہ اس گروہ کا نمونہ دیکھو تو بزرگ اولیاء کی آج کل کی اولاد کو دیکھ لو کہ وہ اپنے باپ دادا کے متعلق کیا گمان رکھتے ہیں، چناچہ تم انھیں پاؤ گے کہ وہ ان کی بزرگی بیان کرتے ہیں، جتنا مبالغہ ہو سکے کرتے ہیں اور عنقریب وہ لوگ جان لیں گے جنھوں نے ظلم کیا کہ وہ لوٹنے کی کون سی جگہ لوٹ کر جائیں گے۔ “ (الفوز الکبیر) (غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّاۗلِّيْنَ ) کا ترجمہ عام طور پر کیا جاتا ہے : ” نہ راستہ ان لوگوں کا جن پر غضب ہوا اور نہ گمراہوں کا “ مگر حقیقت یہ ہے کہ ” غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ “ میں لفظ ” غَيْرِ “ پچھلی آیت میں ” الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ “ سے بدل یا اس کی صفت ہے، یعنی ” الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ “ اور ” غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّاۗلِّيْنَ “ دونوں ایک ہی لوگ ہیں، اس لیے ترجمہ یہ ہوگا : ” ہمیں سیدھے راستے پر چلا، ان لوگوں کے راستے پر جن پر تو نے انعام کیا، جن پر نہ غصہ کیا گیا اور نہ وہ گمراہ ہیں۔ “ یہاں ایک سوال ہے کہ کیا ” صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ “ کافی نہ تھا، پھر اس کے بعد ” غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّاۗلِّيْنَ “ لانے میں کیا حکمت ہے ؟ جواب اس کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا انعام تو اس کی ہر مخلوق پر بیشمار ہے، کم از کم اسے پیدا کرنا اور اس کی زندگی کی ہر ضرورت پوری کرنا ہی بہت بڑی نعمت ہے، اس لیے یہ تعلیم دی کہ ان لوگوں کے راستے پر چلنے کی دعا کرو جن پر اللہ نے انعام کیا، مگر وہ غضب کا نشانہ نہیں بنے، نہ ہی وہ گمراہ ہیں، ایسے لوگ وہ چار گروہ ہیں جن کا اوپر ذکر ہوا۔ (صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ ) میں انعام کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کی ہے، جب کہ غضب اور ضلال کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف نہیں کی۔ اس میں اللہ تعالیٰ کے ادب کی تعلیم ہے کہ اگرچہ خیر و شر دونوں کا خالق وہ ہے مگر شر کی نسبت اس کی طرف نہیں کی جاتی، کیونکہ اس کا ہر فعل خیر ہی خیر ہے۔ حذیفہ بن یمان (رض) (عَسٰٓي اَنْ يَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا) کی تفسیر میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کرتے ہیں کہ قیامت کے دن جب سب لوگ ایک میدان میں کھڑے ہوں گے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ تعالیٰ کو پکاریں گے : ( لَبَّیْکَ وَ سَعْدَیْکَ وَالْخَیْرُ فِیْ یَدَیْکَ وَالشَّرُّ لَیْسَ اِلَیْکَ ) [ مستدرک حاکم، تفسیر سورة بنی إسرائیل : ٢؍٣٦٣، ح : ٣٣٨٤ ] ” بار بار حاضر ہوں اور بار بار حاضر ہوں، خیر تیرے ہاتھوں میں ہے اور شر تیری طرف نہیں ہے۔ “ اسے حاکم نے شیخین کی شرط پر صحیح کہا ہے اور ذہبی نے اس کی موافقت کی ہے۔ سورة کہف میں خضر (علیہ السلام) نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کشتی توڑنے اور دوسرے دو واقعات کی اصل حقیقت بیان کرتے وقت اللہ تعالیٰ کے اس ادب کا خاص خیال رکھا ہے، ملاحظہ فرمائیں سورة کہف (٧٩ تا ٨٢) کی تفسیر۔ سورة فاتحہ پڑھنے کے بعد ” آمین “ کہنا چاہیے، اس کا معنی اے اللہ ! قبول فرما، یا ایسے ہی کر دے ہے۔ یہ لفظ قرآن مجید کا حصہ نہیں، اس کی دلیل یہ ہے کہ اسے قرآن مجید کے ساتھ نہیں لکھا گیا۔ امام کے ” وَلَا الضَّاۗلِّيْنَ “ کہنے پر امام اور مقتدی دونوں کو آمین کہنا چاہیے۔ مقتدی کو امام کی آمین کے ساتھ آمین کہنا چاہیے۔ اس کے متعلق چند احادیث درج کی جاتی ہیں، ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” جب امام (غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّاۗلِّيْنَ ) کہے تو تم آمین کہو، کیونکہ جس کا (آمین) کہنا فرشتوں کے کہنے کے موافق ہوگیا، اس کے پہلے گناہ معاف کردیے جائیں گے۔ “ [ بخاری، الأذان، باب جھر المأموم بالتأمین : ٧٨٢ ] ابوہریرہ (رض) ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” جب امام آمین کہے تو تم آمین کہو، کیونکہ جس کا آمین کہنا فرشتوں کے آمین کہنے کے موافق ہوگیا، اس کے پہلے گناہ معاف کردیے جائیں گے۔ “ [ بخاری، الأذان، باب جھر الإمام بالتأمین : ٧٨٠۔ مسلم : ٤١٠ ] ابوموسیٰ اشعری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” جب امام ” وَلَا الضَّاۗلِّيْنَ “ کہے تو تم آمین کہو، اللہ تعالیٰ تمہاری دعا قبول کرلے گا۔ “ [ مسلم، الصلاۃ، باب التشھد فی الصلاۃ : ٤٠٤ ] وائل بن حجر (رض) بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے نماز پڑھی تو آپ نے بلند آواز سے آمین کہی اور دائیں اور بائیں سلام پھیرا، یہاں تک کہ میں نے آپ کے رخسار کی سفیدی دیکھ لی۔ [ أبوداوٗد، الصلٰوۃ، باب التأمین وراء الإمام : ٩٣٤، وقال الألبانی حسن صحیح ] وائل بن حجر (رض) ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب ” وَلَا الضَّاۗلِّيْنَ “ پڑھتے تو ” آمین “ کہتے اور اس کے ساتھ اپنی آواز بلند کرتے۔ [ أبوداوٗد، باب التأمین وراء الإمام : ٩٣٣، وقال الألبانی صحیح ] وائل بن حجر (رض) ہی بیان کرتے ہیں کہ میں نے سنا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّاۗلِّيْنَ ) پڑھا اور اس کے ساتھ اپنی آواز کو لمبا کیا۔ [ ترمذی، الصلاۃ، باب ما جاء فی التأمین : ٢٤٨، وقال الألبانی صحیح ] عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” یہودیوں نے تم پر کسی چیز میں وہ حسد نہیں کیا جو انھوں نے آمین کہنے اور سلام میں تم پر حسد کیا ہے۔ “ [ ابن ماجہ، إقامۃ الصلوات، باب الجھر بآمین : ٨٥٦۔ مسند أحمد : ٦؍١٣٤، ١٣٥، ح : ٢٥٠٨٢، و قال الألبانی صحیح ]

About Editor

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*