Breaking News
Home / خبریں / پاک انڈیا / کشمیر پر قبضہ پاکستان نہیں بھارت کی آٹھ لاکھ فوج نے کر رکھا ہے۔ مذہبی و سیاسی قائدین
کشمیر پر قبضہ پاکستان نہیں بھارت کی آٹھ لاکھ فوج نے کر رکھا ہے۔ مذہبی و سیاسی قائدین

کشمیر پر قبضہ پاکستان نہیں بھارت کی آٹھ لاکھ فوج نے کر رکھا ہے۔ مذہبی و سیاسی قائدین

مذہبی و سیاسی قائدین نے بھارت سرکار کی طرف سے پاکستان سے آزاد کشمیر خالی کرنے اورممبئی حملہ کیس کے حوالہ سے گواہوں کو پاکستان بھیجنے سے انکار پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر پر قبضہ پاکستان نہیں بھارت کی آٹھ لاکھ فوج نے کر رکھا ہے۔ مقبوضہ کشمیر پر سے بھارت کا غاصبانہ قبضہ ختم کئے بغیر خطہ میں امن کا قیام ممکن نہیں ہے۔انڈیا کے گواہوں کو بھیجنے سے انکارسے ثابت ہو گیا کہ ممبئی حملوں سے متعلق لگائے گئے الزامات جھوٹ کا پلندہ تھے۔ بھارت سرکار محض پروپیگنڈا کے زور پر دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونک رہی ہے۔حکومت پاکستان بھارتی دباﺅ کا شکار ہونے کی بجائے جرا ¿تمندانہ موقف اختیا رکرے۔ حافظ محمد سعیدودیگر رہنماﺅں کی نظربندی پر انڈیا کی طرف سے ڈومور کی باتیں حکمرانوں کی کمزور پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ لاہور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ واضح طور پر حافظ محمد سعید پر الزامات کو غلط قرار دے چکی ہیں‘انہیں فی الفور رہا کیا جائے۔ وطن عزیز میں دہشت گردی کی آگ بھڑکانے میں بی جے پی حکومت اور اس کی ایجنسیاں ملوث ہیں۔سی پیک کو نقصان پہنچانے کیلئے انڈیا اربوں روپے خرچ کر رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار دفاع پاکستان کونسل کے چیئرمین مولانا سمیع الحق، پروفیسر حافظ عبدالرحمن مکی، سردار عتیق احمد خاں، اجمل خاں وزیر، ڈاکٹر فرید احمد پراچہ، علامہ ابتسام الہٰی ظہیر، قاری یعقوب شیخ، حافظ عبدالغفارروپڑی اور سید ضیاءاللہ شاہ بخاری نے گفتگوکرتے ہوئے کیا۔ دفاع پاکستان کونسل کے چیئرمین مولانا سمیع الحق نے کہاکہ بھارت کی طرف سے پاکستان کو آزاد کشمیر خالی کرنے کی دھمکیوں اور دہشت گردی کے الزامات پر پاکستان کو کسی صورت خاموش نہیں رہنا چاہیے بلکہ اس کا پروپیگنڈا کا توڑ کرتے ہوئے انڈیا کی ریاستی دہشت گردی کو پوری دنیا میں بے نقاب کرنا چاہیے۔ ممبئی حملہ کیس کیلئے گواہوں کو بھجوانے سے انکار سے ایک مرتبہ پھر ثابت ہو گیا کہ انڈیا کے پاس پاکستان اور یہاں کی کسی تنظیم کیخلاف سرے سے کوئی ثبوت نہیں ہے بلکہ وہ میڈیا کے پروپیگنڈا کے ذریعہ پاکستان پر دباﺅ بڑھا کر اپنے مذموم ایجنڈے پورے کرنا چاہتا ہے۔انہوںنے کہاکہ اس خطہ میں دہشت گردی کا ذمہ دار بھارت ہے جس کے ہاتھ لاکھوں مسلمانوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ مسئلہ کشمیر حل کئے بغیر خطہ میں امن و امان کا قیام ممکن نہیں ہے۔ بھارت نے آٹھ لاکھ فوج کے ذریعہ کشمیر پر غاصبانہ قبضہ جما رکھا ہے‘ اسرائیلی طرز پر نہتے کشمیریوں کی نسل کشی شروع کر رکھی ہے اور مذموم پروپیگنڈا پاکستان کیخلاف کیا جارہا ہے۔ جماعةالدعوة سیاسی امو رکے سربراہ پروفیسر حافظ عبدالرحمن مکی نے کہاکہ حکمرانوں کے پاس کلبھوشن کی شکل میں انڈیا کی دہشت گردی کے واضح ثبوت موجود ہیں۔ساری دنیا جانتی ہے کہ انڈیا کنڑ اور خوست میں قائم قونصل خانوں کے ذریعہ پاکستان میں دہشت گردی کروا رہا ہے ۔ اس کے باوجود پاکستان کیخلاف گھٹیا پروپیگنڈا اس کی ہٹ دھرمی کی انتہا ہے۔ جب تک انڈیا سے متعلق اپنے رویوں میں تبدیلی نہیں لائیں گے وہ دوستی کی آڑ میں آپ کی کمر میں چھرا گھونپنے سے باز نہیں آئے گا۔ انہوںنے کہاکہ حکومت کو مسئلہ کشمیر اور انڈیا کی دہشت گردی کے مسئلہ پر مضبوط موقف اختیار کرنا چاہیے۔حافظ محمد سعید و دیگر رہنماﺅں کی نظربندی فی الفور ختم کی جائے۔سابق وزیر اعظم آزاد کشمیر سردار عتیق احمد خاں نے کہاکہ بھارت اپنی جلائی ہوئی آگ میں خود جل رہا ہے اور دن بدن اس خطے کے لئے خطرے کا باعث بن رہا ہے۔بھارتی قیادت کو اپنے رویئے پر نظر ثانی کرنی چاہئے۔اسطرح کے بیانات سے وہ زیادہ دیر تک چھپ نہیں سکتا۔مقبوضہ کشمیر میں جاری مظالم کی وجہ سے بھارت کا حقیقی چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب ہو چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان خود دہشت گردی سے متاثر ہے۔بھارت میں دہشت گردی امن پسند مہاتما گاندھی کے قتل سے شروع ہوئی تھی اسوقت تو پاکستان نہیں بنا تھا۔پھر اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی بھی بھارت کے انتہا پسند ذہنیت کا نشانہ بنے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کی قیمت ادا کر رہا ہے۔بھارت اس وجہ سے پریشان ہے کہ ساری دنیا کی فوجیں دہشت گردی کے خلاف ناکام ہو چکی ہیں اور پاکستان کی فوج کامیاب ہوئی ہے۔32ممالک کی بحری مشقوں میں شرکت اور روس کے ساتھ فوجی مشقوں سے بھی بھارت خوفزدہ ہے۔بھارت سرکار کا آزاد کشمیر خالی کرنے کا بیان قابل مذمت ہے۔مسلم لیگ(ق) کے سینئر نائب صدر اجمل خان وزیر نے کہا کہ بھارتی خفیہ ادارے پاکستان کو غیر مستحکم کر رہے ہیں۔افغانستان کی زمین استعمال کر کے انڈیا پاکستان میں دہشت گردی کر وا رہا ہے اور دنیا کا ذہن تبدیل کرنے کے لئے پاکستان پر الزامات لگائے جاتے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظلم و بربریت ساری دنیادیکھ رہی ہے۔مقبوضہ کشمیر کی اپوزیشن کی جماعتوں نے بھی بھارتی فوج کے مظالم کی مذمت کی ہے۔انہوں نے کہا کہ خواجہ آصف نے جرمنی میں حافظ محمد سعید کا نام لیا لیکن بھارتی دہشت گرد کلبھوشن کا نام انکی زبان پر کیوں نہیں آیا ؟حکومت بھارت کے حوالہ سے کسی خوش فہمی میں نہ رہے وہ پاکستان کا دشمن تھا ،ہے اور رہے گا،انہوں نے کہاکہ ہمیں بھارت کا ظالمانہ چہرہ عالمی دنیاکو دکھانا چاہئے۔جماعت اسلامی کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل فرید احمد پراچہ نے کہا کہ حکومت پاکستان کے کمزور رویئے اور بھارت سے دوستی و تجارت کی خواہش کی وجہ سے ایسی صورتحال پیدا ہوئی کہ بھارت ایک طرف مقبوضہ کشمیرپر ظالمانہ قبضہ کئے ہوئے ہے اور دوسری جانب پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کر رہا ہے۔ بھارت عالمی دنیا کے سامنے بے نقاب ہو چکا ہے۔انہوںنے کہاکہ کشمیر میں ہر دن بھارت کے خلاف ریفرنڈم ہوتا ہے اور کشمیری اعلان کرتے ہیں کہ ہم کسی صورت بھارت سرکار کے ساتھ نہیں رہنا چاہتے۔انہوں نے کہا کہ آزاد و مقبوضہ کشمیر دونوں پاکستان کے حصے ہیں۔بھارت کو آزاد کشمیر خالی کرنے کے بیان پر سخت اور جراتمندانہ جواب دینے کی ضرورت ہے۔انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیوں کو بھارت مقبوضہ کشمیر میں جانے کی اجازت اس وجہ سے نہیں دے رہا کہ اسکے کشمیریون پر مظالم دنیا کے سامنے آئیں گے۔جمعیت اہلحدیث پاکستان کے ناظم اعلیٰ علامہ ابتسام الہٰی ظہیر، قاری یعقوب شیخ، حافظ عبدالغفارروپڑی اور سید ضیاءاللہ شاہ بخاری نے کہاکہ برہان وانی کی شہادت کے بعدسے کشمیر میں ظلم و بربریت کی انتہا ہو چکی ۔ انڈیا کشمیر میں کیمیائی ہتھیار استعما ل کر رہا ہے اور پچھلے ستر برس سے نہتے کشمیریوں کی نسل کشی کی جارہی ہے لیکن بھارتی حکمرانوں کی طر ف سے زہر پاکستان کیخلاف اگلا جارہا ہے۔ انہوںنے کہاکہ انڈیا کی طرف سے گواہ بھیجنے سے انکار کے بعد حکومت پاکستان کو چاہیے کہ وہ ممبئی حملوں کے الزام میں گرفتار کئے گئے افراد کو رہا کرے۔ 

 

About Editor

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*