Breaking News
Home / خبریں / پاک انڈیا / امریکی ڈکٹیشن پراور بھارت کو خوش کرنے کے لیئے حکومت کو جماعۃ الدعوۃ پر پابندی نہیں لگانی چاہئے۔مذہبی و سیاسی جماعتوں کے قائدین
امریکی ڈکٹیشن پراور بھارت کو خوش کرنے کے لیئے حکومت کو جماعۃ الدعوۃ پر پابندی نہیں لگانی چاہئے۔مذہبی و سیاسی جماعتوں کے قائدین

امریکی ڈکٹیشن پراور بھارت کو خوش کرنے کے لیئے حکومت کو جماعۃ الدعوۃ پر پابندی نہیں لگانی چاہئے۔مذہبی و سیاسی جماعتوں کے قائدین

لاہور( )امریکہ کی جانب سے جماعۃ الدعوۃ پر پابندی کے مطالبے کے خلاف مذہبی و سیاسی جماعتوں کے قائدین نے رد عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ جماعۃ الدعوۃ محب وطن جماعت ہے جو پاکستان کے آئین و قانون کی پاسداری کر رہی ہے،امریکی ڈکٹیشن پراور بھارت کو خوش کرنے کے لیئے حکومت کو جماعۃ الدعوۃ پر پابندی نہیں لگانی چاہئے۔ہم امریکی مطالبے کو مسترد کرتے ہیں اور اگر حکومت نے کوئی غلط فیصلہ کیا تو اسمبلی کی فلو ر سمیت ہر فورم پر آواز اٹھائیں گے اور دفاع پاکستان کونسل،ملی یکجہتی کونسل کا اجلاس بلا کر آئندہ کا لائحہ عمل طے کریں گے۔کشمیریوں کی حمایت کرنے اور ان کی آزادی کی تحریک کو پاکستان میں مضبوط کرناحکمرانوں کو بھی پسند نہیں کیونکہ وہ بھارت سے دوستی کی پینگیں بڑھانا چاہتے ہیں۔پاکستانی قوم پابندی کو تسلیم نہیں کرے گی۔حکمران پاکستانی ہونے کے ناطے پاکستان کے حق میں فیصلے کریں۔چین بھارت کو جواب دے سکتا ہے تو پاکستان کیوں نہیں؟ان خیالات کا اظہار جماعت اسلامی کے سربراہ سینٹر سراج الحق ،دفاع پاکستان کونسل کے چیئرمین اور جمعیت علماء اسلام(س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق ،جمعیت علماء پاکستان کے سربراہ اور ملی یکجہتی کونسل کے صدر صاحبزادہ ڈاکٹر ابوالخیر محمد زبیر،مسلم لیگ(ق) کے سینئر نائب صدر اجمل خان وزیر ،ہدیۃ الھادی پاکستان کے سربراہ پیر سید ہارون علی گیلانی ،رکن قومی اسمبلی جمشید احمد دستی نے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔جماعت اسلامی کے سربراہ سینٹر سراج الحق نے کہا کہ امریکہ کے کہنے پر جماعۃ الدعوۃ پر پابندی نہیں لگنی چاہئے ہم امریکی پیغام اور فیصلے کو مسترد کرتے ہیں۔پاکستان ایک آزاد ملک ہے اور اس کا اپنا عدالتی قانون اور نظام ہے۔حافظ محمد سعید کے حق میں عدالتوں نے فیصلے دیئے ہیں،جب عدالتیں انہیں بری کر رہی ہیں مجرم نہیں ٹھہرا رہیں تو حکومت کو کوئی حق نہیں کہ جماعۃ الدعوۃ پر پابندی لگائے اور امریکی پیغام کو امریکہ کے لئے نہیں بلکہ پاکستان کے مفاد کی عینک سے دیکھے۔دفاع پاکستان کونسل کے چیئرمین اور جمعیت علماء اسلام(س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق نے کہا کہ امریکہ جماعۃ الدعوۃ پر پابندی کا مطالبہ بڑے عرصے سے کر رہا تھا،پاکستان کی عدالتوں نے جماعۃ الدعوۃ کے حق میں فیصلے دیئے ہیں ، جماعۃ الدعوۃ دفاع پاکستان کونسل کی ایک سرگرم رکن بھی ہے۔جو پاکستان کی سالمیت،نظریاتی و جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کے لئے کام کر رہی ہے۔ریلیف کے میدان میں بھی ان کا وسیع نیٹ ورک ہے۔انہوں نے کہا کہ محب وطن لوگ اور جماعتیں امریکہ کو پسند نہیں ۔اگر حکومت نے امریکہ کے دباؤ میں آکر جماعۃ الدعوۃ پر پابندی لگائی تو ہم اسے تسلیم نہیں کریں گے اور دفاع کونسل کا اجلاس بلا کر آئندہ کا لائحہ عمل طے کریں گے۔انہوں نے کہا کہ امریکہ اسلام دشمنی میں بہت آگے بڑھ چکا ہے اور اس کا منافقت کا پردہ چاک ہو چکا ہے۔ جمعیت علماء پاکستان کے سربراہ اور ملی یکجہتی کونسل کے صدر صاحبزادہ ڈاکٹر ابوالخیر محمد زبیر نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے جماعۃ الدعوۃ پر پابندی کا حکومت کو پیغام حکومت کا امتحان ہے۔حکمرانوں کو چاہئے کہ وہ امریکی ڈکٹیشن پر نہ چلیں بلکہ ملک کے بارے میں سوچیں۔جماعۃ الدعوۃ کشمیر کے بارے میں بھر پوراور مضبوط تحریک چلا رہی ہے۔جبکہ ہمارے حکمران بھارت سے دوستی کی پینگیں بڑ ھا رہے ہیں۔بھارت نواز حکمرانوں کو جماعۃ الدعوۃ کی کشمیر مہم ناگوار گزر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک ایسا شخص جو صحیح معنوں میں پاکستان کی نمائندگی کر رہا ہے حکومت کو اس بارے میں سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا چاہیئے ۔انہوں نے کہا کہ امریکی پیغام اور حکومت کی جانب سے متوقع پابندی کے حوالہ سے جلد ملی یکجہتی کونسل کا اجلاس بلائیں گے اور لائحہ عمل طے کریں گے۔ملی یکجہتی کونسل میں پاکستان کی تمام مذہبی جماعتیں موجود ہیں۔مسلم لیگ(ق) کے سینئر نائب صدر اجمل خان وزیر نے کہاکہ جماعۃ الدعوۃ پر پابندی امریکہ کی نہیں بلکہ انڈیا کی ڈیمانڈ ہے اور بھارتی مطالبے پر امریکہ نے جماعۃ الدعوۃ پر پابندی کا مطالبہ کیا۔اب حکومت کو صرف امریکی پیغام نہیں بلکہ جماعۃ الدعوۃ کے کام کو بھی دیکھنا چاہیے۔جماعۃ الدعوۃ خدمت خلق اور رفاہی کاموں میں سب سے آگے ہے۔اگر انہوں نے کوئی غیر قانونی کام کیا ہے تو پاکستان میں عدالتیں موجود ہیں۔حکومت کو عدالت میں جانا چاہئے۔امریکی ڈکٹیشن پر پابندی نہیں لگانی چاہئے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں فلاحی کام جماعۃ الدعوۃ کر رہی ہے،زلزلہ،سیلاب سمیت ہر قدرتی آفت میں ان کے کارکنان سب سے پہلے پہنچتے ہیں،وزیرستان میں آئی ڈی پیز کا مسئلہ بنا تو جماعۃ الدعوۃ نے وہاں بھی خدمت کا کام کیا،تھر ،سندھ اور بلوچستان میں بھی رفاہی کام کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ جماعۃ الدعوۃ پر پابندی کا مطالبہ کوئی نیا مطالبہ نہیں ۔پاکستان میں پر امن جدوجہد اور قانون کی پاسداری کرنے والی جماعت پر پابندی نہیں لگنی چاہئے۔امریکی ڈکٹیشن پر فلاحی و رفاہی کام کرنے والوں پر پابندی کا کوئی جواز نہیں بنتا۔اورہم محب وطن جماعت پرپابندی کو تسلیم نہیں کریں گے۔ہدیۃ الھادی پاکستان کے سربراہ پیر سید ہارون علی گیلانی نے کہا کہ جماعۃ الدعوۃ محب وطن جماعت ہے جس کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں۔امریکہ کی جانب سے پابندی کے پیغام پر حکومت کو قومی،دینی غیرت و حمیت کا ثبوت دینا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ امریکہ کے ناجائز مطالبات کو حکومت پورا نہ کرے اور ڈٹ کر اعلان کرے کہ جماعۃ الدعوۃ محب وطن جماعت ہے۔رکن قومی اسمبلی جمشید احمد دستی نے کہا کہ جماعۃ الدعوۃ رفاہی کام کرنے والی اور محب وطن جماعت ہے۔حافظ محمد سعید اسلام و پاکستان دشمنوں کے خلاف ڈٹ کر کھڑے ہوتے ہیں۔امریکہ کی جانب سے پابندی کا مطالبہ ایک آزاد ملک پاکستان میں اندرونی مداخلت کے مترادف ہے۔پاکستانی حکمرانوں کو غیرت کرنی چاہئے۔قوم جماعۃ الدعوۃ کے ساتھ ہے۔حکومت نے اگر جماعۃ الدعوۃ پر پابندی لگائی تو قومی اسمبلی کے فلور سمیت ہر فورم پر آواز اٹھائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ اگر چین جیش محمد اور حافظ محمد سعید کے بارے میں بھارت کو جواب دے سکتا ہے تو پاکستانی حکمران کیوں خاموش ہیں۔انہوں نے کہا کہ ٹرمپ نے اسلام و مسلمانوں کے خلاف اپنی انتخابی مہم چلائی اور اس پرعمل بھی شروع کر دیا۔اسلامی ممالک کو اپنی الگ سے اقوام متحدہ بنانی چاہئے اور امریکہ سے تعلق توڑ کر اپنے فیصلے خود کرنے چاہئے۔

About Editor

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*