Breaking News
Home / خبریں / پاک انڈیا / حکومت پاکستان کشمیریوں کی رسمی تائید کے بجائے اپنا بھرپور کردار ادا کرے۔ امیر جماعۃ الدعوۃ
حکومت پاکستان کشمیریوں کی رسمی تائید کے بجائے اپنا بھرپور کردار ادا کرے۔ امیر جماعۃ الدعوۃ

حکومت پاکستان کشمیریوں کی رسمی تائید کے بجائے اپنا بھرپور کردار ادا کرے۔ امیر جماعۃ الدعوۃ

                  امیر جماعۃ الدعوۃ پاکستان پروفیسر حافظ محمد سعیدنے کہا ہے کہ 2017کا سال کشمیر کے نام کرتے ہیں۔ جماعۃ الدعوۃ کی شوری کے اجلاس میں فیصلے کیے گئے ہیں کشمیریوں کی آواز دنیا تک پہنچانے کے لیے ملک بھر میں تمام سرگرمیاں اور پروگرامات کشمیر کے حوالے سے کیئے جائیں۔ جماعتی تشخص سے بالا تر ہوکر تحریک آزدی جموں کشمیر کے نام سے مہم چلائی جائے گی۔ جس میں تمام دینی و سیاسی جماعتوں کو ساتھ ملایا جائے گا۔ کشمیری پاکستانی پرچم اٹھا تے ہیں ہم بھی ہر پروگرام میں جماعت الدعوہ کی بجائے پاکستان کا پرچم اٹھائیں گے۔پشاور تا کراچی کشمیر پربڑے  پروگرامات اور جلسے کریں گے۔ تاکہ حکومت پاکستان کشمیریوں کی رسمی تائید کے بجائے اپنا بھرپور کردار ادا کرے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مرکز قباء آئی ایٹ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر  تحریک آزادی جموں کشمیر کے چیئرمین عبدالعزیز علوی،کنوئنیر آل پارٹیز حریت کانفرنس غلام محمد صفی، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنمافاروق احمد رحمانی،جموں کشمیر مسلم لیگ کے رہنما اشتیاق احمد حمید،پیپلز لیگ جموں کشمیر کے رہنماشیخ محمد یعقوب بھی موجود تھے۔ حریت رہنماوں نے حافظ محمدسعید کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہ کہا پاکستان سے کشمیر کے لیے بھرپور آواز اٹھانے کی ضرورت ہے۔ کشمیری حافظ محمد سعید کو اپنا وکیل ہیں۔ہم بھی اس تحریک میں بھرپورکردار ادا کریں گے۔ حافظ محمد سعید نے کہا کہ کشمیری انڈین آرمی کے ظلم کے مقابلے میں قربانیاں پیش کررہے ہیں۔ مگر پاکستان کے حکمرانوں اور سیاست دانوں کا رویہ قابل افسوس ہے۔ بانی پاکستان نے کشمیر کو شہ رگ کہا تھا۔ وزیر اعظم نواز شریف نے مظفر آباد کا دورہ کیا۔وہ بیان تو دیتے ہیں مگر عملا مدد کا کام آگے نہیں بڑھ رہا۔کشمیر کی تحریک کشمیری خود چلا رہے ہیں۔ برھان وانی کی شہادت کے بعد تحریک تیز ہوئی۔ کشمیریوں نے کاروبار، تعلیم سمیت ہر قسم کی قربانی دی۔ ہمیں کشمیریوں کے ساتھ بھرپور یکجہتی کرنی ہے۔پاکستان اور آزاد کشمیر کے رہنماوں کو بھی کھڑا ہونا ہوگا۔چند روز قبل مظفر آباد اور کل فیصل آباد میں کشمیر کانفرنس ہوئی۔ کشمیر کے حوالہ سے عوام میں جوش ہے مگر حکمرانوں کو کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جماعۃ الدعوہ کی شوری نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم 2017 کا سال کشمیر کے نام کرتے ہیں۔امسال تمام پروگرام اور سرگرمیاں کشمیر پر ہو ں گی۔ یکم فروری سے سات فروری تک ہفتہ یکجہتی کشمیر منائیں گے۔کشمیری پاکستان کا پرچم اٹھاتے ہیں۔ یکجہتی کی کے لیے ہم بھی جماعۃ الدعوہ کی بجائے پاکستان کا پرچم ہر پروگرام میں اٹھائیں گے اوربھرپور یکجہتی کے لیے سب جماعتوں کو ساتھ ملائیں گے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر سے کوتاہی کا نتیجہ ہے کہ حکمران کرپشن کے مقدموں اور پاناما لیکس میں پھنس گئے ہیں۔ہم آزاد کشمیر اور پاکستان میں کشمیر کے حوالے سے آل پارٹیز کانفرنسیں اور بڑے جلسے کرکے حکومت کو کشمیر کے حوالہ سے آواز اٹھانے پر مجبور کریں گے۔ ہم مقبوضہ کشمیر کی آواز بنیں گے اور کشمیریوں کے کندھوں سے کندھا ملا کر چلیں گے۔ آل پارٹیز حریت کانفرنس کے رہنما غلام محمد صفی نے کہا کہ آج کی پریس کانفرنس کشمیر کے حوالہ سے پاکستان میں عوامی بیداری اور حکومتوں کو احساس ذمہ داری پیدا کرنے کے لیے پہلا عملی قدم ہے۔ہندوستان کشمیر میں مسلم اکثریتی تشخص کو ختم کرکے اقلیت میں تبدیل کرنے میں مصروف ہے۔ جموں میں مسلمانوں کا جینا دوبھر ہوگیا ہے جہاں مسلمانوں کی بستیوں کو خاکستر کیا جارہا ہے۔ اگر بھارت کی قابض فوج ظلم کرتی ہے تو کشمیریوں کو حق پہنچتا ہے وہ ان کو جواب دیں۔پاکستان ہندوستانی میڈیا کے پروپیگنڈے کی وجہ سے معذرت خواہانہ رویہ نہ اپنائے۔ انڈیا جماعۃ الدعوہ کے بارے میں غلط فہمیاں پھیلاتا ہے۔ پاکستان میں بھی ایک طبقہ چاہتا ہے کہ جماعۃ الدعوہ کشمیر پر بات نہ کرے کیونکہ پاکستان سے توانا آواز حافظ محمد سعید اور ان کی جماعت ہے۔ آج اسی لیے پریس کانفرنس میں شرکت کا فیصلہ کیا کہ حافظ محمد سعید کشمیریوں کے وکیل ہیں۔2017کو کشمیر کے نام کرنے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ آل پارٹیز حریت کانفرنس کے رہنما فاروق احمد رحمانی نے کہا کہ حافظ محمد سعید نے 2017 کو کشمیر کے نام کرکے کشمیریوں کی نبض پر ہاتھ رکھا۔وہ کشمیریوں کے دل کی آواز بنے۔ کشمیر کی تحریک اب تیسری نسل میں منتقل ہوچکی ہے۔ برھان وانی نے سوشل میڈیا کی مدد سے دنیا کو پیغام دیا کہ بھارت نے ہمارے حقوق غضب کررکھے ہیں۔ برھان وانی کے انٹرنیٹ استعمال کے بعد انڈیا نے کشمیریوں سے وہ سہولت بھی چھین لی۔ کشمیری سفید کفن کی بجائے شہدا کو سبز ہلالی پرچم میں دفن کرتے ہیں۔ کشمیریوں کی آواز بلند کرنے پر جماعۃ الدعوہ و کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ آل پارٹیز حریت کانفرنس کے رہنما اشتیاق احمد حمیدنے کہا کہ ہم حافظ محمد سعید کی جانب سے2017 کو کشمیر کے نام کرنے پران کا خیر مقدم کرتے ہیں۔2017 کشمیریوں کے لیے آزادی کا سال ہوگا۔پاکستان میں ایک توانا آواز حافظ محمد سعید کی ہے،کشمیری انہیں اپنا مسیحا سمجھتے ہیں۔ انہوں نے اپنی جماعت کے نام اور پرچم کو چھوڑ کر کشمیر کا نام اور پاکستان کا پرچم اٹھانے کا جو فیصلہ کیا اس کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم مظلوم ہیں۔ مودی سرکار ظلم سے باز نہیں آئی۔ امید ہے پاکستان میں ہونے والی تحریک سے پاکستانی حکمران بھی جاگیں گے۔ کشمیر میں آزادی کی تحریک اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق کئی سالوں سے چل رہی ہے۔اقوام متحدہ نے اپنی قرار دادوں پر عمل کروایا اور نہ بھارت نے اپنی فوج نکالی۔ 2016 کشمیریوں کے لیے ظلم اور قتل عام کا سال رہا۔ دنیا میں مظالم ہوتے ہیں مگر کشمیریوں کو پر امن احتجاج پر پیلٹ گن سے فائرنگ کرکے بصارت سے محروم کردیا گیا۔ جس وقت کشمیر میں پیلٹ گن چل رہی تھی دنیا اندھی اور بہری بنی رہی جو افسوس ناک ہے۔ وزیر اعظم نواز شریف کی جنرل اسمبلی کی تقریر ہوئی مگر اس کا ردعمل او آئی سی سمیت کسی فورم پر نظر نہ آیا۔ ضرورت اس بات کی تھی کہ انڈیا کو ظلم سے روکا جاتامگر ایسا نہیں ہوا۔انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کے دلوں سے ہندوستان کا ڈر نکل چکا ہے۔ جو قوم نڈر اور بے خوف ہو وہ ظلم کو روکنے کے بعد ہی چین کا سانس لیتے ہیں۔  کشمیری رہنما شیخ محمد یعقوب نے کہا کہ جما عۃ الدعوہ کو جموں کشمیر کی آواز بننے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔جموں کشمیر کی عوام پاکستان سے رشتہ کیا لاالہ الااللہ کا نعرہ لگاتی ہے۔ کشمیر کا ہر فرد پاکستان سے محبت کرتا ہے اور یہ محبت فطری ہے۔ پاکستان دو قومی نظریہ کی بنیاد پر بنا۔ پاکستان کی پارلیمنٹ میں جموں کشمیر کے حوالے سے واضح پالیسی ہونی چاہئے۔پاکستانی حکمرانوں کے لیے ضروری ہے وہ کشمیر کے حوالے سے پالیسی میں تسلسل پیدا کریں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں سفید لٹھے کا تصور ختم ہوگیا ہے۔ ہم اپنے شہدا کو پاکستان کے چاند ستارے والے پرچم میں دفن کرتے ہیں۔  انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں پاکستانی سفارتی عملہ کشمیر پر کردار ادا نہیں کررہا۔ پاکستانی مسئلہ کشمیر کے حوالے سے یک زبان ہوجائیں۔ پاکستان کے حکمرانوں اور سفارت کاروں کومسئلہ کشمیر کے حوالے سے جھنجھوڑ کر جگانا ہوگا۔

About Editor

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*