Breaking News
Home / خبریں / پاک انڈیا / حکومت کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کی مددوحمایت کے حوالہ سے معذرت خواہانہ رویہ اختیار نہ کرے, دفاع پاکستان کونسل
حکومت کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کی مددوحمایت کے حوالہ سے معذرت خواہانہ رویہ اختیار نہ کرے,  دفاع پاکستان کونسل

حکومت کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کی مددوحمایت کے حوالہ سے معذرت خواہانہ رویہ اختیار نہ کرے, دفاع پاکستان کونسل

مذہبی و سیاسی جماعتوں کے قائدین اور نامور دانشور حضرات نے کہا ہے کہ کشمیریوں کا خون بہت قیمتی ہے‘ پوری قوم کو ان کی بھرپور مدد کرنی چاہیے۔ جدوجہد آزادی کشمیر کو دہشت گردی سے نہیں جوڑا جاسکتا۔ بھارت سے دوستی و اعتماد سازی کے اقدامات کی بجائے اس کی دہشت گردی کو پوری دنیا پر بے نقاب کیا جائے۔ حافظ محمد سعید کی بھارتی دباﺅ پر نظربند ی درست نہیں۔ افسوس کہ ہماری حکومتوں نے مسئلہ کشمیر کو صحیح معنوں میں اجاگر نہیں کیا۔ حکومت کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کی مددوحمایت کے حوالہ سے معذرت خواہانہ رویہ اختیار نہ کرے۔کلبھوشن یادیو اور افغانستان میں بھارتی قونصل خانوں کی دہشت گردی کا معاملہ بھی بین الاقوامی سطح پر اٹھانا چاہیے۔ ان خیالات کا اظہار دفاع پاکستان کونسل و جماعةالدعوة کے مرکزی رہنما پروفیسر حافظ عبدالرحمن مکی، زعیم قادری ، ڈاکٹر فرید پراچہ، نوید چوہدری، بریگیڈیر(ر) محمد یوسف ، عطاءالرحمن، حافظ شفیق الرحمن ، دیوان محیی الدین، ڈاکٹر ابراہیم مغل، ڈاکٹر اختر شمار،دیوان غلام محی الدین، ذوالفقار احمد راحت، خواجہ جمشید امام،رضوان رضی، افتخار مجاز،ڈاکٹر عبدالباسط، افتخار بھٹہ، پروفیسر ریاض بھٹی، سلم اشرف،پروفیسر عاطف خالد بٹ، اختر سردار چوہدری، رانا زاہد اقبال، حافظ طارق عزیز،شہباز انور خاں، عقیل انجم اعوان، حبیب اللہ قمر،شہباز سعید آسی ، خالد بھٹی، اقبال خاں منج، فاروق تسنیم، قاضی منشائ، مقصود چغتائی ودیگر نے ورلڈ کالمسٹ کلب(WCC)رجسٹرڈ کے زیر اہتمام مقامی ہوٹل میں ”شہ رگ پاکستان کانفرنس“ کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پرمختلف شہروں سے آنے والے شعراءنے کشمیر کے حوالہ سے اپنے اشعار سنائے۔ڈاکٹر اختر شمار نے ایک کشمیری مجاہدکے حوالہ سے آخری محاذ کے عنوان سے خوبصورت کلام پیش کیاجسے بہت پسند کیا گیا۔ کانفرنس میں اخبارات کے مدیران، سینئر کالم نگاروں اور دانشوروں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ شہ رگ پاکستان کانفرنس سے دفاع پاکستان کونسل اور جماعةالدعوة کے مرکزی رہنما پروفیسر حافظ عبدالرحمن مکی نے کہاکہ مسئلہ کشمیر کو دہشت گردی سے نہیں جوڑا جاسکتا۔ شملہ معاہدہ کے تحت اس مسئلہ کو بہت نقصان پہنچایاگیا۔ حکومتیں بھارت سے اعتماد سازی کے اقدامات کرتی رہیں اور انڈیا کو تجارتی راہداری دینے کی باتیں کی گئیں لیکن کشمیریوں نے خون دیکر اپنی تحریک وک زندہ رکھا اور انڈیا کو ناکوں چنے چبوائے۔ قوم سوال کرتی ہے کہ کشمیریوں کیلئے سب سے مضبوط آواز حافظ محمد سعید کو کیوں نظربند کیا گیاہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے حکمران اپنے کیس کو خراب کر تے ہیں ۔ افسوس کہ اس مسئلہ کو صحیح انداز میں دنیا کے سامنے واضح ہی نہیں کیا گیا۔انہوںنے کہاکہ ہمیں مسئلہ کشمیر کو قائد اعظم محمد علی جناح کی پالیسی کے طو رپر دیکھنا چاہیے۔ ماﺅنٹ بیٹن اور نہرو نے دھوکہ کر کے کشمیر میں اپنی فوجیں اتاریں۔ آج تک یو این میںمہاراجہ کے ساتھ کوئی معاہدہ پیش نہیں کیا جاسکا۔ قائد اعظم غیر متنازعہ شخصیت تھے۔ انہوںنے اپنے آرمی چیف سے کشمیر میں فوج داخل کرنے کیلئے کہا ۔ ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ بانی پاکستان کا اس وقت عمل کیا تھا۔ یہ عمل ہمارے آنےوالے حکومتوں کیلئے ایک سنگ میل ہونا چاہیے۔عبدالرحمن مکی نے کہاکہ بھارت پاکستان کے پانیوں پر قبضہ کرنا چاہتا تھالیکن کشمیری نوجوانوںنے اپنا خون دیکر اسے بچایا ہے۔کشمیرہمارے خون اور پانیوں کا مسئلہ ہے۔ یہ صرف اقتصادیات ہی نہیں ہمارے ایمانیات کا مسئلہ ہے۔ ہم کشمیریوں کی مدد سے پیچھے نہیں رہیں گے۔ انہوںنے کہاکہ انڈیا پاکستان میں دہشت گردی کروارہا ہے۔ کلبھوشن یادیو جیسا حاضر سروس جاسوس پکڑا گیا۔ افغانستان میں بھارتی قونصل خانے دہشت گردی کے اڈے بن چکے ہیں۔ہمیں کشمیر پر شرمندہ نظر نہیں آنا چاہیے۔ اہل قلم دنیا پر انصاف واضح کرتے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے مرکز ی رہنما اور صوبائی وزیر زعیم قادری نے کہاکہ کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہیے۔ ہم اغیار کی دہشت گردی کے حوالہ سے تشریح کو نہیں مانتے۔ دہشت گردی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اسلام نے ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل قرار دیا ہے۔ ہمیں بحیثیت قوم کشمیریوں کی مدد کرنی چاہیے۔ انہوںنے کہاکہ ہم نے ایک مہذب ملک کی طرح کشمیریوں کی سفارتی اور اخلاقی مدد کی ہے۔یو این نے کشمیریوں کو استصواب رائے کا حق دیا ہے۔مسئلہ کشمیرپورے عالم اسلام کا مسئلہ ہے۔ ہمیں بھارتی دہشت گردی کا مسئلہ پوری دنیا میں اٹھانا ہے۔ کشمیر کل بھی پاکستان کی شہ رگ تھا اورآج بھی پاکستان کی شہ رگ ہے۔جماعت اسلامی کے نائب امیر ڈاکٹر فرید احمد پراچہ نے کہاکہ مسئلہ کشمیر سرحدی تنازعہ نہیں ہے‘یہ انسانی جانوں کا مسئلہ ہے۔قائد اعظم نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا۔مقبوضہ کشمیر کے عوام اپنے موقف پر مضبوطی سے قائم ہیں۔ ان کا نعرہ ہے کشمیر بنے گا پاکستان۔بھارتی فوج کشمیر میں ناکام ہو چکی ہے۔ کشمیری پاکستانی پرچم لہراتے ہوئے بھارت کا یوم آزادی یوم سیاہ کے طورپر مناتے ہیں۔ آج ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق عمل کیوں نہیں کیا جارہا۔پیپلز پارٹی کے مرکز ی رہنما نوید چوہدری نے کہاکہ کشمیر کے ایشو کو ذوالفقار علی بھٹو نے اٹھایا تھا۔ حافظ محمد سعید کے حوالہ سے ہم دباﺅ کا شکار ہیں۔ پوری دنیا میں دہشت گردی کی جنگ لڑی جارہی ہے لیکن افسوس کہ ہمارے حکمران دنیا کے سامنے فریڈم فائٹر اور دہشت گرد کا فرق واضح نہیں کر رہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم برہان وانی کو شہید کہتے ہیں لیکن دنیا سے یہ بات منوانے میں کامیاب نہیں ہیں۔ ہمیں دہشت گردی اور حریت پسندی میں فرق واضح کرنا چاہیے۔ انڈیا پانیوں کے مسئلہ پر سندھ طاس معاہدہ کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ پاکستان ملت پارٹی کے صدر بریگیڈیر(ر) محمد یوسف نے کہاکہ کشمیریوں کا خون بہت قیمتی ہے۔ ہمیں کشمیریوں کی مدد کیلئے عملی اقدامات اٹھانے چاہئیں۔ہمیں دیکھنا ہے کہ کیا کمزوریاں ہیں کہ آج تک کشمیر کو آزاد نہیں کروایا جاسکا۔ انڈیا کاوزیراعظم بنگلہ دیش جا کر کہتا ہے کہ ہم نے اسے آزاد کروایا۔ کشمیرکو آزاد کروانے کیلئے ہمیں اپنا قومی موقف واضح کرنا ہو گا۔ ہماری حکومتیں منافقت سے کام لیتی رہی ہیں۔ صرف سید علی گیلانی، حافظ محمد سعید ہی نہیں پوری پاکستانی قوم کو کشمیریوں کی مدد کرنی چاہیے۔ آزادی کی تحریکوں کو کبھی نہیں کچلا جاسکتا۔کشمیریوں کی آزادی کیلئے جہاد کرنا صرف حافظ محمد سعید اور ان کی جماعت کا ہی نہیں پوری قوم کا فرض ہے۔ بھارتی فلموں پرسے پابندی اٹھانا درست نہیں ہے۔ اس پرپابندی لگنی چاہیے۔ روزنامہ نئی بات کے گروپ ایڈیٹر عطاءالرحمن نے کہاکہ برہان وانی کی شہادت کے بعد مقبوضہ کشمیر کی تحریک آزادی نے ایک نیا موڑ لیا ہے۔ برہان وانی سوشل میڈیا کے محاذ پر اکیلا اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ سینہ سپر ہوا۔ اس نے سوشل میڈیا کو استعمال کیا اور گھر گھر تک پیغام پہنچایا جس سے کشمیریوں میں ایک سوچ پیدا ہوئی کہ ہم کب تک انڈیا کا ظلم برداشت کرتے رہیں گے۔ انہوںنے کہاکہ کشمیر کی تحریک آزادی خالصتا مقامی تحریک ہے۔ جہاد دہشت گردی نہیں ہمارے عقیدے کا جزو ہے۔افسوس کہ ہم انڈیا کے پروپیگنڈے کا تدارک نہیں کر سکے۔ ورلڈ کالمسٹ کلب کے چیئرمین حافظ شفیق الرحمن نے کہاکہ ہم ببانگ دل کہتے ہیں کہ ہم حق کے ساتھ ہیں اور حق اور سچ حافظ محمد سعید کے ساتھ ہے۔ ہمیں اپنے اندر روح جہاد اورشوق شہادت پیدا کرنا ہے۔ ہمیں قلم کو تلوار بنا کر لڑنا ہے ،ہمیں اس حق کے راستہ میں قبائلیوں کی طرح بھی لڑنا اور دنیا بھر کی مہذب افواج کی طرح بھی لڑنا ہے۔ ہم اپنی جان کے نذرانے وطن عزیز کے تحفظ کیلئے پیش کرنے کیلئے تیار ہیں۔ ہم یہ قرارداد پیش کرتے ہیں کہ جو وزیر اعظم مسئلہ کشمیر کے حوالہ سے کسی ایک قرارداد پر عمل نہیں کر سکاا نہیں حافظ محمد سعید کی نظربندی کا کوئی حق نہیں ہے۔ ہم اس کی مذمت کرتے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف آزاد کشمیر کے سیکرٹری جنرل دیوان محی الدین نے کہاکہ گلگت بلتستان اگر کشمیر کا ہی حصہ رہتا ہے تو سی پیک پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ ہمیں کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کی بھرپو ر مددوحمایت کرنی چاہیے۔ کشمیرپاکستان کی شہ رگ ہے۔ اس کا تحفظ کرنا ہم سب پر فرض ہے۔ ورلڈ کالمسٹ کلب کی سپریم کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر ابراہیم مغل نے کہاکہ کشمیریوں کی مدد کیلئے عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔آئندہ بھی ایسی مجالس کا اہتمام کریں گے۔ ورلڈ کالمسٹ کلب کے چیف آرگنائزر خواجہ جمشید امام نے کہاکہ کشمیر ہمارے قومی اتفاق رائے کا مسئلہ ہے۔ حافظ محمد سعید کو نظربند کرکے حکومت نے بیرونی دباﺅ پر گھٹنے ٹیک دیے۔ شہ رگ پاکستان کانفرنس سے رضوان رضی، افتخار مجاز،ڈاکٹر عبدالباسط، افتخار بھٹہ، پروفیسر ریاض بھٹی، سلم اشرف،پروفیسر عاطف خالد بٹ، اختر سردار چوہدری، رانا زاہد اقبال، حافظ طارق عزیز،شہباز انور خاں، عقیل انجم اعوان، حبیب اللہ قمر،شہباز سعید آسی ، خالد بھٹی، اقبال خاں منج، فاروق تسنیم، قاضی منشائ، مقصود چغتائی ودیگر نے بھی خطاب کیا۔

About Editor

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*