Breaking News
Home / خبریں / پاکستان / قومی اسمبلی حلقہ این اے 120میں ملی مسلم لیگ ایک بڑی سیاسی قوت کے طور پر ابھر کر سامنے آئی
قومی اسمبلی حلقہ این اے 120میں ملی مسلم لیگ ایک بڑی سیاسی قوت کے طور پر ابھر کر سامنے آئی

قومی اسمبلی حلقہ این اے 120میں ملی مسلم لیگ ایک بڑی سیاسی قوت کے طور پر ابھر کر سامنے آئی

قومی اسمبلی حلقہ این اے 120میں ملی مسلم لیگ ایک بڑی سیاسی قوت کے طور پر ابھر کر سامنے آئی ہے۔ مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی کی طرح ملی مسلم لیگ کے کیمپوں پر بھی لوگوں کا رش دیکھنے میں آیا اور حلقہ سے تعلق رکھنے والے مردوخواتین یہاں سے ووٹ ڈالنے کیلئے معلومات اور پرچیاں حاصل کرتے نظر آئے۔ ملی مسلم لیگ کی جانب سے پچھلے ایک ماہ میں بہت منظم انداز میں انتخابی مہم چلائی گئی اور ڈور ٹو ڈور مہم کے ذریعہ لوگوں کو تنظیم کے حمایت یافتہ امیدوار محمد یعقوب شیخ کو ووٹ ڈالنے کیلئے تیار کیا جاتا رہا۔ این اے 120سے تعلق رکھنے والی تمام یونین کونسلوں میں ملی مسلم لیگ کے کارکنان ووٹرز کو پولنگ بوتھوں پر لانے کیلئے متحرک کردار ادا کرتے نظر آئے۔ غیر جانبدار تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ حلقہ این اے 120میں جس طرح ملی مسلم لیگ کو مقبولیت حاصل ہوئی اور عوامی سطح پر اچھی حمایت ملی ہے 2018ءمیں ہونے والے الیکشن میں یہ جماعت دیگر سیاسی جماعتوں کیلئے ایک مشکل ہدف ثابت ہو گی۔ ملی مسلم لیگ کو پاکستان کی سیاست میں ایک خوشگوار اضافہ قرار دیا جارہا ہے۔
قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 120کے انتخابات کے دوران ملی مسلم لیگ کی جانب سے کہا گیاہے کہ بعض پولنگ بوتھوں میں ان کی خواتین پولنگ ایجنٹ کو اندر داخل نہیں ہونے دیا گیاجبکہ ووٹنگ کے دوران خواتین سے انگوٹھے لگوا کر واپس بھجوایا جاتا رہا۔یوسی 69اور 71میں ووٹ کاسٹ کرنے والی بعض خواتین نے باہر آکر الزام عائد کیا کہ پریذائیڈنگ آفیسر حکمران جماعت سے ملے ہوئے ہیں اور ان سے انگوٹھے تو لگوائے جارہے ہیں لیکن اپنی مرضی کے انتخابی نشان پر مہرنہیں لگانے دی جارہی اور صرف انگوٹھے لگواکر ہی یہ کہا جارہا ہے کہ آپ واپس چلی جائیں آپ کا ووٹ کاسٹ ہو گیا ہے۔ فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی، گنگا رام اور بعض دیگر پولنگ بوتھوں پر محمد یعقوب شیخ کی حمایت یافتہ خواتین پولنگ ایجنٹ کو اندر داخل ہونے سے روکا گیا تو ان کے کارکنان کی جانب سے شدید احتجاج اور نعرے بازی کی گئی۔ ملی مسلم لیگ نے الیکشن کمیشن سے حکمران جماعت کی اس دھاندلی کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 120کی مختلف یونین کونسلوں میں مقامی لوگوں کی طرف سے شکایت کی گئی ہے کہ وہ طویل عرصہ سے ان کے رہائشی ہیں اور پچھلے برس انہوںنے اپنا ووٹ بھی کاسٹ کیا لیکن امسال منظم منصوبہ بندی کے تحت ان کا ووٹ این اے 120کے علاوہ دوسری حلقوں میں پھینک دیا گیا ہے۔ اسی طرح یہ شکایات بھی ملی ہیں کہ باہر کے لوگوں کے ووٹ اس حلقہ میں شامل کئے گئے ہیں۔ پٹھان برادری کی طرف سے سب سے زیادہ شکایات کی گئیں کہ ان کے دس ہزار کے قریب ووٹ بلاک کئے گئے جس پر وہ ووٹ کاسٹ کرنے کا فریضہ انجام نہیں دے سکے۔ ملی مسلم لیگ کے کارکنان کا کہنا تھا کہ ان کے حمایت یافتہ لوگوں کے ووٹ بھی دوسرے حلقوں میں منتقل کئے گئے ہیں۔

About Editor

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*