Breaking News
Home / خبریں / پاک انڈیا / پنڈتوں کے نام پر مقبوضہ کشمیر میں اسرائیلی طرز کی بستیاں بسانا منظور نہیں، حریت قیادت
پنڈتوں کے نام پر مقبوضہ کشمیر میں اسرائیلی طرز کی بستیاں بسانا منظور نہیں، حریت قیادت
India-Pak

پنڈتوں کے نام پر مقبوضہ کشمیر میں اسرائیلی طرز کی بستیاں بسانا منظور نہیں، حریت قیادت

۔پاک میڈیا اپ ڈیٹس ۔ سری نگر / برسلز: 

مقبوضہ کشمیر میں مشترکہ حریت قیادت کی طرف سے جاری احتجاجی پروگرام کے تحت گزشتہ روز سری نگر کے علاقے آبی گزر میں احتجاجی ریلی نکالی گئی اوردھرنا دیا گیا۔

ریلی سے آزادی پسند رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پنڈت کشمیری سماج کا حصہ ہیں اور کوئی کشمیری مسلمان ان کی واپسی کا مخالف نہیں لیکن کٹھ پتلی حکمران اپنے آقاؤں کی ایما پر انھیں اسرائیلی طرز کی بستیوں میں بسانا چاہتے ہیں جو کسی صورت منظور نہیں۔ انھوں نے کہا کہ علیحدہ بستیوں کی تعمیر یہاں کے مذہبی بھائی چارے کو نقصان پہنچانے کی سازش ہے۔

آزادی پسند رہنماؤں نے کہا کہ جیلوں میں ہزاروں افراد قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں اور عدالتی احکام کے باوجود کالے قوانین کا استعمال کرکے ان کی نظربندی کو طول دیا جا رہا ہے۔ شرکا نے مظالم بند کرنے کے حق میں فلک شگاف نعرے لگائے۔

دوسری جانب ریلی جیسے ہی پرتاپ پارک کے قریب پہنچی تو بھارتی فورسز اور پولیس نے اس کو روک لیا جس کے بعد شرکا نے پریس انکلیو کے سامنے دھرنا دیا۔

ادھر سید علی گیلانی نے کہا کہ کٹھ پتلی انتظامیہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ ساز باز کے ذریعے مقبوضہ علاقے میں کشمیریوں کے آزادی کے حقیقی جذبے کو دبانے کیلیے آر ایس یس کے ایجنڈے پر عمل کررہی ہے۔

علاوہ ازیں یورپی پارلیمنٹ میں مسئلہ کشمیر پر بحث کرانے اور مظلوم کشمیریوں کے حق میں حمایت حاصل کرنے کیلیے کشمیرکونسل یورپی یونین کی طرف سے مختلف یورپی ممالک میں 10 لاکھ افراد کے دستخط حاصل کرنے کیلیے جاری دستخطی مہم مالٹا پہنچ گئی ہے۔ اس سلسلے میں مالٹا میں2 روزہ کیمپ کے دوران متعدد لوگوں نے شدید بارش اور خراب موسم کے باوجودکشمیریوں کے حق خودارادیت میں دلچسپی ظاہرکی اورمتعلقہ دستاویزات پر دستخط کرکے کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔

دوسری طرف بھارت کے سرکردہ شہریوں، سابق بیوروکریٹس، سول سوسائٹی کے ارکان اور قلمکاروں نے وادی کشمیر میں6 ماہ تک جاری رہنے والی عوامی احتجاجی تحریک کے دوران شہید ہونے والے 100 افراد کے قتل پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شہیدکیے گئے شہریوں میں بیشتر تعداد نوجوانوں اور بچوں کی تھی۔ جن میں سے کئی ایک مستقبل کے رہنما ہوسکتے تھے۔

علاوہ ازیں مقبوضہ کشمیر میں مشترکہ مزاحمتی قیادت نے یکم فروری سے 15فروری تک نیا احتجاجی کیلنڈرجاری کردیا ہے جس کے تحت 3فروری جمعہ کو یوم مزاحمت منایاجائے گا اورنماز جمعہ کے بعدوادی بھر میں پرامن احتجاجی مظاہرے ہوں گے جبکہ 4فروری کو تاجر حضرات ایک گھنٹے کے لیے دھرنا دیں گے جبکہ 5 فروری کو یوم تشکرمنایا جائے گا۔

یاد رہے کہ پروگرام کے تحت 6فروری کو مشترکہ مزاحتمی قیادت اور کارکن نماز ظہر کے بعد احتجاج کریں گے اور8فروری کو وکلا پرامن احتجاجی مظاہرہ کریں گے۔ 9فروری کو شہید محمد افضل گوروکی یاد میں مکمل ہڑتال ہوگی اور لوگ محمد افضل گورو کے جسد خاکی کی واپسی کا مطالبہ کریں گے جبکہ 100فروری کو نماز جمعہ کے بعد لوگوں سے لالچوک اور اقوام متحدہ کے دفتر کی طرف مارچ کی اپیل کی گئی ہے۔

About Editor

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*