Breaking News
Home / خبریں / پاک انڈیا / نظر بندی کا آرڈر اسلام آباد سے نہیں بلکہ دہلی سے واشنگٹن اورواشنگٹن سے یہاں آیا ہے۔حافظ محمد سعید
نظر بندی کا آرڈر اسلام آباد سے نہیں بلکہ دہلی سے واشنگٹن اورواشنگٹن سے یہاں آیا ہے۔حافظ محمد سعید

نظر بندی کا آرڈر اسلام آباد سے نہیں بلکہ دہلی سے واشنگٹن اورواشنگٹن سے یہاں آیا ہے۔حافظ محمد سعید

    امیر جماعة الدعوة پاکستان پروفیسر حافظ محمد سعید نے نظربندی سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت پاکستان کی طرف سے نظر بندی کے آرڈر موصول ہوئے ہیں میں سمجھتا ہوں کہ یہ میرے لئے نہیں بلکہ کشمیر کی جدوجہد کو سبوتاژ کرنے کی بین الاقوامی سازش کا حصہ ہے۔اس میں مودی کا اسرار،ٹرمپ کی شہہ اور حکومت کی مجبوریاں ہیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ نظربندیوں اور پابندیوں سے کشمیر کے مسئلے کو پیچھے پھینکا جا سکتا ہے لیکن ایسا ممکن نہیں۔آزادی کشمیرکی تحریک جاری رہے گی ۔مظلوم بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے۔اس موقع پر جماعة الدعوة کے کارکنان کی بڑی تعداد موجود تھی،کارکنان نے کشمیریوں سے رشتہ کیا لاالہ الااللہ،حافظ محمد سعید سے رشتہ کیا لاالہ الااللہ کے نعرے اور مودی کا جو یار ہے غدار ہے غدار ہے کے نعرے لگائے ۔مرکز القادسیہ چوبرجی میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب ہم نے حریت رہنماﺅں کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران 2017کوکشمیر کا سال قرار دیا تو انڈیا نے شور اٹھا یا اور اس کے بعد توقع تھی کہ دباﺅ آئے گا اور وہی کچھ ہوا۔انہوں نے کہا کہ مجھے افسوس ہے کہ میری نظر بندی کا آرڈر اسلام آباد سے نہیں بلکہ دہلی سے واشنگٹن اورواشنگٹن سے یہاں آیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جماعة الدعوة کا کوئی مسئلہ نہیں۔میں پاکستانی حکام کو چیلنج کرتا ہوں کہ وہ پاکستان میں جماعة الدعوة کے خلاف ایک ایف آئی آر بھی نہیں دکھا سکتے۔انہوں نے کہا کہ میرا جرم یہ ہے کہ ہم کشمیر کے لئے کھڑے ہیں اور ہم نے حکومت سے بھی یہ کہا کہ جس طرح کشمیری میدان میں کھڑے ہیں اسی طرح پاکستان کو بھی کھڑا ہونا چاہئے لیکن یہ بات مودی کو برداشت نہیں۔انہوں نے کہا کہ ٹرمپ نے حلف برداری کے بعد مودی کو فون کیا اور جو باتیں طے ہوئیں ان پر آج عملدرآمد ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک آزادملک ہے۔آزادی اور سالمیت کو ہر حال میں قائم رکھنا چاہتے ہیں۔میں کشمیری بھائیوں کو حوصلہ دیتا ہوں کہ ہماری جدوجہد ایک ہے۔تحریک دبے گی نہیں بلکہ اور زیادہ پروان چڑھے گی،مودی کی جان نہیں چھوٹے گی۔انہوں نے کہا کہ جماعة الدعوة کے کارکنان کو تلقین کرتا ہوں کہ وہ صبر و استقامت سے کام لیں اور اپنے مشن کو جاری رکھیں۔پاکستان میں وہ رویہ پیش کرنا چاہتے ہیں جس سے پتہ چلے کہ پاکستان کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے۔ہم اس آزمائش میں سرخرو ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ میں کارکنوں،جماعتوں اور قوم کو پیغام دیتا ہوں کہ 5فروری کو ہر حال میں پچھلے برسوں سے بڑھ کر قومی یکجہتی کے ساتھ کشمیریوں سے اظہاریکجہتی کیا جائے۔عشرہ یکجہتی کشمیر کو مکمل کیا جائے اور پہلے سے بڑھ کر ریلیاں،سیمینارز اور پروگرام کئے جائیں۔پانچ فروری کو جماعة الدعوة کا ہر کارکن سڑکوں پر ہو گا۔کشمیریوں کی مدد کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔انہوں نے کہا کہ بزرگ حریت رہنما سید علی گیلانی،شبیر احمد شاہ،مسرت عالم،آسیہ اندرا بی کو بار بار گرفتار کیا جاتا ہے۔ڈاکٹر قاسم فکتو 23برس سے جیل میں ہیں۔مجھ پر کشمیر کی وجہ سے نظر بندی آئی ہے تو مجھے خوشی ہے کہ میں اپنے ان کشمیری بھائیوں کے ساتھ ہوں۔انہوں نے کہا کہ ہم دعا کرتے ہیں کہ صحیح معنوں میں پاکستان کی آزادی ملے تا کہ کشمیر آزاد ہو اور دشمنوں کی تدبیریں بھی ناکام ہوں۔

 

 

About Editor

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*